Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»گلگت بلتستان میں سیاحت کا شعبہ متأثر ہو رہا ہے
    کالم

    گلگت بلتستان میں سیاحت کا شعبہ متأثر ہو رہا ہے

    قاسم نسیمBy قاسم نسیماپریل 28, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    وفاقی حکومت نے ملک میں سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لیے کئی اقدامات اُٹھائے ہیں تاکہ ماضی کی نسبت زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو راغب کیا جاسکے۔ حکومت کی جانب سے کی گئی کوششوں میں سب سے اہم  ویزا پالیسی میں نرمی ہے جس کے تحت دنیا کے 50 ملکوں کے شہریوں کو پاکستان آمد پر ویزا جاری کرنا اور 175 ممالک کے شہریوں کو آن لائن اِی ویزا کی سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔ یوں اب 50 ممالک کے شہریوں کو پاکستان آنے سے قبل ویز ا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ سیاحوں کے لئے آن ارائول ویزے کے اجرا کا مطالبہ سالوں سے کیا جاتا رہا لیکن اس پر عمل در آمد کرانے کی کسی کو توفیق نہیں ہوئی۔ اب موجودہ حکومت کے اس اقدام سے یقیناً ملک میں سیاحت کا تناسب بڑھے گا۔

    حکومت کا ایک اور اہم اقدام ملک میں موجود سرحدی علاقوں کو کھولنے کے حوالےسے ہے۔ ماضی میں سیاحتی لحاظ سے اہم علاقے ملکی اور غیرملکی سیاحوں کے لئے بند تھے، اب وزارت داخلہ نے انہیں سیاحت کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ وزارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق پاک چین اور پاک افغان سرحد پر واخان کوریڈور میں اب سرحد سے صرف 10 میل کا علاقہ ممنوعہ ہوگا۔ گلگت بلتستان میں پاک بھارت سرحد پر سیاچن سیکٹر میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر بھی سر حد سے 10 میل، جبکہ بلتستان میں کرگل سیکٹر سمیت دیگر سرحدی علاقے سے اور آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے صرف 5 میل کا علاقہ ممنوعہ ہوگا۔ حکومت کے اس فیصلے کی تشہیر اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو گلگت بلتستان بالخصوص بلتستان میں موجود سیاحتی مواقع کو اُجاگر کرنے کے لئے بلتستان کی ڈویژنل انتظامیہ نے سکردو میں ایک روزہ سیاحتی کانفرنس منعقد کرائی جس میں محکمہ سیاحت اور بلتستان کےڈویژنل انتظامی حکام کے علاوہ دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے سیاحت کی ترقی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پربلتستان میں موجود ایسے مقامات اور امکانات کی نشاندہی کی گئی جو اب تک متعلقہ ادروں اور سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہیں۔ ٹورزم کانفرنس کے انعقاد کو بہت زیادہ سراہا گیا۔ اس میں سیاحت کے فروغ کی راہ میں حائل دو بڑی رکاوٹوں اور مسائل کا خاص طور پر ذکر ہوا جن میں سے ایک تو وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے بر خلاف خطے کے بیشتر علاقوں کو مقامی افراد پر بند کرنا تھا اور  دوسرا اسلا م آباد سے سکردو اور گلگت کے لئے قومی ائر لائن پی آئی اے کی پروازوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ تھا۔ کانفرنس میں موجود متعلقہ حکام نے ان دونوں اُمور کے حوالے سے یقین دہانی کرائی اور کہا کہ اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد ہی ایسے مسائل  کو حل کرنا ہے۔ پروگرام کو ایک ہفتہ سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی گئی۔

    گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے لہذا حق تو یہ تھا کہ اس کے باقاعدہ طور پر قومی دھارے میں شامل ہونے تک ماضی کی طرح پی آئی اے کرایوں میں سبسڈی رکھی جاتی، یہ نہیں ہوسکتا تو کم ازکم مسافروں سے اُتنا کرایہ لیا جائے جو 35 منٹ کے سفر کا بنتا ہے

    سیاحوں کی سہولت سے متعلق مسائل کو عام شرکا کے علاوہ گلگت بلتستان اسمبلی کے سپیکر حاجی فدا محمد ناشاد نے بھی اُٹھایا تھا۔ ان میں ایک قضیہ یہ تھا کہ سیزن کے دوران  پی آئی اے والے کرایوں میں اضافہ کردیتے ہیں۔ جس کے باعث سیاحت کا شعبہ تباہ ہو رہا ہے۔ جب یہ کانفرنس منعقد ہورہی تھی تو سکردو اسلام آباد رُوٹ پر ایک طرف کا کرایہ 9545 روپے تھا۔ اس کے ایک روز بعد راقم کو کسی   پروگرام کے سلسلے میں سکردو سے اسلام آباد پی آئی اے فلائٹ کے زریعے سفر کرنے کا موقع ملا تو تب بھی یہی کرایہ تھا۔ لیکن دو دن بعد واپس سکردو جانے کے لیے قومی ائر لائن سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ بزنس پلس میں 18470 کی سیٹ مل سکتی ہے اور اگر  اکانومی کلاس میں چاہیے تو 15800 روپے میں ملے گی۔ پی آئی اے سے شام تک مسلسل رابطے میں رہا تو خوش قسمتی سے کسی مسافر نے اپنی نشست منسوخ کرائی تھی جس پر میں نے 13220 روپے میں اپنی نشست مختص کروالی۔ جب سکردو میں ٹریول ایجنٹس سے معاملات بارے جاننے کی کوشش کی کہ آنے جانے کے کرایوں فرق کیوں  ہے تو پتہ یہ چلا کیونکہ اب گرمیاں شروع ہوچکی ہیں لہذا سکردو سے اسلام آباد لوگ کم جا رہے ہیں اس لیے اس رُوٹ پر کرایہ پہلے والا ہے، جبکہ دنیا بھر سے اور ملک کے مختلف شہروں سے  سکردو کی طرف سیاحوں کے جانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے تو اسلام آباد سکردو رُوٹ پر کرائے دُگنے کردیے گئے ہیں۔

