Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پبلک ٹرانسپورٹ شعبہ میں اصلاحات حکومتوں کی ترجیحات میں شامل کیوں نہیں ہوتیں؟
    رواں تبصرے

    پبلک ٹرانسپورٹ شعبہ میں اصلاحات حکومتوں کی ترجیحات میں شامل کیوں نہیں ہوتیں؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاکتوبر 31, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج کراچی سے چلنے والی تیزگام ایکسرپیس لیاقت پور کے نزدیک ایک حادثے کا شکار ہوئی جس میں ستر کے قریب افراد جاں بحق اور چالیس زخمی ہوگئے۔ وزیرریلوے کے مطابق یہ حادثہ گیس سلینڈر پھٹنے سے پیش آیا۔ وزیراعظم نے ٹویٹ میں دکھ کا اظہار کیا اور واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔

    پوری دنیا میں ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع کے مقابلے میں ریل کے سفر کو محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے۔ یہاں آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوجاتا ہے اور کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 2013 سے اب تک ٹرین کے چھوٹے بڑے 562 حادثات میں 450 کے قریب شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ہر واقعے کے بعد روایتی بیانات کی آڑلیتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنے سے احتراز کیا جاتا ہے اور تحقیقاتی کمیٹیاں بنادی جاتی ہیں جن کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ پچھلے چھ سالوں کے دوران بنائی گئی 63 کمیٹیوں کے حاصلات کا عوام کوئی کوئی علم نہیں۔

    ریلوے حادثات میں تسلسل سراسر شعبے کے انتظامی امور میں تساہل برتنے کا نتیجہ ہے۔ ٹرانسپورٹ سکیورٹی وسیفٹی کبھی حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔ بالخصوص ریلوے کے شعبے میں بہت زیادہ انتظامی خلا ہیں جو سیاسی عزم اور توجہ کے مستحق ہیں۔

    گزشتہ حکومت کے دورمیں بھی اور اب بھی قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کی طرف سے متعدد بار ریلوے میں موجود مسائل کے حوالے سے جہاں کئی اور چیزیں زیربحث لائی گئیں وہاں اس بات کی نشاندہی بھی ہوئی کہ اس ادارے میں سٹاف کی تسلی بخش تربیت نہیں ہوتی اور سپروائزر اپنی ذمہ داریاں درست طور نہیں نبھاتے۔ اگر صورتحال یہ ہے اور حکومت یہ جانتی ہے تو یومیہ لاکھوں مسافروں کی زندگیوں کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا؟

    آج کے حادثے کا حقیقی سبب تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا، لیکن ناگزیر امر یہ ہے کہ شعبہ ریلوے کے ذمہ داران وعہدیداران روایتی طرزعمل اختیار کرنے کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اصلاحات کویقینی بنانے کے لیے درست سمت کا تعین کریں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعراق، لبنان مظاہرے: ایران کی مشرق وسطیٰ پر کمزور ہوتی گرفت
    Next Article اسلام آباد کے تاریخی معبد
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by