Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سامراجیت ’کافی‘ کے کپ میں بھی دیکھ سکتے ہیں
    کالم

    سامراجیت ’کافی‘ کے کپ میں بھی دیکھ سکتے ہیں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتنومبر 20, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سرمایہ دارانہ نظام کے سرکل کے اندر معاشی بہتری اور معیار زندگی بلند کرنے کی خواہش کے زیراثر کی جانے والے ہرنوع کی جدوجہد و مشقت نارمل شمار ہوتی ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ سب ایک فردکی ایسی تشکیل نہیں کرتا کہ اس پر ’ترقی پسند‘ کا بامعنی اطلاق کیا جاسکے

    امریکا اور یورپ کی مرکزی دھارے کی سیاست دو مختلف معاندانہ انواع میں تقسیم ہے۔ ایک طرف قدامت پسند طبقات ہیں جو سامراجیت (imperialism) کے مداح ہیں اور اس کے واپس اِحیاء کی خواہش رکھتے ہیں، جبکہ دوسرا گروہ ترقی پسند لبرل اور سوشلسٹوں کا ہے جنہیں اپنے ماضی کے سامراجی عہد پر شرمندگی ہے۔ تاہم ثانی الذکر حلقہ اس بات سے انکاری ہے کہ دورِحاضر میں بھی امیر اور غریب ممالک کے مابین تعلق میں سامراجی عنصر اور اس کی اثرانگیزی موجودہے۔ سامراجیت اور غلامی پربحث کا رُخ یوں ہوتا ہے کہ یہ ماضی کی غلطی تھی جسے درست کرلیا گیا ہے حالانکہ یہ مابعدکالونیل دور میں بھی باقی ہے۔

    اس اغماض کی ایک وجہ یہ ہے کہ سامراج کی تخصیص نوآبادیاتی قبضے کے ساتھ کردی گئی ہے۔ آئرلینڈ اور فلسطین کے قضیوں کے علاوہ نوآبادیت قصہ پارینہ خیال کی جاتی ہے، لہذا ایسے ہی سامراجیت بارے گمان کیا جاتا ہے۔ لیکن کالونیل حکمرانی سامراجیت کی ممکنہ متعدد شکلوں میں سے ایک قسم ہے۔ سامراجیت کابنیادی وظیفہ انسانی وقدرتی سائل کا استحصال اور لوٹ مارکرنا ہے، سرمایہ دارانہ نظام نے اس کو فوجیں بھیجنے جیسے تکلفات کے بغیرہی ممکن بنادیا ہے۔ جبری جسمانی غلامی کی جگہ سستی خدمات کی غلامی نے لے لی ہے جسے سرمایہ داروں کو پیش کیا جاتا ہے۔ کالونیل حکمرانی کے اس متبادل کو ہم ایک خوش نما نام ”آزادتجارت“ سے تعبیر کرتے ہیں۔

    اس معاملے کو کافی کے ایک کپ کی مثال سے سمجھتے ہیں۔اگر کافی کی کسی برانڈڈ دوکان سے ایک کپ 2.50 پاؤنڈمیں ملتا ہے تو اس کی قیمت کاصرف ایک فیصداس کسان کی جیب میں جائے گا جس نے اس کی کاشت کی اور اُگایا۔ حالیہ عرصے میں کافی کے بیج کی قیمتِ خرید تاریخ کی انتہائی نچلی سطح پر ہے، ایک کلوگرام دو پاؤنڈ کے بدلے میں۔ یہ قیمت اُن 25 ملین چھوٹے کسانوں کے لیے کسی بھی طرح حوصلہ افزا نہیں جو دنیا کی کُل کافی کی مقدار کا 94 فیصد کاشت کررہے ہیں۔ سنٹرل امریکا کے کسانوں کواگر فی کلوگرام کافی کے 3.30 سے 4.10 پاؤنڈ ملیں توکاشت کی لاگت پوری ہوتی ہے، کہ نہ فائدہ ہونہ نقصان۔ موجودہ حالت میں وہ اپنے خرچ اور محنت کی مزدوری حاصل نہیں کرپارہے، نہ اپنے بچوں کے کھیتوں میں تعاون کا معاوضہ۔ اُلٹا وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبتے جاتے ہیں۔وہ خاندان کی فاقہ کشی کے سبب ہیروئن، افیم اور چرس کی کاشت پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

    کپ کے ہر 2.50 پاؤنڈ میں سے دو پاؤنڈ برطانیہ یا ایسے کسی ملک کی مجموعی پیداوار کا حصہ بنتے ہیں۔ اس سے جی ڈی پی کا فریب واضح ظاہر ہوتا ہے۔ حیران کن اور جادو کی چال جیسا فریب جس سے استحصال کیے جانے والے کسانوں اور مزدوروں کی محنت کی کمائی ایک اور ملک کی ثروت کا حصہ بن جاتی ہے جہاں کاشت شدہ شے کا استعمال ہوتا ہے۔ وہ مشقت کے باوجود تعلیم اور صحت کی ان ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں فرد کا پیدائشی حق تسلیم کی جاتی ہیں۔

    ایک کافی کپ کی قیمت کیسے تقسیم ہوتی ہے اور اس میں کاشتکار کو کتنا حصہ ملتا ہے

    یہی صورتحال اُنیس بیس کے فرق کے ساتھ کپڑوں، کچن میں استعمال کی اشیا اور ٹیکنالوجی کے آلات وپرزوں وغیرہ کی بھی ہے۔Primark اورM&S کی 20 پاؤنڈ کی شرٹ جو بنگلادیش میں تیار ہوتی ہے، اس قیمت میں سے ایک پاؤنڈ بنگلادیش کی جی ڈی پی کا حصہ بنتا ہے، اور یہی ہفتے میں 70 گھنٹے کام کرنے والی عورت کی محنت کا ثمر ہے جو اپنے بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی بھی متحمل نہیں۔ کپڑے کی پیداواری لاگت کو ہٹا کر بیس پاؤنڈ میں سے زیادہ تر حصہ اُس ملک کی جی ڈی پی میں اضافہ کرتا ہے جہاں شرٹ پہنی جاتی ہے۔

