اقبال کا ایک سہانا خواب سلطانیء جمہور سے عبارت ہے۔ اُنھوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ ہمیں خدا کا یہ فرمان سُنایا تھا: سلطانیء جمہور کا آتا ہے زمانہ جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو گویا سلطانیء جمہور کی آمد اس بات سے مشروط تھی کہ ہم نقوشِ کہن کو کب اور کیسے مٹاتے ہیں؟ درج بالا شعر ”فرمانِ خدا“ کے عنوان سے اقبال کی نظم کا آخری شعر ہے- باقی ماندہ اشعار میں جہاں پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے نکال باہر کر کے خالق و مخلوق کے درمیان حائل تمام پردے اُٹھا دینے کا حکم…
Author: پروفیسرفتح محمد ملک
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب فیلڈ مارشل ایوب خان کے مسلط کردہ بنیادی جمہوریت کے غیر جمہوری نظام کے تحت صدارتی انتخابات کی مہم زوروں پر تھی- اِس الیکشن مہم کے دوران جب میانوالی میں جلسہ عام سے خطاب کرنے کی خاطر مادرِ ملت کے تلہ گنگ سے گزرنے کی خبر عام ہوئی تو لوگوں میں جوش و خروش لہر در لہر اُمنڈنے لگا- بار بار کے اس اعلان کے باوجود کہ مادرِ ملت میانوالی جاتے ہوئے تلہ گنگ سے گزریں گی مگر یہاں نہ تو وہ رکیں گی اور نہ کوئی خطاب فرمائیں گی- اس کے باوجود…
پاکستان کے نامور مفکر پروفیسر فتح محمد ملک کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔آپ کم و بیش نصف صدی سے تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں ۔قائد اعظم یونیورسٹی ،کولمبیا یونیورسٹی نیویارک،یونیورسٹی آف ہائیڈل برگ اور ہمبولٹ یونیورسٹی برلن جرمنی اور سینٹ پیٹرز برگ یونیورسٹی روس سے وابستہ رہ چکے ہیں ۔آپ مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین اوربین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر بھی رہے ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔آپ کی خدمات پر حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز سے بھی نوازا ہے ۔(مدیر) جس معاشرے میں کوٹ رادھا کرشن کے عیسائی جوڑے کو زندہ جلادینے کے سے واقعات…
کلکتہ میں ۱۹۴۸ کی کانفرنس میں پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جو سراسر غلط اقدام تھا۔ پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کا فیصلہ پاکستان کے بعد پاکستان کے کسی شہر میں یہاں کے پارٹی ممبروں کی کانفرنس میں ہونا چاہیے تھا۔ سید مظہر جمیل اور مسلم شمیم دو ایسے نئے سندھی ہیں جنہوں نے پرانے سندھیوں سے کہیں بڑھ کر سندھ کی تہذیبی اور سیاسی شخصیت کو سنوارنے اور نکھارنے کا فر یضہ عاشقانہ جذب و جنوں کے ساتھ ادا کیا ہے۔ سید مظہر جمیل کی آشوبِ سندھ کی تفہیم و تفسیر اپنی مثال…
قطر کی حکومت اور قطر کے عوام چونکہ فلسطینیوں کی تحریکِ آزادی کے حامی ہیں اس لیے انھیں خلیج کے ان پانچ ممالک سے دیس نکالا دے دیا گیا ہے۔ ایران کا قصور بھی یہی ہے۔ جاننا چاہیے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی اور سعودی شاہ سلمان کی قیادت میں متحرک سُنّی ممالک کا اتحاد سراسر ایک سیاسی اتحاد ہے، دینی اشتراک ہر گز نہیں۔ یہ خاندانی بادشاہت اور سلطانئ جمہور کے مابین روز افزوں کشمکش کا شاخسانہ ہے۔ ایک زمانہ تھا جب شہنشاہِ ایران خطے میں امریکی مفادات کی نگرانی پر مامور تھا۔ سی آئی اے نے…
