Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»عالمی یومِ عدم تشدد اور کشمیر
    رواں تبصرے

    عالمی یومِ عدم تشدد اور کشمیر

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاکتوبر 2, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج دنیا میں عالمی یوم تشدد منایا جا رہا ہے۔ 15 جُون 2007 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 2 اکتوبر کو عدمِ تشدد کے حوالے سے آگہی پھیلانے کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ یہ تاریخ مہاتما گاندھی کا یوم پیدائش ہے جو عدمِ تشدد کے فلسفے کے بڑے داعی سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ آج عدم تشدد کے داعی کہلائے جانے والے کی زمین پر انسانی حقوق کی بھانک ترین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس سال کا دو اکتوبر گاندھی کے ملک میں سب سے زیادہ سوگوار ہے۔

    گاندھی نے تقسیم کے بعد اور موت سے قبل کشمیر کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا تھا۔  مثلاََ جولائی 1947 کو دہلی میں ایک میٹنگ کے دوران کہا ’میں مہاراجہ کو ایسا کوئی مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ کشمیر کو پاکستان کی بجائے ہندوستان میں ضم کرے۔ حقیقی مقتدر عوام ہیں۔ حکمران محض خادم ہوتا ہے۔ اگر وہ ایسان ہیں تو حکمران کہلانے کا حقدار بھی نہیں۔ یہ میرا ایمان ہے اور اسی اساس پر میں برطانوی راج سے بغاوت کی، کیونکہ اس نے ہندوستان کے عوام کی بجائے خود کو حکمران کہا۔ کشمیر میں بھی اصل طاقت عوام ہیں۔ انہیں آزادی دیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں‘۔

    3 جنوری 1948 کو کہا ’کشمیر میں بدامنی کا زہر سرایت کرتا اور پھیلتا جا رہا ہے۔ اگر جنگ ہوئی تو دونوں ملک خون میں نہا جائیں گے۔ میری خواہش اور دعا ہے کہ ایسی کسی صورتحال کو دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہوں۔ آپ سب بھی میرے لیے یہ دعا کریں‘۔

    گاندھی کو بھارت نے قبول نہیں کیا۔ تشدد باقی ہے اور کشمیر میں ’اس کا زہر مزید سرایت کرتا اور پھیلتا جا رہا ہے‘۔ گاندھی نے تشدد کے ماحول کو دیکھنے سے بچنے کے لیے مرنے کی دعا کی تھی۔ ان کو قتل کر دیا گیا۔ جب تک تشدد کی جگہ باقی ہے گاندھی کا قتل ہوتا رہے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاستنبول میں شناخت کا نیا معرکہ
    Next Article مسلم سماج میں انسانی حقوق کی تحریکیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by