    حکومتی نوٹیفکیشن اور ٹورزم کانفرنس کےاعلانات کے مطابق آنے والے سیاحوں کو اضافی سہولتیں دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن عملا پی آئی اے والے سیاحوں کو تنگ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ان کی مجرمانہ کوتاہی کا ایک نمونہ یوں بھی سامنے آیا کہ جب اسلام آباد میں واقع ان کے مرکزی دفتر ٹکٹ کے لیے پتہ کیا گیا تو جواب ملا کہ اسلام آباد سے سکردو کے لیے 26 تاریخ تک کی تمام پروازوں پر کوئی نشست دستیاب نہیں ہے۔ لیکن جب ملک کے دیگر شہروں سے معلومات لی گئیں تو اگلے روز یعنی 17 اپریل کی تاریخ میں بھی نشستیں دستیاب تھیں۔ اس موسم میں اسلام آباد سے سکردو کے لیے نشستیں مخصوص کرانے والے زیادہ تر غیرملکی ہوتے ہیں جو بکنگ کے لیے مرکزی دفتر رابطہ کرتے ہیں، لیکن وہاں ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہ صورتِحال یقیناً خطے میں سیاحت کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے

    اس وقت اسلام آباد سے دبئی اور مسقط  کا دوطرفہ ٹکٹ 22000 روپے سے زیادہ  نہیں ہے۔ اسلام آباد اور دبئی کے مابین آنے جانے کے ہوائی سفر کا دورانیہ نان سٹاپ پروازوں پر 3 گھنٹے اور ون سٹاپ والے پر کم و بیش 6 گھنٹوں کا ہے جبکہ اسلام آباد اور سکردو کی فضائی مسافت صرف 35 منٹ کی ہے لیکن اس کا دو طرفہ  ٹکٹ 36940 روپے کا ہے۔ یہ صورتحال گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ  قومی ادارے کی جانب سے امتیازی سلوک کی بد ترین مثال ہے۔ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے لہذا حق تو یہ تھا کہ اس کے باقاعدہ طور پر قومی دھارے میں شامل ہونے تک ماضی کی طرح پی آئی اے کرایوں میں سبسڈی رکھی جاتی، یہ نہیں ہوسکتا تو کم ازکم مسافروں سے اُتنا کرایہ لیا جائے جو 35 منٹ کے سفر کا بنتا ہے۔ صرف یہی نہیں، زیادتیوں کے اور سیاحت کی حوصلہ شکنی کے مزید بھی حیلے کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پہ اگر جہاز پر نشست مختص کرانے کے بعد تاریخ میں تبدیلی کرانی پڑے تو فی ٹکٹ 2500    روپے وصول کئے جاتے ہیں۔ کسی مسافر سے مجبوری کے تحت فلائٹ چھوٹ جائے تو اُس پہ 4000 روپے جرمانہ لگایا جاتاہے۔ ہوائی اڈے پر چیک اِن کے دوران مسافر کا سامان 20 کلو گرام سے زیادہ ہو جائے تو پہلے فی کلو گرام کے حساب سے اضافی رقم وصول کی جاتی تھی لیکن اب ایک کلو بھی اوپر چلا جائےتو 5000 روپے اضافی وصول کرلیے جاتے ہیں۔

    جن علاقوں کو ملکی وغیرملکی سیاحوں کے لیے کھولنے کا وعدہ کیاگیاتھا وہ ابھی تک بند ہیں۔ گانچھے میں یوچونگ اور کاندے، شگر میں داسو اور استور میں چلم سے آگے جانے سے بلتستان کی مقامی آبادی کو بھی روکا جارہا ہے تو غیرملکی سیاحوں کی وہاں تک رسائی کیسے ممکن ہوگی؟ اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بیانات سے ہٹ کر عملی سطح پہ حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے نہ صرف یہ کہ غیرسنجیدہ ہے بلکہ الٹا ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے یہ شعبہ مزید تنزلی کا شکار ہو رہا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleجنگ زدہ مسلم خِطوں کا حال اور ممکنہ مستقبل
    Next Article بیلٹ اینڈ روڈ فورم : ’’چین استعماری عزائم نہیں رکھتا‘‘
    قاسم نسیم

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by