Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پہلے نارمل سماج بنیں
    رواں تبصرے

    پہلے نارمل سماج بنیں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمئی 21, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    15 مئی کو چک شہزاد اسلام آباد سے ایک دس سالہ بچی کو گلی میں کھیلتے ہوئے اٹھایا گیا۔ چار دن تک اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس کا والد تھانے میں ایف آئی آر  درج کرانے کی کوشش کرتا رہا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ 19 مئی کو بچی کی نعش ملی جسے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیاگیا تھا۔

    پاکستان میں ہر روز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 12 واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان میں سے خبر صرف وہی بنتی ہے جس میں زیادتی کے بعد قتل بھی کردیا گیا ہو۔ ایسی خبریں بھی اب کبھی کبھار کی نہیں رہیں بلکہ ہر ماہ اس طرح کے ایک دو واقعات سامنے آرہے ہیں۔ حکومت نے اس مئلہ سے نمٹنے کے لیے قوانین تو بنا رکھے ہیں لیکن یہ قضیہ جس طرح کی حساسیت اختیار کرتا جا رہا ہے اس کے لیے بالا سطح پر انتظامی کاوش کافی نہیں ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ الگ سے ایک ادارہ بنایا جائے جو مسئلہ کا ہمہ جہت جائزہ لینے کے بعد ایسا لائحہ عمل وضع کرے جس میں گلی محلہ کے عام لوگوں، مذہبی طبقے، اساتذہ اور والدین کو بھی شامل کیا جائے جو اس کے لیے کردار ادا کریں۔

    جنسی زیادتی کے واقعات کے پس پردہ کوئی ایک غلطی کار فرما نہیں ہے جس پر توجہ دینے سے یہ مسئلہ حل کرلیا جائے۔ متعدد خلا ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق سماجی اخلاقیات، تعلیم، رہن سہن اور معاشرت کے ساتھ ہے۔ یہ وہ امور ہیں جنہیں سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے، حالانکہ ان سے معاشرے کی ساخت تشکیل پاتی ہے، اور دیگر انتظامی، سیاسی اور معاشی امور جنہیں ہم زیادہ توجہ دیتے ہیں، ان کی صحت اور بہتری بھی انہی معاملات کے ساتھ مربوط ہے۔

    عظمت و فضیلت طاقت کے ساتھ نہیں جڑی ہوتی بلکہ صحت مند رویوں کے ساتھ متعلق ہوتی ہے۔ امن اور خوشی کسی شے کی انتظامی تنفیذ سے نہیں آتے، اس کے ساتھ سماجی معاہدے کو محترم بنانا ضروری ہوتا ہے۔ ہم ایکدوسرے پر اعتماد نہیں کرپاتے۔ ہمارے بچے گلی محلے میں بلاخوف کھیل نہیں سکتے۔ لین دین میں سو فیصد شک کرتے ہیں۔ ہر فرد ہر لمحہ شک اور غیریقینی کے پہاڑ سر پہ اٹھائے پھرتا ہے۔ معاشرے کی پوری ہیئت ہی نارمل نہیں رہی۔ معیشت، کاروبار، سیاسی جوڑ توڑ اور مذہبی مباحث کو بھی وقت دیا جائے اور عظیم قوم بھی بنا جائے اگر یہی اس کا راستہ ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ پہلے نارمل سماج بنیں، جہاں کم ازکم بچے تو محفوظ ہوں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپانی کے بحران پر مجرمانہ غفلت
    Next Article شمالی وزیر ستان میں عسکریت پسندوں کی واپسی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by