ہم ایک دوسرے کی اٹوٹ رفاقت پر ہمیشہ نازاں رہے مگر وفات سے فقط چند ماہ پہلے فیض احمد فیض پر میرے ایک مضمون نے اُنہیں وقتی طور پر رنجش میں مبتلا کر دیا تھا۔ ہم ایک دوسرے کی اٹوٹ رفاقت پر ہمیشہ نازاں رہے مگر وفات سے فقط چند ماہ پہلے فیض احمد فیض پر میرے ایک مضمون نے اُنہیں وقتی طور پر رنجش میں مبتلا کر دیا تھا۔میں منصورہ احمد کا احسان مند ہوں کہ انھوں نے میری موجودگی میں اِس مضمون میں پیش کردہ نکات پر اپنے مخصوص انداز میں نکتہ چینی شروع کر دی ھی اور…
احمد ندیم قاسمی سے میری پہلی ملاقات سے ہمارے درمیان ایک ایسی رفاقت کا آغاز ہوا جو زندگی بھر قائم رہی اور اب جب احمد ندیم قاسمی کا جسمانی وجود آنکھوں سے اوجھل ہو چکا ہے یہ رفاقت بہ اندازِ دگر جاری ہے۔ بی اے کا امتحان دینے کے بعد میں نے اپنے گاﺅں بیٹھ کر نتیجے کا انتظار کرنے کی بجائے روز نامہ ”تعمیر“ میں ملازمت اختیار کر لی۔ اخبار کے ایڈیٹر جناب محمد فاضل نے ایک زمانے میں مولانا عبدالمجید سالک کے ہاں احمد ندیم قاسمی کو دیکھا تھا اور پھر وہ دونوں دوستی کے رشتے میں منسلک…
ماں کی گود ندیم کی وہ پہلی درسگاہ تھی جہاں اُن کے غیر ت و حمیّت ، نیکی اور پاکیزگی ، مادی غربت کے عالم میں روحانی ثروت مندی کے سے انسانی جوہروں نے جِلا پائی۔ احمد ندیم قاسمی سے پہلی ملاقات میری زندگی کی خوشگوار ترین حیرت کا سبب بنی۔ یہ آج سے لگ بھگ پچاس برس پیشتر کی بات ہے جب راولپنڈی کے ایک مزدور لیڈر بشیر جاوید صاحب میرے ہاں اپنی شادی کی مختلف تقریبات میں شمولیت کے دعوت ناموں کے ساتھ تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے تعارف میں احمد ندیم قاسمی کے ساتھ راولپنڈی جیل میں…
ضیاءالحق اقبال کے تصور کے برعکس اسلام پر عرب ملوکیت کی چھاپ کو اور گہرا اور مزید نمایاں کرنے کا اہتمام کرنے میں منہمک رہے۔ اِس نئے سیاسی بیانیہ کی رُو سے اس طرح کا سوال اُٹھانا سرے سے ممکن ہی نہ رہا- اِس کے برعکس دُنیا میں سرمایہ پرستی کے سفینے کی حفاظت ہماری منزلِ مقصود قرار پائی- ایوانِ اقتدار کے اندر اور باہر بیٹھے ہوئے سرمایہ پرستوں نے اِس نئی آئیڈیالوجی کو اِس ذوق و شوق کے ساتھ اپنایا کہ منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کو یہ صدائے احتجاج بلند کرنا پڑی کہ پاکستان…
لیاقت علی خاں نے دورہ امریکہ کے دوران اِس حقیقت کو بہ اعادہ و تکرار بیان کیا کہ دنیا اِس وقت دو کیمپوں میں بٹی ہوئی ہے، سرمایہ پرست کیمپ اور اشتراکی کیمپ، پاکستان اِن دو میں سے کسی ایک بھی کیمپ کا مقلّد نہیں ۔ حیدر آباد دکن میں جب عثمانیہ یونیورسٹی قائم ہوئی تو علامہ اقبال نے اپنی بجائے خلیفہ عبدالحکیم کو شعبہئ فلسفہ کا صدر بنانے کی تجویز پیش کرتے وقت لکھا تھا کہ :”خلیفہ عبدالحکیم بھی اقبال ہی ہیں “ خلیفہ عبدالحکیم سے اقبال کی یہ توقعات بیش از بیش پوری ہوئیں- انھوں نے نئے حالات…
