Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»جنگ زدہ مسلم خِطوں کا حال اور ممکنہ مستقبل
    کالم

    جنگ زدہ مسلم خِطوں کا حال اور ممکنہ مستقبل

    سرتاج خانBy سرتاج خاناپریل 27, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    موجودہ سال بڑی مغربی طاقتوں کے خلاف برسرپیکار مسلم مزاحمتی تحریکوں، افغان طالبان اور داعش کے انجام کارکے حوالے سے کئی حوالوں سے اہم ہے۔ تحریک طالبان افغانستان اور عراق وشام کی سرحدی پٹی پر ابھرنے والی داعش دو مختلف مراحل سے گزر رہی ہیں۔ جب افغان طالبان امریکا سے بات چیت میں مصروف تھے، اسی وقت داعش شام میں کرد ملیشیا(ایس ڈی ایف) کے ہاتھوں اپنے آخری ٹھکانے باغوز میں شکست کا سامناکررہی تھی۔

    افغان طالبان ایک طرف امریکہ کے ساتھ افغانستان میں اس کے کردار اور امن وامان کے حوالے سے چیت میں مصروف ہیں، اور ساتھ ہی  جنگ پر بھی آمادہ نظر آتے ہیں۔ افغان حکومت اور عوام میں بہت سارے ایسےعناصر موجود ہیں جو طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت اور طے پائے جانے والے ممکنہ معاہدے کے خلاف ہیں۔ لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پرانے متشدد گروہوں کی بڑی تعداد اب جنگ کو حل نہیں سمجھتی۔ اس ضمن میں سب سے اہم تبدیلی یہ واقع ہوئی ہے کہ کمیونسٹ اور سابقہ افغان جہادی امریکی مخالفت کی مسلح جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کرکے افغانستان کی تعمیرنو اور سیاست سے وابستگی کے نام پر پرامن سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔ گلبدین حکمت یار اس سلسلہ کی آخری کڑی تھے جنہوں نے مسلح جہاد چھوڑ کر سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ یہ بات بھی اہم ہے  کہ افغانستان میں 22 دسمبر 2001 تا 29 دسمبر 2014 تک صدر رہنے والے حامد کرزئی بھی سویت یونین کے خلاف افغان جہاد (1979–1989) میں سرگرم رہے ہیں۔ پرانے جہادیوں میں کئی ایسے تھے جنہوں نے روس کی طرح امریکہ سے بھی جنگ جاری رکھی۔ جلال الدین حقانی اورگلبدین حکمت یاران میں زیادہ نمایاں رہے۔ گلبدین کی حزب اسلامی کا ایک دھڑا ڈاکٹرغیرت بہیر کی قیادت میں پہلے ہی جہاد چھوڑ کرسیاست میں داخل ہوچکا تھا۔ البتہ جلال الدین نے ذرا مختلف شناخت کے ساتھ جہاد جاری رکھا۔ امریکہ اس جہادی دھڑے کے لیے حقانی نیٹ ورک نام استعمال کرتاہے۔ یہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف متحرک رہا۔ حالیہ امریکی مذاکرات اورافغانستان میں طالبان کی جنگ میں کامیابی نے طالبان کوایک بڑی قوت کے طور پہ پیش کیا ہے۔ اب افغانستان میں جہادی تحریک ایک بہت بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔

    طالبان کی تحریکِ مزاحمت نے نوجوانوں کو اس طرح متاثر نہیں کیا جس طرح داعش دنیا بھر کی مزاحمتی تحریکوں اور بالخصوص یورپی مسلم نوجوانوں کے لیے متاثرکن ثابت ہوئی

    دوسری طرف دولت اسلامیہ یا داعش نے شام اورعراق کے مخصوص حالات میں پرورش پائی تھی۔ اس نے مشرق وسطی میں عرب بہار کے دوران عین بحران، جنگ اور بغاوتوں میں اپنا راستہ بناتے ہوئے عراق اور شام کی سرحد پر اپنی خلافت قائم کی جوپانچ سال تک کسی نہ کسی شکل میں قائم رہی۔ داعش کا ظہور القاعدہ کے بطن سے ہوا، البتہ اس کے مقاصد میں صرف امریکا و سامراجی قوتوں کے خلاف جہاد شامل نہیں تھا بلکہ اسے خطے میں ایران، سعودی عرب اور قطر جیسی ریاستوں کی لڑائی میں پراکسی کے طور پہ بھی دیکھاگیا۔ چونکہ یہ بڑی تباہی اور خونریزی میں سے ابھری لہذا یہ اپنے پیشرو مسلح جہادی گروہوں القاعدہ و طالبان سے زیادہ خطرناک بن کرسامنے آئی۔ اس نے دنیا بھر میں تحریکوں اور نوجوانوں کو متاثر کیا۔ طالبان کی تحریکِ مزاحمت نے دیگر مسلم ممالک کے عوام کو اس طرح متاثر نہیں کیا جس طرح داعش دنیا بھر کی مزاحمتی تحریکوں اور بالخصوص یورپی مسلم نوجوانوں کے لیے متاثرکن ثابت ہوئی۔ تحریکِ طالبان افغانستان کے سربراہ ملامحمد عمراور داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی اگرچہ دونوں ہی خانہ جنگی اور داخلی بحران کے نتیجے میں سامنے آئے تاہم ان کی حکمتِ عملی کافی مختلف رہی۔

    اِس وقت داعش کو عراق وشام میں شکست ہوچکی ہے۔ امریکی صدرٹرمپ نے دولت اسلامیہ کے زیرِقبضہ علاقوں کے ان سے چھن جانے پر کہا تھا کہ داعش کی شکست ان کے جھوٹے بیانیے پر دلالت کرتی ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ داعش اپنی توقیر اور طاقت کھوچکی ہے۔ لیکن بی بی سی کے مطابق علاقے واگزار کرا لینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ داعش کومکمل شکست ہوگئی ہے۔ اس سے وابستہ 15 تا 20 ہزارمسلح افراد خطے میں ابھی بھی سرگرم ہیں اوران کی واپسی کے امکانات بھی کافی ہیں۔ داعش کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ دولت اسلامیہ ختم نہیں ہوئی۔ یہ بات افغانستان پر امریکی حملے کے اولین سالوں کی صورتِ حال سے مماثل ہونے کی بنا پر اہم ہو جاتی ہے کہ طالبان کی مزاحمتی تحریک بھی امریکی حملے کے دوسرے برس کے اواخر میں کافی کمزور پڑ گئی تھی لیکن کچھ عرصے بعد انہوں نے نئی قوت کے ساتھ امریکا کے خلاف مزاحمتی تحریک کا ازسرِ نو آغاز کیا تھا۔

    افغانستان اور عراق و شام کی اس نئی صورتِ حال کے اسلامی دنیا اور مسلم مزاحمتی تحریکوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس ضمن میں سب سے اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ دولت اسلامیہ  کی اب حکمتِ عملی کیا ہوگی؟ کیا وہ طالبان کی طرح گوریلا جنگ کی جانب جائے گی اور بالآخر بات مذاکرات پر آرکے گی؟ یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ افغانستان میں طالبان کا مستقبل کیا ہوگا؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسیاسی جماعتیں صدارتی نظام سے خوفزدہ کیوں؟
    Next Article گلگت بلتستان میں سیاحت کا شعبہ متأثر ہو رہا ہے
    سرتاج خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by