Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم پر سرِعام پھانسی
    رواں تبصرے

    بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم پر سرِعام پھانسی

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتفروری 7, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج قومی اسمبلی سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو سرِعام پھانسی دینے کی قرارداد کثرتِ رائے کے ساتھ منظور کر لی گئی ہے۔ یہ قرارداد حکمران جماعت کے رکن کی جانب سے پیش کی گئی۔

    پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی شرح میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے پہلے صوبائی و وفاقی سطح پر کئی پالیسیاں اور قوانین متعارف کرائے جا چکے ہیں۔ اس جرم میں موت کی سزا کی سفارشات بھی متعدد بار سینٹ اور قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئیں جنہیں مسترد کیا جاتا رہا۔ تاہم آج کی اسمبلی کاروائی کے دوران اسے منظور کرلیا گیا جس پر پیپلزپارٹی اور چند حکومتی ارکان نے عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ وزارت انسانی حقوق کی چیئرپرسن کا کہنا ہے کہ یہ ایک انفرادی عمل ہے۔

    دنیا کے چند ممالک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے۔ اس سزا کی حمایت کا مقصد ان واقعات میں ملوث افراد کو پیغام دینا ہوتا ہے کہ وہ سماج میں کتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سخت سزا کے ذریعے خوف پیدا کرکے بچوں کو ایسے عناصر کا شکار ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ پچھلے سال بھارت میں بھی اسی طرح کا ایک بِل تیار کیا گیا تھا۔

    پاکستان میں 31 فیصد آبادی 14 سال سے نیچے کی عمر سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہے جن میں ایک بڑی تعداد کو ہراسانی یا زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کئی تجاویز و پالیسیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ لیکن قانون سازوں اور سیاستدانوں کا ایک طبقہ یہ خیال کرتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے قانون کی خلاف ورزی سے قطع نظر اس نوع کے واقعات میں کمی لانے کا وسیلہ پھانسی نہیں ہے۔ بلکہ یہ امکان ہے کہ اس سے زیادہ مسائل پیدا ہوں گے۔ ایران میں اس جرم کی سزا موت ہے لیکن رپورٹس کے مطابق وہاں اس میں کمی واقع نہیں ہوسکی۔ ان ماہرین کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ پھانسی کی سزا کے نفاذ سے زیادتی کے بعد قتل کے واقعات میں اضافہ ہوجائے۔ موت کی سزا سے زیادہ انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور پہلے سے منظور کی گئی پالیسیوں پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ کئی ماہرین ضلعی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام اور ان کی درست فعالیت کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کہ ایسے حقیقی و عملی اقدامات میں سنجیدگی دکھائے بغیر جنسی زیادتی کے جرائم میں کمی کا آنا مشکل ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleخواتین کی طرف سے ہراسانی کا مسئلہ
    Next Article مودی کے بھارت میں گاندھی کا قاتل ہیرو ہے
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by