Author: پروفیسرفتح محمد ملک

بھارت اور پاکستان کے اُردو ادیب واقعتاً اس خوف میں مبتلا ہیں۔اُن کا یہ عارضہ اُتنا ہی پرانا ہے جتنا کشمیر کا تنازعہ۔کشمیریوں کے انسانی مصائب سے ان کی غفلت اور ان کا فرار پرانا ہے۔ صاحب طرز انشاءپرداز اشفاق احمد کے ایک افسانے کی مرکزی کردار مظلوم کشمیری لڑکی شازیہ اُردو کے نامور ادیبوں اور شاعروں کے پاس یکے بعد دیگرے جاتی ہے اور ان میں سے ہر ایک کی خدمت میں کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ پیش کرتی ہے مگر سارے کے سارے ادیب کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج…

Read More

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مفکر پاکستان اور بابائے قوم کی تفہیم القرآن پر عمل کرنا چاہیے یا ان لوگوں کے فرمودات کو مشعل راہ بنانا چاہیے، جنہیں تحریک پاکستان کے زمانے میں پاکستان کا مطلب ہی سمجھ میں نہ آتا تھا۔ جواب بہت سادہ اور آسان ہے ۔ پاکستان کی روحانی نظریاتی بنیاد کو مٹا کر ایک نئی سیکولر بنیاد کی تعمیر میں کوشاں قوتوں کے مقدر میں بھی ویسی ہی ناکامی لکھی ہے، جیسی ناکامی سے قیامِ پاکستان کی مخالف قوتیں آج سے پہلے دو چار ہو چکی ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس وقت ہماری…

Read More