Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»کشمیر کا مسئلہ اور او آئی سی کی سردمہری، عرب صحافی کیا کہتے ہیں؟
    رواں تبصرے

    کشمیر کا مسئلہ اور او آئی سی کی سردمہری، عرب صحافی کیا کہتے ہیں؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتستمبر 2, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ جمعے کو سابق چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کشمیر پر عرب دنیا کے ردعمل  پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ مسلم اُمہ کا تصور خوش فہمی ہے۔ پاکستان کو او آئی سی کی رکنیت چھوڑ دینی چاہیے۔

    کشمیر کی خصوصی حیثیت کے اختتام کے بعد بھارتی وزیراعظم کے اعزاز میں بعض خلیجی ممالک کے اقدامات نے پاکستان کے حکومتی وعوامی حلقے میں یکساں مایوسی و ہلچل پیدا کی ہے۔ جس طرح پاکستان میں غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اسی طرح باقی مسلم دنیا میں بھی خلیجی ریاستوں کے ان سربراہان پر تنقید کی گئی۔ لیکن اسلامی تعاون تنظیم کے حوالے سے اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کا اظہار بعض عرب صحافی اور عوام کر رہے ہیں۔

    مثال کے طور پر ان کا کہنا ہے کہ او آئی سی کا کشمیر کے حوالے سے بھارت کے خلاف موقف رکھنا پاکستان کے مطالبے سے زیادہ تنظیم کی اپنی آزادانہ پالیسی ہے۔ تنظیم میں بھارتی حکومت کو تو رکنیت حاصل نہیں ہے لیکن اس میں بھارت کے مسلمانوں کو علامتی رکنیت دی گئی ہے اس لیے کہ اسلامی تعاون تنظیم مسلمانوں کے حقوق و مسائل کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ لہذا ایسے تمام ممالک جہاں زیادہ تعداد میں مسلمان بستے ہیں او آئی سی ان سے حکومتی سطح پر ربط رکھتی ہے۔ اِسی بِنا پر رُوس اور تھائی لینڈ بھی بطور مبصر ملک کے تنظیم میں شامل ہیں۔

    اگرچہ اس تنظیم میں مسلم ملک رکن ہوتے ہیں لیکن 1969 سے او آئی سی مسلم شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے بھارت کو رکنیت دینے کے لیے رضامند تھی تاکہ وہ ان کے حقوق ومسائل کے لیے بات کرسکے۔ لیکن پاکستان کے مسلسل اصرار کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔ اسلامی تعاون تنظیم میں یہ احساس بھی موجود ہے کہ پاکستان صرف کشمیریوں کی بات کیوں کرتا ہے۔ بھارت میں موجود 200 ملین مسلمانوں کی مشکلات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کے خیال میں اگر پاکستان کشمیر کے ساتھ سب کے حقوق کی بات کرتا تو عالمی سطح پر اس کا موقف زیادہ شفاف، غیر متنازع اور قابل شنوائی ہوتا۔

    او آئی سی میں اب 57 ممالک کو رکنیت حاصل ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے بعد دوسری بڑی تنظیم ہے جس کا اتنے ممالک حصہ ہیں۔ صحافیوں کے مطابق اگر بھارت اس کا رکن ہوتا تو وہاں کے مسلمانوں  کے مسائل کے حوالے سے بات کرنا اور دباؤ ڈالنا مفید ثابت ہوتا۔ بھارت اس تنظیم کے وفد کی اپنے ملک دورے کی درخواست کو مسترد کردیتا ہے۔ رکن ہونے کی صورت میں شاید کچھ بہتری ممکن ہوتی۔

    اب یہ امکان موجود ہے کہ بھارتی دیرینہ خواہش کی بنیاد پر رُوس اور تھائی لینڈ کی طرح اسے بھی تنظیم میں مبصر ملک کے طور پر شامل کرلیا جائے گا۔ یقیناََ بھارت اپنے اقتصادی مفادات اور خلیج میں ملازمت کرنے والے اپنے شہریوں کے مستقبل کے لیے یہ چاہتا ہے۔ لیکن اس سے بھارتی مسلمانوں کے لیے بات کرنے کی راہ بھی کھل سکتی ہے، اگر اسے استعمال کیا جائے۔ عرب صحافیوں کے مطابق اگر پاکستان اپنی حیثیت کھودینے سے قبل اس کا راستہ بند نہ کرتا تو زیادہ فائدہ اسی کو ہوتا لیکن اب بھی اسے مخالفت کرتے ہوئے تنظیم چھوڑنے کی بجائے اس میں اپنی فعالیت اور اہمیت کو بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleجیسا نصاب ویسا سماج
    Next Article کیا اقتصادی ترقی اور سماجی تبدیلی کا خواب دیکھا جاسکتا ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by