Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»فیچرز»افضل احسن رندھاوا: پنجابی ادب کی عظیم روایت کے امین
    فیچرز

    افضل احسن رندھاوا: پنجابی ادب کی عظیم روایت کے امین

    محمد عاصم بٹBy محمد عاصم بٹنومبر 29, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پنجابی زبان و ادب میں افضل احسن رندھاوا کی حیثیت وہی ہے جو ہسپانوی زبان میں لورکا اور عربی زبان میں فلسطینی شاعر محمود درویش کی، یا اردو میں فیض کی۔ تینوں کے ہاں انقلاب، احتجاج اور محبت کے مضبوط عناصر کا اشتراک پایا جاتا ہے۔ یہ عناصر اتنے گہرے ہیں کہ افضل احسن رندھاوا کی شاعری ہی نہیں، ان کی نثر بھی اس رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ یوں آپ نہ صرف پاکستانی ادب میں دور حاضر کے اہم ترین فکشن نگاروں اور شاعروں میں شامل ہیں بلکہ پنجابی ادب کی تاریخ میں سب سے اہم فکشن نگار اور شاعر بھی مانے جاتے ہیں۔
    آپ کے ہاں مقامیت کا عنصر بھی غالب حیثیت میں موجود ہے۔ پنجاب کی رہتل جو آپ کا خاص موضوع ہے اور آپ کی شعری و نثری تخلیقات میں پس منظر کے طورپر کام کرتی ہے، آپ کے ہاں نئی توانائیوں اور رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کی ثقافت کو جیسی قوت اور تفصیل کے ساتھ افضل احسن رندھاوا نے اپنی کہانیوں ، ناولوں اور نظموں میں پیش کیا ہے، اس کی کوئی دوسری مثال پنجابی ادب میں موجود نہیں ہے۔آپ کی تحریریں پاکستانی پنجابی ادب میں لکھنے والوں کے لیے تخلیقی سمت نما کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ نے پاکستانی پنجابی ادبی زبان کا مزاج متعین کیا اور فکشن کی نثر کے خدوخال واضح کیے۔ آپ نے پنجابی ادب میں نثر کو نئے اسالیب سے مالا مال کیا۔ نہ صرف پنجابی زبان کی عالمی سطح پر پہچان بنانے میں آپ نے بنیادی کردار ادا کیا بلکہ پنجابی ثقافت کی بھی تشہیر کی۔ آپ کے مخصوص پرجوش، حسیاتی، رومانوی اور بے تکلف اسلوب نثر نے پنجابی ادب میں خاص رنگ پیدا کیا۔آپ کی کہانیوں اور ناولوں کی پہچان جہاں ایک طرف پنجاب کی ثقافت کے نمائندہ کرداروں سے بنتی ہے تو وہاں آپ کی مخصوص سوز و گداز میں بھیگی ہوئی نثر بھی آپ کی لکھتوں کو عصر حاضر میں نمایاں اور منفرد کرتی ہے۔
    مٹی اور انسان سے محبت ، انقلاب اور مزاحمت آپ کی تحریروں کے بنیادی موضوعات ہیں۔ آپ کے ناولوں اور کہانیوں میں پنجاب اپنی تاریخ، ثقافت اور مزاج کے ساتھ سانس لیتا دکھائی دیتا ہے۔ آپ نے جہاں ایک طرف پنجاب کے محبت کے رنگوں سے اپنے ادب میں گل کاری کی، وہاں پنجاب کی مزاحمت کی للکار بھی ہمیں آپ کے ادب میں واضح سنائی دیتی ہے۔پنجاب کے مزاج کا غیرت، عزت اور ناموس کی خاطر جان کی بازی لگانے سے دریغ نہ کرنے والا پہلو ہو یا پنجاب کے سورما کا ظلم اور جبر کے خلاف لوہے کی دیوار بننے کا جنون، آپ کے کرداروں میں یہ تمام رنگ موجود ہیں۔ یہ کردار خوبصورت بھی ہیں اور شہ زور بھی جن میں دنیا کے بہاؤ کا رخ موڑ دینے کی ہمت موجود ہے۔
