Author: Asad Baloch

بلوچستان میں حالات کی خرابی یا کسی ناخوشگوار واقعے کا رونما ہونا بظاہر ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ متحارب گروہوں کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہونا اور دونوں اطراف بیانیے کی جنگ بھی اب غیر معمولی نہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ بلوچستان کو حالات کی اس بدترین نہج تک پہنچانے میں کس کا حصہ کتنا ہے؟ اور وہ عناصر یا قوتیں جو حالات کی مسلسل خرابی کے باوجود غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، ان کے اس طرزِ عمل کی وجوہات کیا ہیں؟ سیاسی حالات کو جس خطرناک رخ پر موڑا گیا ہے، اس پر قابو پانے…

Read More

اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی بلوچستان میں پانچویں مسلح شورش نے آہستہ سے سر اٹھانا شروع کیا جس میں تمام اندازوں کے برعکس کمی آنے کے بجائے بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب اکبر خان بگٹی حیات تھے اور ان کا ریاست کے ساتھ جنگی رویہ عروج پر تھا تو ایک فوجی جنرل نے طاقت کے نشے میں مکا لہرا کر کہا تھا کہ “بلوچوں کو وہاں سے ہٹ کریں گے جہاں کا انہوں نے سوچا نہیں ہے۔” شاید اکبر خان نے اس کا کوئی جواب بھی دیا ہوگا، لیکن بلوچ تحریک سے وابستہ ایک اور…

Read More

بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری شورش کم ہونے کے بجائے مسلسل شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی بحران ہے جس کے اثرات اب ریاستی بیانیے، داخلی استحکام اور بین الاقوامی مفادات تک پھیل چکے ہیں۔ خاص طور پر حالیہ برسوں میں خواتین کی براہِ راست مسلح جدوجہد میں شمولیت نے اس شورش کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جسے ریاستی طاقت کے مراکز نے یا تو کم اہم سمجھا یا مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ طاقت کا فریب…

Read More