Author: میڈیا رپورٹ

تقریباًتمام خواتین قانون نافذ ہونے کے بعد آج فرانس میں نقاب اُوڑھتی ہیں ،وہ خواتین جو قانون نافذ ہونے سے پہلے نقاب اُوڑھتی تھیں ،وہ اب گھر وں میں رہتی ہیں اور کبھی باہر نہیں جاتیں ۔ حالیہ ہفتوں میں دہشت گردی کے خطرات میں تیزی سے اضافہ کے ساتھ،معرو ف جرمن سیاست دانوں کی ایک معقول تعداد نے متنازعہ ردِ عمل دیا ہے: مسلم خواتین کے کسی بھی طرح کے مکمل چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد ہو گی۔”مکمل چہرے کے پردے پر پابندی واجب ہے ،جیسا کہ برقعہ اور نقاب،اور یہ دنیا کے لیے ایک اشارہ ہو جائے گا”جینز…

Read More

سیالکوٹ میں چھوٹے بڑے دس ہزار سے زائد کے آلاتِ جراحی تیار کئے جاتے ہیں ۔تقریباً 99 فیصد مال سیالکوٹ شہر میں ہی بنتا ہے ۔اس شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 3000سے زائد ہے. پاکستان آلات ِ جراحی کا سرکردہ بر آمد کنندگان میں سے ہے لیکن پھر بھی مقامی مینوفیکچرز کے حصے میں اس کی عالمی تجارت جو کہ17 ارب ڈالر کی ہے اس کا صرف دو فیصد یعنی 359ملین ڈالر ہی آتا ہے کیونکہ  اصل پیسہ آڑھتی لے جاتا ہے ۔اب اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کے ذمہ دار اس صنعت سے وابستہ وہ…

Read More

خالد احمد کی کتاب Sleepwalking to Surrenderسے اقتباس ”پاکستان میں چند ایسے اشتعال پھیلانے والے مذہبی رہنما موجود ہیں جن کے خلاف حکومت کوئی قانونی کارروائی کرسکتی ہے یا کرے گی۔انہیں پراکسی جنگوں کے نام پر مضبوط ہونے کا موقع فراہم کیا گیا اور اب وہ ریاست کے تشدد پر اجارہ داری کے اختیار میں بھی شریک ہیں ۔کچھ دیگر مذہبی رہنما بھی ہیں جن کو کچھ نہیں کہا جاسکتا ،کیونکہ انہیں دیگر پراکسی جنگوں کی حمایت حاصل ہے اور اگر ریاست ان سے لاتعلقی اختیار کرتی ہے تو اس سے اسٹیبلشمنٹ کے اندر دراڑیں پیدا ہونے کا احتمال ہو…

Read More

ایک دہائی قبل پانچ سے چھ ہزار تک ناول ہر سال مقامی سطح ُپرشائع ہوتے تھے۔یہ ان کے لیے اچھا وقت تھا،اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ چند سالوں کے دوران سالانہ نئے ناولوںکی اشاعت چار ہزار سے پانچ ہزار تک رہ گئی ہے. یہ گرمیوں اور عظیم ناول کے صفحات کے ذریعے جادوئی سفر سے لطف اندوز ہونے کا وقت ہے ۔مصیبت یہ ہے، یہاں تک کہ پبلشرز ،ادبی ثقافت کے محافظ اور ذوق کے حامل اتنی قلیل مقدار میں جیسا کہ سانپ کے دانت ،عظیم ناولوں کے متعلق کھوج لگارہے ہیں ۔اس مشکل وقت میں ناول بے وقار ہوا ہے،جبکہ…

Read More

سعودی عرب کے لکھاری محمد علی المحمود کے مطابق ’’یہ سب منشیات کے عادی یا نوجوانوں کی جہالت کی طرف سے آیا ہے اوریہ غیر معمولی نہیں ہے ‘‘’’چونکادینے والا امریہ ہے کہ یہ اسلام کے نام پر عمل کرنے والے مذہبی بچوں کے جوڑے کی طرف سے آیا ہے ‘‘ داعش تکفیری تصورات کو قبول کرتی ہے،وہ اکثر ابن تیمیہ کے حوالے دے کر اپنے پیروکاروں کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو بشمول اپنے رشتہ داروں کے جو مرتدین دکھائی دیتے ہیں ،قتل کریں سعودی عرب میں انتہا پسند عقائد کے زیرِ اثرجڑواں بھائیوں نے مبینہ…

Read More