Author: احمد اعجاز

ابہامات ،تنازعات،تعصبات ،تشدد،برداشت ،غصے اور خوف کی سماجی تشریح کیا ہے؟ پاکستانی سماج پر دانشور ارشد محمود کے ساتھ منفرد مکالمہ تجزیات: سماجی ہم آہنگی کیونکر ممکن ہے؟ اسے ممکن بنانے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟ نیز سماجی ہم آہنگی کا تصور مفید تصور ہے؟ ارشد محمود: میراخیال ہے، ہمیں پہلے سماجی ہم آہنگی کے مطلب کو سمجھنا ہوگا۔کسی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمیں اس کے الٹ کو پہلے دیکھیں، تو اس حقیقت کے معنی زیادہ واضح ہوجاتے ہیں۔ یعنی سماجی ہم آہنگی کے الٹ کیا ہے۔ انتشار، بے ربطی، تصادم، بدامنی، اب ہمیں زیادہ آسانی سے ہم…

Read More

سپریم کورٹ  نے میاں نواز شریف کو نااہل قراردیالیکن میاں نواز شریف نے بطو ر ایک سیاست دان خود کوناکام ثابت کیا ہے۔پانامہ اسکینڈل کے نتیجے میں جب میاں نواز شریف اپنی سیاست کی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں ،تویہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی مخالفین کی عمدہ سیاسی حکمتِ عملی کے نتیجے سے زیادہ ،اُن کی اپنی ناکام سیاسی حکمتِ عملی ہے۔پانامہ فیصلے کا نتیجہ اگر اُلٹ بھی آتا پھر بھی میاں نواز شریف اپنے آپ کو ایک ناکام سیاست دان کے طور پر قوم کے سامنے پیش کر چکے تھے۔ میاں نوازشریف نے تیسری مدت کے دوران اپنی تقریر اور…

Read More

چوہدری نثار علی خان،اُس وقت تک وفاقی وزیرِ داخلہ رہے ,جب تک میاں نواز شریف ملک کے وزیرِ اعظم رہے ۔دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو چوہدری نثار علی خان ،وزارتِ داخلہ کے منصب پرفائز ہوئے۔مئی دوہزارتیرہ سے جولائی دوہزار سترہ تک وزیرِ داخلہ رہنے والے چوہدری نثار علی خان کا کردار اُلجھے ہوئے ، متذبذب اور اَناپرست سیاسی حکمران کا رہا۔ چوہدری نثار علی خان کابطور وزیرِ داخلہ اور سیاسی رہنما کے نمایاں طورپر تین طرح کا انداز اس عرصہ میں سامنے آیا۔اولاًملک میں ہونے والی دہشت گردی کے تناظر میں ،دوسراپاکستان…

Read More

مَیں نے بارہ اگست کی شام تک فون کال آنے سے پہلے آزادی کے لمحوں کو جس انداز سے منانے کا پروگرام ترتیب دیا تھا ،اُس پر عمل ضرور کیا۔مگر سارے عمل میں وہ سرمئی شام چھائی رہی۔ مَیں بارہ اگست کی شام تک معقول حد تک خوش تھا۔بارہ اگست کی شام تک سب کچھ ٹھیک تھا۔پھر ایک فون کال آئی اور آزادی کے لمحوں میں دل بجھ سا گیا۔ مَیں نے بارہ اگست کی شام تک فون کال آنے سے پہلے آزادی کے لمحوں کو جس انداز سے منانے کا پروگرام ترتیب دیا تھا ،اُس پر عمل ضرور کیا۔مگر…

Read More

یقین جانیے جب خیالات کو پنجروں میں مقید کر لیا جائے اور مطالعہ کے تازہ در نہ کھولے جائیں تو زندگی بخش سوچیں پروان چڑھنے سے معذور ہو جاتی ہیں اور جب کتابوں کوبصیرت اور آگاہی سے تہی کر لیا جائے تو لفظ فرسودہ ہو کر بُو دینے لگتے ہیں مَیں یہ خود سے کئی بار کئی مواقعوںپر سوال کر چکا ہوں کہ کیا ہمارا معاشرہ کتاب دوست معاشرہ ہے؟ ہر بار میرا خود کو دیا جانے والا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ ہم کتاب دشمن لوگ ہیں….کہنے والے کہیں گے کہ ہمارے ہاں بے شمار مصنفین ہیں ،…

