Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»صدی کی ڈِیل: فلسطین تنازع کا حقیقت پسندانہ دو ریاستی حل؟
    رواں تبصرے

    صدی کی ڈِیل: فلسطین تنازع کا حقیقت پسندانہ دو ریاستی حل؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجنوری 29, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ شب امریکی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم نتنیاہو کی معیت میں فلسطینی تنازع کا مستقل حل پیش کرتے ہوئے منصوبے کے تفصیلی نکات سے آگاہ کیا جس کے تحت فلسطین اور اسرائیل کی حدود کا تعین اور ان کے لیے ضابطہ کار  واضح کیے گئے ہیں۔ منصوبے میں یروشلم کو اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت تجویز کیا گیا ہے۔ اس ڈِیل کو صدی کی سب سے بڑی ڈِیل کہا گیا۔ فلسطینی صدر اور عوام نے امریکی منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔

    اس منصوبے کی حمایت اور اختلاف میں پوری دنیا میں ردعمل سامنے آرہا ہے۔ امریکی صدر نے ڈٍیل کو اس شرق اوسطی تنازع کا آخری قابل عمل حل قرار دیا ہے اور اس پر مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ سعودی عرب، امارات اور اُردن کی سرکاری خبررساں ایجنسیوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے اس سعی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جبکہ کئی ماہرین اس پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس ڈِیل کی تیاری اور اعلان کے وقت کہیں بھی فلسطینی فریق کو شامل نہیں کیا گیا۔ یہ اعلانِ بالفور کی طرح کا منصوبہ ہے جس کا فلسطینی سرزمین سے دُور ایک اور ملک میں اعلان کیا گیا۔

    دیگر مسلم ممالک میں سے مصر نے اس کی حمایت کی ہے، قطر نے کوششوں کو سراہا لیکن اس نے یہ بھی کہا کہ دوریاستی حل 1967ء کی حدود  پر ہوتا تو بہتر تھا۔ ایران، ترکی اور تنظیم حزب اللہ نے منصوبے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں امن مزید خراب ہوگا۔

    یورپی یونین کے ترجمان نے اس مسئلے پر اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک قابلِ عمل دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں، تاہم امریکا نے جو نکات پیش کیے ہیں ہم ان پر غور کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تنازع کے حل میں فریقین کے جائز مطالبات کا احترام کیا جانا چاہیے۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد جرمن وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ بعض نکات پر تحفظات ہیں جن پر یورپی یونین کے ساتھ بات کریں گے۔ جبکہ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم پہلے ہی دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں جس پر تنظیم قائم ہے۔ ان کے مطابق فریقین کو 1967ء کی حدود پر اتفاق کرنا چاہیے۔

    اسرائیلی میڈیا میں بھی بعض آراء اس ڈِیل کے خلاف آئی ہیں۔ ہاآرتز میں صحافی امیر تیبون نے لکھا ہے کہ اس منصوبے میں صرف ایک شِق پر فوری عمل ہوگا کہ متنازعہ بستیاں اسرائیل کے لیے قانونی حیثیت میں چلی جائیں گی۔ منصوبہ لکھا ہی ایسے گیا ہے کہ فلسطینی اسے مسترد کردیں، اس کے بعد اسرائیل مزید اراضی پر بھی قبضہ کرتا جائے گا۔ جبکہ اخبار المانیٹر میں شلومی الدار نے اس ڈِیل کے عمل میں فلسطینیوں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے اسے ان کی توہین سے تعبیر کیا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article’پاکستانی میڈیا دنیا کا سب سے آزاد میڈیا ہے‘ وزیراعظم کا فارن پالیسی کو دیا گیا انٹرویو
    Next Article شاہ راگ: بے حسی کی آماجگاہ ایک پاکستانی قصبہ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by