Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال، پاکستان کے لیے ایک امتحان
    رواں تبصرے

    مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال، پاکستان کے لیے ایک امتحان

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 5, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    بھارت نے ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر دیا ہے۔ اس سے قبل وادی میں بڑے پیمانے پر عسکری اہلکاروں کی اضافی نفری کی تعیناتی کی گئی اور غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے۔

    2016 سے بھارت نے کشمیر میں جو رویہ اپنایا ہے اس میں بات چیت کا کوئی آپشن موجود نہیں تھا اور کشمیریوں کے خلاف مسلسل سخت برتاؤ روا رکھا گیا، لیکن چند دن قبل تک کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ مودی حکومت ایسا بڑا قدم اٹھاسکتی ہے۔ انڈین وزیراعظم نے پچھلے عرصے میں متعدد بار یہ دہرایا کہ جب تک شدت پسندی موجود ہے اس وقت تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ اور شدت پسندی سے ان کی مراد ہر وہ آواز اور تحریک تھی جو بھارتی حکومت کی خواہشات و مفادات کو چیلنج کرتی ہو یا ریاست سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہو۔ کشمیری کمانڈر برہان وانی کو شہید کرنے اور اس کے بعد ہونے والوں تمام مظاہروں کو بے رحمی سے کچلاگیا۔ پاکستان کی جانب سے امن کی خاطر مذاکرات کے لیے کی جانے والی کوششوں بھی کو خاطر میں نہیں لایاگیا۔ انڈیا نے پچھلے دنوں صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا تھا۔ اب جب کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کیوں بات چیت اور ثالثی کے لیے رضامند نہیں تھا۔

    کشمیر میں کرفیو نافذ کرنے اور ہنگامی حالات پیدا کرنے کے ساتھ  بھارت نے پاکستان کی حدود میں کلسٹر بم پھینک کر شاید پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ وہ  کشمیر کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کرے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے کے ردعمل میں جنم لینے والی کسی بھی صورتحال سے سختی اور تشدد کے ساتھ  نمٹنے کے تیار ہے، چاہے اس کی جو بھی قیمت ہو۔ پاکستانی حکام سفارتی سطح پر انسانی حقوق کی چند بڑی تنظیموں اور بعض ممالک کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن کشمیر میں جس منظرنامے کی تشکیل کی گئی اور جیسا خوف مسلط کیا گیا ہے اس کو ختم کرنے کے لیے نہ طاقتور ممالک و تنظیموں نے ابھی تک خود سے کسی اقدام کا اشارہ دیا ہے نہ پاکستان کوئی بڑی کامیابی حاصل کر پایا ہے۔  بھارت کے متشدد رویے کے مقابل بطور فریق کمزور معاشی و سفارتی پس منظر کے ساتھ اور خطے کے امن کی پیچیدہ صورتحال کے تناظر میں محاذ آرائی سے بچتے ہوئے پاکستان کے لیے کشمیر اور اس کے عوام کی خاطر کارآمد کردار ادا کرنا ایک امتحان ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleحاصل بزنجو کا المیہ
    Next Article مدارس اصلاحات کے لیے نئی کوششیں، لائحہ عمل کیا ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by