چین کا روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ ایک نئی خارجہ پالیسی ہے جسے چین دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی نئی چینی قیادت کی کوششوں کا نتیجہ ہے، حالانکہ ڈنگ شیاؤپنگ کی اوپن ڈور معاشی پالیسی اس وقت بھی نافذ ہے۔ بی آر آئی گرینڈ پراجیکٹ کا بنیادی فوکس ممالک کے مابین تجارت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون میں مدد کرنا ہے جس سے چین کی معیشت اور سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔روڈ اینڈ بیلٹ پروگرام کے تحت متعدد مختلف قسم کے منصوبے بیک وقت…
Author: عاصم اعجاز
کچھ دن سے پاکستانی میڈیا میں میں فلم لیجنڈ آف مولا جٹ کو لے کر ایک بھرپور اشتہار بازی نظر آ رہی ہے ۔ بڑے بڑے ناقدین کے تبصرے۔۔ فلم کی تعریفیں۔۔ان سب چیزوں نے مجبور کیا کہ اس فلم کو دیکھا جائے ۔ کیوں کہ یہ فقیر پنجابی ہے،او رلاہوریا ہے۔ فلموں خصوصا پنجابی فلموں کا شوقین ہے۔ تویہ سمجھ لیں کہ یہ ایک عام لوئر سٹال میں بیٹھنے والے کی ایک معمولی سی رائےہے جس سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں ۔ سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی فلم مولا جٹ پنجابی فلم انڈسٹری کی ایک بہت بڑی…
ان دنوں ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر حکومت پاکستان کافی دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں تو نہیں چلا جائے گا؟ اس بات کا فیصلہ رواں ہفتے پیرس میں ہونے والے ایف ٹی ایف کے اجلاس میں ہوگا۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے سے قبل یہاں کے مالیاتی نظام کا گہرائی سے جائزہ لیا تھا۔ پاکستان کے 2 بینکوں حبیب بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے اپنے نیویارک میں آپریشنز انہی الزامات کی بنیاد پر بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جبکہ اسٹیٹ بینک نے اینٹی…
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ترجمہ:”اور جو ایمان لائے اللہ کے لئے ان کی محبت بہت شدید ہے”( بقرۃ) انسان کو بہت سے رشتوں اور اشیاء سے محبت ہوتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ سے محبت، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت، ماں ، باپ، بیوی، بچے، بہن بھائی، رشتہ دار، دوست، گھر، زمین جائیداد، شہر، قبیلہ، برادری، خاندان، ملک اور کاروبار وغیرہ سے محبت۔ جس محبت میں شدت اور جنون پیدا ہو جائے اور وہ باقی تمام محبتوں پر غالب آجائے اسے عشق کہتے ہیں۔ عشق باقی تمام محبتوں کو جلا کر راکھ کر دیتا…
کچھ عرصہ پہلے تک وفاقی بجٹ سال میں ایک بار پیش ہوتا تھا۔ لیکن اب تو یہ حالت ہے کہ جب چاہے حکومتیں بجلی و گیس کی قیمت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر مہینے بڑھتی ہیں۔ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ اب محض ایک رسمی کاروائی ہے۔ اس میں کوشش کی جاتی ہے کہ مختلف ثانوی نوعیت کے اعداد و شمار کو موضوع بنا کے اصل میکرو اکنامک معاملات کو چھپا کر رکھا جائے۔ پاکستان کی دو تہائی سے زیادہ معیشت ویسے ہی غیر دستاویزی ہے ایسی معیشت کا بجٹ کتنی درستی سے تیار کیا جا…
قارئین محترم، ہماری اور آپ کی زندگی ایک دائرے کا سفر ہے۔ ہر حکومت ہم سے ایک نئی صبح کا وعدہ کرتی ہے اور جب ہم آگے بڑھتے ہیں تو ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ موجودہ حکومت نے بھی اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کے لئے ” کالا دھن کو سفید کرنے” کے لئے اعلان کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اوپن پلاٹ، زمین، سُپر سٹرکچر اور اپارٹمنٹ ظاہر کرنے کے لیے ڈیڑھ فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ اسکیم کے تحت 4 فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر بے نامی گاڑیاں بھی ظاہر کی جا سکیں گی۔ پاکستانی کرنسی میں…
پاکستان میں آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے کافی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ پاکستان کے لئے تباہ کن ہے۔ اور اس ضمن میں وہ مصر کی مثال دیتے ہیں۔ مصر میں اس پروگرام کے ثمرات یہ نکلے کہ غربت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ کرنسی کی قدر کم ہونے سے وہاں مہنگائی بہت تیزی سے بڑھی۔ ان کے مطابق پاکستان میں بھی یہی ہو گا، ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہو گی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں…
یوں محسوس ہوتا ہے کہ قرضوں کا عفریت پاکستانی معیشت کو نگل گیا ہے اور اب صرف ٹامک ٹوئیوں کے ذریعے ملکی معیشت کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس معاشی بدحالی کی ذمہ دار صرف موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی ہی نہیں بلکہ اس کی ذمہ دار ماضی کی تمام حکومتیں رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کے قرضوں کا حجم تقریبا تیس کھرب روپے ہے اور اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت پچھلے نو دس مہینے میں ہر…
لاہور تاریخی اہمیت کا شہر ہے جو اپنی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے علاوہ تفریحی اعتبار سے بھی ہردل عزیز شہر رہا ہے۔ جو لوگ لاہور میں رہے ہیں خصوصاً اندرون شہر میں، انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ یہاں پر ہر موسم کے اپنے کھیل تھے ۔ اگر بسنت کا موسم ہوتا تو سبھی لوگ گھروں کی چھتوں پر ہوتے۔ کرکٹ کھیلنے کے لیے کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان کا دورہ کرتی تو پورے لاہور کی گلیوں اور سڑکوں پر کرکٹ کھیلی جاتی اور جب تک ہاکی مرحوم نہیں ہوئی تھی تو گھر…
جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ کچھ برسوں سے لاہور کی سردیاں سکڑ گئی ہیں۔ چند برس پہلے تک ایسے ہوتا تھاکہ ستمبر کے آخر میں موسم بدلنے لگتا تھا۔ اکتوبر میں دوپہر گرم اور رات ٹھنڈی ہونے لگتی تھی۔ نومبر میں سردی کی باقاعدہ آمد ہوتی اور دسمبر ،جنوری میں اتنی سردی ہوتی کہ دانت سے دانت بجنے لگتے۔جنوری کے آخر میں سردی کی شدت کم ہونے لگتی اور فروری کے موسم میں لاہور میں منائی گئی بسنت باقاعدہ اس بات کا اعلان کرتی کہ اب سردی رخصت ہوئی اور بہار کی آمد آمد ہے۔پچھلے چار ،پانچ سال سے…
