Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ترک جمہوریت بمقابلہ پاکستانی جمہوریت
    کالم

    ترک جمہوریت بمقابلہ پاکستانی جمہوریت

    اعظم خانBy اعظم خانجولائی 12, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ترکی میں پانچواں فوجی دور شروع نہ ہو سکا اور عوام نے اپنے نمائندوں کے واپسی کے بند رستوں کو پھر سے صاف کر دیاتھا-

    اردوان پربدعنوانی اورسرکاری خزانے میں خرد برد کی خبریں زور پکڑتی جا رہی تھیں۔ طاہر القادری جیسے علماء بھی رنجیدہ ہورہے تھے اور ترکی سے باہر بیٹھ کرعوامی نمائندوں کی ’’بدعنوانی‘‘ پر اپنی پریشانی کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے–

    ابھی ابھی اردوان نے اپنے قریبی دوست داود اوگلو کو وزارت عظمٰی کے منصب سے فارغ کر دیا تو ایک دفعہ پھر چھپے ’’خیر خواہوں‘‘کے ہاتھ ترکی کی اصلاح کا ایک نیا موقع لگ گیا- مصلحین نےکہنا شروع کر دیا چونکہ اوگلو اردوان فیملی کی بد عنوانی سے خوش نہیں تھے جس کی وجہ سے انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا–

    اس خیال سے کہ اردوان کی اپنے قریبی ساتھیوں سے دوری واقع ہو چکی ہوگی منصوبہ سازوں نے عوام کو یہ یقین دلانا شروع کر دیا کہ دراصل ان کے منتخب کردہ حکمران ہمیشہ کی طرح بد عنوان اور نااہل نکلے- ان حالات میں مقدس روحیں بھی کہیں دور پڑی چھاونیوں میں حالات پر تڑپ رہی تھیں اور بہتری کے لئے پیچ وخم کھا رہی تھیں–

    زمینی حقائق سے بے خبر یہ پاک ہستیاں با الآخر 15 جولائی کی رات ٹینکوں، جہازوں اور بندوقوں کے ساتھ اصلاح و احوال کی تکمیل کی غرض سے پورے نظام پر حملہ آور ہوگئی تھیں- گپ اندھیرے نے ایک دفعہ پھر یہ حقیقت روشن کر دی کہ عوامی طاقت کے سامنے سب بے بس ہوتے ہیں- ترکی میں ایک نئے سویرے کا آغاز ہو چکا تھا- فوج کے باغی سرنڈر کر چکے تھے–

    آنکھوں دیکھے ان مناظر کو میں رات بھر استنبول سے براہ راست جیو ٹی وی کے لئے رپورٹ کرتا رہا- مجھے سب سے زیادہ مشکل خود مغربی میڈیا کی خبروں کو غلط کہنے پر ہو رہی تھی کیونکہ انھوں نے مارشل لاء کے نفاذکا اعلان فوجی باغیوں سے بھی پہلے کر دیا تھا- اس رات تک میں تو اس مغربی میڈیا سے صحافت میں درست اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے درس سنتا رہا- صحافت کے اصولوں سے بے بہرہ اب یہ مغربی میڈیا مارشل لاء سے کم کسی خبر پر راضی نہ تھا- زمینی حقائق کا قتل عام کرنے کی کوشش میں ناکام ہونے پر یہی میڈیا بغاوت کو اردوانی سازش قرار دینا شروع ہو گیا تھا– 

    ترکی میں پانچواں فوجی دور شروع نہ ہو سکا اور عوام نے اپنے نمائندوں کے واپسی کے بند رستوں کو پھر سے صاف کر دیاتھا–

    پاکستان سے عزیز دوست آصف بشیر چوہدری نے مجھے ایک ویڈیو کلپ وٹس ایپ کی صورت بھیج دیا جو مجھ سے ہی متعلق تھا-اس ویڈیو میں بے اختیار میں یہ کہہ رہا تھا کہ ’’رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں، رستے صاف کئے جا رہے ہیں، عوام کا جمہوریت پر مکمل اعتماداعتماد ہے ‘‘۔

    ترکی کے حالات پر بات یہاں پر روک کر کچھ  بحث پاکستان کے موجودہ حالات پربھی- ملک میں اس وقت بدعنوانی اور خرد برد کا شور ہے- ملک ایک دفعہ پھر بے یقینی کی کیفیت سے گزر رہا ہے– 

