Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»اسلاموفوبیا کو قانونی جرم شمار کیا جائے
    رواں تبصرے

    اسلاموفوبیا کو قانونی جرم شمار کیا جائے

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتنومبر 23, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دو روز قبل ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں سٹاپ اسلامائزیشن تنظیم کی طرف سے منعقدہ ایک ریلی کے بعد اس کے رہنما نے قرآن مجید کے نسخے کو جلانے کی کوشش کی جسے ایک مسلم نوجوان نے ناکام بنایا۔ یہ تنظیم 2009ء میں بھی اسی طرح کی ایک کوشش کرچکی ہے۔ اس کا نظریہ ہے کہ ناروے میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

    نائن الیون کے بعد مغربی ممالک کے اندر اسلاموفوبیا میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے جو پچھلے چند برسوں سے تشدد کی شکلیں اختیار کرتا جارہا ہے۔ وہاں اسلامیت کے عنصر سے خوف یا اس سے دشمنی اب تنطیمی سماجی فکر کے دائرے سے نکل کر باقاعدہ سیاسی نظم کا حصہ بن چکی ہے۔ ان ممالک کا میڈیا بھی واضح طور پہ جانبدارانہ کردار ادا کرتا آیا ہے جس کے باعث مسلمانوں کوتکلیف دینے کے جرائم بڑھ رہے ہیں اوران کی جذباتی وابستگی کو مجروح کرنے کے لیے قرآن کریم کو جلانے اور گستاخانہ خاکے بنانے کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔

    مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جب اپنی سرزمین کو چھوڑ کر مغربی ممالک کا رُخ کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے سیاسی و انسانی حقوق کے نظم پر زیادہ اعتماد کرتی ہے اور اسی لیے وہ  لوگ تمام اندیشوں سے بے خطر وہاں کے لیے سفر کرتے ہیں۔ اگر تیز رفتار مہاجرت کے بعض ڈیموگرافک اثرات کے خدشات بھی ہیں تو اس کا حل معاندانہ نظریات کی ترویج کی بجائے سیاسی و قانونی ہونا چاہیے۔ نفرت پر مبنی واقعات مسلم نوجوانوں کواس پر بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ بنیاد پرست تنظیموں کا حصہ بنیں جو نہ صرف ان ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسلاموفوبیا جس طرح تشدد کی شکلیں اختیار کررہا ہے اور ایک کمیونٹی کے لیے سخت عدم تحفظ کو جنم دے رہا ہے اسے ایک قانونی جرم شمار کیا جانا چاہیے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کے واقعات میں کمی ممکن ہوسکے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمذہبی طبقے کی گروہ بندی اور طاقت کے مظاہرے کارجحان
    Next Article مجذوبوں کا معاشرہ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by