Read More

معروف شاعر اورمدیرسلیم گورمانی سے دلچسپ مکالمہ 28جنوری1969ء کو جنوبی پنجاب کے ضلع لیّہ میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ پوسٹ گرایجوایٹ کالج لیّہ سے گرایجوایشن کرنے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم۔ اے اْردو اقبالیات کی ڈگری حاصل کی۔ کالج کے زمانہ ہی سے علمی وادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ لیّہ کی معروف ادبی شخصیات ڈاکٹر خیال امروہی، نسیم لیّہ، غافل کرنالی اور جعفر بلوچ کی صحبتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ کالج کے زمانہ ہی سے اْردو، پنجابی اور سرائیکی مشاعروں میں شرکت کے واقع ملتے رہے، کالج میگزین میں کلام شائع ہوتا رہا اور…

Read More

ایک عام آدمی جس کا باپ بھی غربت کا ڈھول بجاتے ہوئے ،قبر اُوڑھ چکا تھا ،سیاست اور مذہب کا مقدمہ لڑرہا تھا۔عام آدمی کو اپنا اسیر بنانے میں سیاست دانوں اور مذہب کو سیاسی مقاصد کے طور پر استعمال کرنے والوں کے لیے مبارک باد توبنتی ہے۔ کچھ مدت اُدھر ،ایک ڈھول بجانے والے سے ملاقات ہوئی۔وہ سرگودھا کے کسی گاؤں کارہنے والا تھا۔مگر ڈھول بجانے کے لیے راولپنڈی میں اپنے سات افراد کے گروپ کے ساتھ ایک کمرے میں رہائش پذیر تھا۔کمرہ بظاہر کافی کشادہ تھا مگر سات لوگ رات کو سونے کے لیے آتے تو وہ بھر…

Read More

میڈیا کو تمہاری ضرورت تھی۔تم یہ ضرورت اُس وقت پوری کرتی ،جب میڈیا کے پاس سنسنی پیدا کرنے والی کوئی خبر نہ ہوتی تھی۔تم میڈیا پر آکر خوب ہلا گلا مچا دیتی ۔تمہارا یہ ہلا گلا میڈیا کی غذا بنتا۔تمہارے عمران خان کے جلسے میں جانے کے لیے سنورنا سجنا ،میڈیا کا سنورنا سجنا بن جاتا قندیل بلوچ تم نے مرنا ہی تھا اور غیرت کے نام پر ہی مرناتھا۔تم فوزیہ سے قندیل بنی اورپھر قندیل بن کر موت کے منہ میں چلی گئی۔تم فوزیہ سے قندیل کیوں اور کیسے بنی؟اس پر ہم کیوں غور کرتے؟ہم یہ جاننے کا کیوں…

Read More

سماجی دانشور ،قائداعظم یونیورسٹی میں سوشیالوجی شعبہ کے سربراہ ،ڈاکٹر محمد زمان سے مکالمہ ڈاکٹر محمد زمان نے 2003میں پنجاب یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر کیا۔جرمنی کی ایک یونیورسٹی سے سماجیات پر دسمبر 2009پی ایچ ڈی کی ڈگر ی لی۔جرمنی میں کچھ عرصہ تدریسی فرائض سرانجام دینے کے بعد ،قائداعظم یونیورسٹی آگئے۔قائداعظم یونیورسٹی میں سوشیالوجی کاکورس شروع ہوا ، ڈاکٹر زمان نے اُس کورس کو 2014ءڈیپارٹمنٹ کی شکل دی۔2014ءسے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں۔ تجزیات :پاکستانی لوگ تعصب کو عزیز کیوں جانتے ہیں ؟یا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی سماج میں تعصب کے لیے بہت گنجائش موجود ہے؟ بنیادی انسانی…

Read More

وفاقی وزیر اور معروف سیاستدان میاں ریاض حسین پیرزادہ سے گفتگو )میاں ریاض حسین پیرزادہ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ وکھیل ہیں،جنوبی پنجاب کے اہم سیاست دانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔اُن کی سیاست کئی دہائیوں کے عمل پر محیط ہے۔جنوبی پنجاب سے تعلق ہونے کی وجہ سے ،وہاں کے مسائل سے باخوبی آگاہ ہیں اور اپنے تئیں وہاں کی محرومیوں کو ختم کرنے کی مساعی بھی کرتے رہتے ہیں۔تجزیات کے قارئین کے لیے اُن سے جنوبی پنجاب کی سیاست اور معاشرتی مسائل پر بات چیت کی گئی۔( تجزیات:جنوبی پنجاب کی سیاست ،پنجاب اور ملکی سیاست میں کیا حیثیت…

Read More