Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»حکومت کی صلاحیت و صاف گوئی پر سوالیہ نشان
    رواں تبصرے

    حکومت کی صلاحیت و صاف گوئی پر سوالیہ نشان

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمئی 8, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ کئی دنوں سے وزیراعظم کی کابینہ اور بیوروکریسی میں رد و بدل کا سلسلہ جاری ہے۔ جن نئے لوگوں کو اہم عہدوں کے قلمدان سونپے جارہے ہیں ان میں کچھ غیرمنتخب افرد بھی شامل ہیں جس پر اپوزیشن تنقید کر رہی ہے اور آج تحریک انصاف کے پالیمانی اجلاس میں بعض حکومتی نمائندوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان غیرمنتخب افسران میں گورنر اسٹیٹ بینک اور چئیرمین ایف بی آر کے نام نمایاں ہیں۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک و چیئرمین ایف بی آر اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ انہیں نئے وزیرخزانہ کی خواہش پر ہٹایاگیا ہے جو اپنی معتمد وپسندیدہ ٹیم کے ساتھ آئی ایم ایف سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ رد و بدل کا یہ سلسلہ ابھی رُکا نہیں ہے۔ اگلے مرحلہ میں پنجاب سے مزید بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس سے ملک میں بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور حالات بہتر ہوجائیں گے۔

    انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی فتح کے بعد عوام کو یقین تھا کہ ملک کے حالات تبدیل ہوجائیں گے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم پہلے سے کچھ بہتری ضرور آئے گی، کیونکہ جماعت انقلاب کی بات کر تی رہی تھی۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا عام آدمی کو وزیراعظم کے وعدے سراب نظر آنے لگے۔ اب اسے صرف یہ دھڑکا رہتا ہے کہ مزید کتنی مہنگائی ہوگی اور کتنے مشکل وقت کا سامنا کرنا باقی ہے۔ وزیراعظم نے ان دس ماہ کی خراب کارکردگی کا بوجھ وزراء اور بیوروکریٹس کی نااہلی پر ڈال دیا ہے اور یہ احساس دیا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ذمہ داران ٹھیک کام نہیں کر رہے تھے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اگر اگر کوئی وزیر یا بیوروکریٹ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو اس کو عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وقت اور وسائل کے ضیاع سے ملک اورعوام کو جو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اس پر ذمہ داران کی پرسش اور سرزنش کیوں نہیں کی جارہی۔ اور آئے روز کی رد و بدل سے جو سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کے اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں، کیا اس پر وزیراعظم اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے کہ ان کا انتخاب درست نہیں تھا؟

    حکومت دعوی کرتی ہے کہ ان اقدامات سے حالات بدل جائیں گے۔ لیکن عوام کے پاس اعتبار کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔ اب تک کی کارکردگی اور زمینی حقائق اس کے دعووں کی صحت کی تصدیق نہیں کرتے، اور نہ حکومت کے پاس کوئی ایسا واضح، مضبوط اور قابل عمل منصوبہ ہے جس سے امید باندھی جاسکے کہ عوام کو سہارا مل جائے گا۔ حالات  کی ابتری کے باوجود بلند بانگ دعووں سے صرف عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور حکومت کی صلاحیت و صاف گوئی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleلاہور داتا دربار کے باہر تعینات پولیس موبائل پر حملہ
    Next Article عرب ممالک میں رمضان کیسے گزارا جاتا ہے؟ دلچسپ روایات
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by