Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»قائد اعظم کی زندگی اور ان کے دیے ہوئے اصول مایوسی میں امید کی روشنی ہیں
    رواں تبصرے

    قائد اعظم کی زندگی اور ان کے دیے ہوئے اصول مایوسی میں امید کی روشنی ہیں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 25, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا 145 واں یومِ پیدائش منایا جارہا ہے۔ قائد اعظم آج کے دن 25 دسمبر 1976ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک پرامن و بے خوف زندگی کے حصول کی خاطر سیاسی و قانونی جدوجہد کی اور انہیں ایک آزاد ملک دلانے میں کامیاب ہوئے، جس کی وجہ سے ساری قوم ان کے یومِ پیدائش پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

    بابائے قوم نے شدید مایوسی اور خدشات سے گھرے وقت میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے امید کی روشنی فروزاں کی اور انتہائی ناروا حالات کا سامنا کرنے کے باوجود باوقار طریقے سے مسلمانوں کو ایک وطن کا تحفہ دیا۔ پاکستان میں قائد کی ذات وہ واحد شخصیت ہے جس پر کسی کو اختلاف نہیں، سب ان کے عزم و جدوجہد کے لیے یکساں احترام رکھتے ہیں۔

    قائداعظم کی تمام عمر کچھ اصولوں کی مجسم تصویر تھی انہوں نے ہمیشہ ان کی پیروی کی، جس کی گواہی سب دیتے ہیں۔ وہ قوم کو اتحاد، ایمان، تنظیم جیسے سبق دے کر گئے۔ وہ اپنی تمام تقاریر میں جمہوریت، بھائی چارے اور سماجی انصاف کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔ ان کا پیغام اور مقاصد بالکل واضح تھے۔ آج بطور قوم ہم ان کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کرتے ہیں اور ان کی زندگی کے اصولوں کو یاد بھی کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں رہنما بناتے ہوئے اپنی زندگیوں کا اور نظام کا حصہ بنائیں۔

    بانی کستان نے کہا تھا ’ناکامی کا لفظ میرے لیے اجنبی ہے‘ مگر اس شخصیت کو رہنما ماننے والی قوم ناکامی کی دلدل میں پھنسی ہے۔ ہمیں اپنے مسائل کا علم بھی ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا حل کیا ہے لیکن وہ عزم نہیں ہے اور جدوجہد کی وہ لگن مفقود ہے جو قائد کی زندگی کا خاصہ تھی اور جو حقیقت میں ہمارے لیے انفرادی واجتماعی سطح پر کامیابی کا سرچشمہ ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمحبت ایک کیمیائی عمل ہے
    Next Article پاکستان میں ’رائے سازی‘ کے عمل کی نوعیت کیا ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by