    ان اشیائے صرف کی قیمتِ فروخت کا 40 فیصد حکومت کے خزانے میں جمع ہوتا ہے، بشمول بیس فیصد Value Added Tax، بڑے سٹورز  کے اخراجات، ان کے کرائے اور وہاں کام کرنے والوں کی تنخواہوں سے حاصل ہونے والے منافع کے۔ حکومتیں اس مالیت سے آرمی و پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرتی ہیں، پینشنز کی ادائیگی کرتی ہیں اور علاج معالجے کی سہولیات، وغیرہ کا انتظام کرتی ہیں۔ لہذا جب ترقی یافتہ ملک میں ایک مہاجر کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ’ہم کیوں اس کو اپنے شہریوں کے مساوی سرکاری علاج معالجے کی سہولت دیں؟‘ تو اس کے جواب میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ’کیونکہ اِس سہولت کے انتظام میں اُس کا حصہ ہے‘۔ لیکن خود کو بائیں بازو سے منسوب کرنے والے لوگ یہ نہیں کہہ پاتے۔

    نیولبرل ازم مرحلے کے دوران جو1980 سے شروع ہوا،سرمایہ دارکپڑا اور کئی دیگر مصنوعات کم اُجرت والے ممالک میں تیار کررہے ہیں۔ اس کا مقصد انڈسٹری میں اپنے ملک کی مہنگی لیبر کی جگہ سستے مزدوروں کو کھپانا ہے،اس طرح وہ اپنے ملک کے ملازمت پیشہ طبقے کی تنقید و ردعمل سے محفوظ رہتے ہیں۔ جسے ’تیسری دنیا‘ کا نام دیاگیا، وہ ایسا بھاری بھرکم ایکسپورٹ زون بن گیا ہے جہاں سے یورپ اور امریکا کے لوگوں کے لیے سستی اشیاکی ترسیل ہوتی ہے۔ امیر ممالک کی اقتصادی نمو، ترقی اور معاشرتی امن وامان کا زیادہ تر انحصار غریب ممالک کے لاکھوں ستتے مزدوروں کے استحصال پر ہے۔ اس کا حقیقی نام ’سامراجیت‘ ہے۔ یہ ماضی کے جاگیردارانہ عہد کے حربے تو استعمال نہیں کرتی، لیکن دہشت گردی کو جنم دے سکتی ہے،اور ضرورت پڑنے پر بالواسطہ یا براہ راست بھی فوجی مداخلت کرسکتی ہے۔

    نہ صرف یہ کہ عالمی سطح پر اشیائے صرف کی پیداور کے اس نوع کے رجحان نے لاگت کے حصول کو مشکل بنایاہے بلکہ اس کے ساتھ سرحدوں کے پار مزدوروں کے مابین مسابقت کی دوڑ بھی شروع ہوئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے سرکل کے اندر معاشی بہتری اور معیار زندگی بلند کرنے کی خواہش کے زیراثر کی جانے والے ہر نوع کی جدوجہد و مشقت نارمل شمار ہوتی ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ سب ایک فردکی ایسی تشکیل نہیں کرتا کہ اس پر ’ترقی پسند‘ کا بامعنی اطلاق کیا جاسکے۔ پیداواری عنصر کے تیسری دنیا کی طرف انتقال واثرات کا دوسرا منطقی پہلو اِن ممالک سے کثرت کے ساتھ مہاجرت کا رجحان بھی ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کے حق میں ووٹ کی بنیادی وجہ مہاجرت دشمنی ہے۔ مسابقت کی دوڑ میں مزدورپیشہ طبقے کا ردعمل اور سرحدوں پر دیواریں تعمیر کرنے اور انہیں بند کرنے کی آوازیں لینن کے اس قول کی عکاسی کرتی ہیں کہ ’تاجر اتحاد طبقہ بورژوازی چھتری تلے آنے کی کوشش کررہا ہے‘۔

    سامراجیت کا وجود اور اس کے حجم میں اضافہ ہم اپنے گردوپیش میں آسانی سے محسوس کرسکتے ہیں۔ لیکن لبرل، جمہوریت پسند اور حتیٰ کہ خود کو انقلابی سوشلسٹ کہلانے والے اس سے اغماض برتتے ہیں۔ اس اصطلاح کا معنوی فریب اسے راستہ دیتا ہے اوریہ لوگ ان ’اعدادوشمار‘ کا سہارا لیتے ہیں جوحقائق کو عیاں کرنے کی بجائے ان پر پردہ ڈالتے ہیں۔ سامراجیت کے حق میں ہونا یا اس کی توصیف ایک برائی ہے، تاہم اس کے وجود سے انکار زیادہ انہدامی ہے۔ اس کے وجود کا عدم اعتراف حقوق کی آگہی اور ایک ایسی فعال سماجی تحریک کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے جو ان اُمراء کی آمریت کا پردہ چاک کرنے کے لیے ضروری جو جمہوریت کے پردے کے پیچھے روپوش بیٹھے ہیں۔

    مترجم:شفیق منصور، بشکریہ: اوپن ڈیموکریسی

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعظمت کی تلاش میں
    Next Article ’پاکستان میں انسدادِ پولیو پروگرام سیاسی فٹبال بن چکا ہے‘
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by