پاکستانی عہدیداروں اور پالیسی سازوں کے یہ خدشات اپنی جگہ کے داعش اور دیگر شدت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے نظریات کی جانب راغب کرنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہیں اور اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی نصف آبادی 25 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو کہ ملک کا یقیناً ایک اثاثہ تو ہے لیکن اگر یہ نوجوان راہ راست سے ہٹ گئے تو شاید ملک کے لیے یہ سب سے بڑا چیلنج ہو سکتے ہیں۔ نوجوان نسل کی تعلیم اور اُن کو مناسب…
Author: محمد اشتیاق
دونوں ملکوں کا موقف اپنی اپنی جگہ، لیکن اس کا اثر قبائلی خاندانوں پر کبھی نظر نہیں آیا اور وہ اُسی طرح رشتوں میں بندھے رہے، جیسے سرحدی حدود کے تعین سے پہلے اُن کا تعلق تھا۔ ایک سوال مجھے مسلسل الجھلائے ہوئے ہے، کہ کیا محض گھروں اور سرحدوں کی تقسیم تحفظ، دوستی یا اعتماد کی ضمانت بن سکتی ہے۔۔۔۔ اس کا جواب مشکل نہیں لیکن اس کا انحصار سوچ اور مختلف نکتہ نظر رکھنے والوں پر منحصر ہے۔ یہ سوال بہت سے ذہنوں اٹھا ضرور ہو گا، خاص طور پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ جمعہ کو چمن…
ایران کے انٹیلی جنس اور سیکورٹی عہدیداروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ جند اللہ کے پاکستان میں موجود سنی شدت پسند تنظیم ‘لشکر جھنگوی’ سے بھی روابط ہیں۔ پاکستان کی زمینی سرحدیں اپنے چار پڑوسی ممالک افغانستان، بھارت، ایران اور چین سے ملتی ہیں۔ایک ایسے وقت جب پاکستان کے افغانستان اور بھارت سے تعلقات کشیدہ ہیں، اسلام آباد کی یہ کوشش رہی ہے کہ تہران سے اُس کے روابط میں گرمجوشی رہے۔لیکن دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کے منفی اثرات پاکستان اور ایران کے تعلقات پر بھی منڈلاتے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان اور…
شاید اس حقیقت کو تسلیم کر ہی لینا چاہیئے کہ اب ہمارا معاشرہ اس نہج پر چل نکلا ہے جہاں ہر اُس چیز پر بہت شور ہوتا ہے جو منظر پر ہو، لیکن منظر بدلتے یہاں دیر نہیں لگتی۔ ایک خبر جس کا کئی دن تک مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے علاوہ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر بہت چرچا رہا ہو، گلی محلے، دکان میں بیٹھا ہر کوئی اس پر کچھ نا کچھ کہہ رہا ہو اور سوشل میڈیا صارفین اپنے اپنے انداز میں اُس پر تبصرے کر رہے ہیں۔ اور پھر اچانک وہ خبر ’قدرے بڑی‘ خبر…
ایک ایسا معاشرہ جہاں انصاف ملنے میں دیر لگے یا اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔۔۔ وہاں کچھ احتیاطی تدابیر ضروری ہیں، تاکہ نا کردہ غلطیوں کی سزاؤں سے بچا جا سکے۔ پاکستان کے شمالی مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں تشدد کے ایک ’بے رحمانہ‘ واقعہ نے جہاں ایک طرف ملک کو جھنجوڑ کر رکھا دیا، وہیں کہیں دبے اور کہیں کھلے عام یہ بھی کہا جانے لگا کہ اس مرتبہ کسی اور نہیں بلکہ جدید و اعلیٰ تعلیم کے ادارے میں پڑھنے والوں نے خود ہی قانون کو ہاتھ میں لے کر محض الزام کی بنیاد…