    آپ کی نثر کا مزاج آپ کے ذاتی مزاج سے لگّاؤ کھاتا ہے۔ اپنی ذاتی زندگی میں بھی گرم جوشی، اصول پسندی، انسان دوستی اور جذباتیت کی لہریں آپ کے رویے کا حصہ رہیں۔ مزاحمت اور انحراف بھی آپ کی شخصیت کا حصہ رہے۔ آپ نے عملی طورپر سیاست میں بھرپور حصہ لیا اور قومی اسمبلی کے رکن بھی بنے۔ آپ پاکستان کے اولین آئین کی تیاری میں بھی شامل رہے اور اس پر دستخط کرنے والوں کی ٹیم کا حصہ بنے۔ آپ نے جمہوریت کے خلاف ہر قوت کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اس جدوجہد میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ آپ پنجابی زبان اور ثقافت کے علم بردار اور محافظ کے طورپر فعال رہے۔
    افضل احسن رندھاوا نے ایک بھرپور ادبی اور عملی زندگی گزاری۔ آپ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔تاہم ادب ہمیشہ آپ کی اولین ترجیح رہا۔عمر کے آخری دنوں میں بھی آپ مشق سخن سے وابستہ رہے اور اعلی درجہ کی شاعری کی۔ آپ نے خود کو کبھی ایک صنف ادب تک محدود نہیں رکھا۔ ناول افسانہ ، شاعری اور ڈرامہ،ان سبھی شعبوں میں آپ نے اپنی تحریروں سے ان مٹ نقوش چھوڑے۔آپ کی نظموں اور غزلوں پر مشتمل پانچ مجموعے شیشہ اک لشکارے دا، رات دے چار سفر، مٹی دی مہک، پیالی وچ آسمان، چھیواں دریا کے عنوانات کے ساتھ آپ کی زندگی میں شائع ہوئے۔
    آپ نے تراجم بھی کیے۔ گبرئیل گارسیا مارکیزاور چینوا اجیبے جیسے عالمی شہرت یافتہ اور یکتائے روزگار ادیبوں کی تحریروں کو پنجابی کے قالب میں ڈھالا اور کئی دوسری غیر ملکی زبانوں سے ناول، ڈرامے اور شاعری پنجابی زبان میں ترجمہ کیے۔آپ کی اب تک دو درجن کے قریب کتابیں شائع ہوچکی ہیں، جن میں افسانوں کے مجموعے، شعری مجموعے، ڈرامے، بین الاقوامی ادب کے تراجم اور تنقیدی و سیاسی مضامین کے علاوہ چار ناول دیوا تے دریا، دو آبہ، سورج گرہن اور پندھ بھی شامل ہیں۔ آپ کی ادبی عظمت کا اعتراف اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی انڈیا، امریکہ برطانیہ اور کینیڈاجیسے ملکوں میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی طرف سے انعامات اور اعزازات کی صورت میں کیا گیا۔ آپ کی تقریباً تمام تحریروں کے غیر ملکی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔
    آپ کے لفظ میں تاثیر اور قوت ہے اور یہ پڑھنے والے کے دل کو اپنا اسیر بنالیتی ہے۔ اس کی توجہ کو خود سے باندھ لیتی ہے اور اسے گہرائی میں جا کر تبدیل کردیتی ہے۔ افضل احسن رندھاوا نے جو کچھ لکھا، وہ آپ پر بیتاتھا اور وہ آپ کا سچ تھا۔ آپ نے ایک انقلابی اور عاشق ہی کی زندگی گزاری۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمڈل کلاس اور اشرافیہ کے باہمی تعلق کی بنیاد
    Next Article سیاسی خلفشار کا خمیازہ
    محمد عاصم بٹ

    Related Posts

    گوادر میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، شہریوں کا دھرنا

    اکتوبر 14, 2025

    اردو فکشن کی تنقید کی زبوں حالی

    اکتوبر 11, 2024

    گلگت بلتستان کے مذہبی اور سماجی مشترکات

    اگست 29, 2023

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by