    اپنے مختصر صحافتی دور میں تین منتخب وزراء اعظم کو احتساب کی سولی پر لٹکتے دیکھا، تین وزرائے اعظم کی راولپنڈی میں قتل کی داستان سنی ان میں سے ایک کو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے دروازے سے گزار کر انصاف کا جنازہ نکالا گیا–

    موجودہ حکومت نے ایک فوجی آمر کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی جسارت کی تو پھر وہ طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا کہ خدا پناہ۔۔ جب فوجی آمر کا کیس ایک خصوصی عدالت میں شروع ہوا تو ایک سینئروکیل کمال بدتمیزی سے کھڑا ہوا۔ عدالت سے اجازت نہ ملنے کے باوجود اگرتلہ سازش کیس کا حوالہ دیتے ہوئے گویا ہوئے کہ ججز اپنے جوتے چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ججز نے غصے میں استفسار کیا کہ کیا وہ دھمکی دے رہے ہیں؟ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کے قتل میں مدعی اور فوجی آمر کے وکیل نے مسکرا کر کہا کہ بس میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کیس کا انجام بھی حیدر آباد سازش کیس اور اگر تلہ کیس سے ذرا برابربھی مختلف نہیں ہو گا–

    کیس آگے بڑھا اور پھر سرد خانے کی نظر ہو گیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح 1990 کے انتخابات چرانے پر اس وقت کے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کا کیس سپریم کورٹ میں دو دہائیوں سے زائد کروٹیں بدلتے بدلتے سرد خانے کی نظر ہوا- اس کیس میں نہ کوئی عملدرآمد بنچ بنا اور نہ ہی کوئی 15 روزہ رپورٹ کا نظام متعارف کرایا گیا–

    کمانڈو مشرف غداری کیس میں بننے والی احتسابی عدالت کے رستے کنٹینرز لگا کر بلاک کر دئیے گئےتھے- کئی ماہ تک بندش کے بعد بھی جب انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تو پھر سپریم کورٹ پر شلواریں لٹکتی دیکھی گئیں جو روز ہی میڈیاکی زینت بنتی رہیں- عوامی نمائندوں کو پارلیمنٹ میں عقبی دروازے سے داخل ہونے پر مجبور کر دیا گیا تھا- جب غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو سرکاری ٹی وی پر حملہ بھی کروا دیا گیا- یہ انتقام اس وقت لیا جارہا تھا جب قبائلی علاقوں سے ہجرت کر کے لاکھوں کی تعداد میں لوگ ملحقہ خیبر پختونخواہ کے مختلف شہروں میں آکر کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ اس وقت صوبائی حکومت کسی کے عزائم کی تکمیل کی غرض سے ڈی چوک تک محسور ہو کر رہ گئی تھی- پڑوسی ممالک یک زباں ہو کر ہر وہ الزام پاکستان پر دھر رہے تھے جو کسی ’’روگ ریاست‘‘ پر لگایا جاتا ہے- واحد خیر خواہ پڑوسی ملک چین کے صدر نے اسلام آباد آنے کا قصد کیا تو ڈی چوک کے حواریوں نے اس باب کو بھی ٹھپ کر دیا–

    یہ سب قومی مفاد کی مقدس روحوں نے اس وقت کیا جب ملک پر بد امنی اورعالمی تنہائی کے سائے منڈلا رہے تھے- انا کی اس لغو جنگ کا فائدہ اٹھا کر سنگ دل دشمن نے پشاور کے ایک سکول پر ننھے فرشتوں کو خون میں نہلا دیا–

    پھرعقل ٹھکانے آئی تو بہت دیر ہو چکی تھی- ملک کا نقصان ہر محاز پر ہوچکا تھا- نئے عہدو پیمان کیے گئے۔ لیکن ندارد

    حالات پھر ایک دفعہ اسی دہرائے پر کھڑے ہیں۔ مہرے بھی سب اپنی جگہوں پر موجود ہیں- طاہرالقادری بھی ملک واپس پہنچ گئے ہیں- انجام کا کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کیوں کہ حکومت اردوان جتنی مقبول ہے اور نہ ہی حزب اختلاف ترکی جتنی کمزور ہے- فی الحال سوشل میڈیا کی زینت بننے والے کمردرد میں مبتلا فوجی آمر کے ٹھمکے پر تبصرہ شامل نہ کرنے کا مقصد توہین عدالت جیسے سنگین جرم کے ارتکاب سے بچنا ہے–

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleواشنگٹن کا پاکستان کے بارے میں بدلتا رویہ
    Next Article خیبرپختونخوا اسمبلی ، خواتین اراکین کی متاثر کن کارکردگی
    اعظم خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by