Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»ایران میں وزیراعظم کے دورے کو کس طرح دیکھا گیا؟
    رواں تبصرے

    ایران میں وزیراعظم کے دورے کو کس طرح دیکھا گیا؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 25, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    وزیراعظم عمران خان ایران کے دو روزہ دورے سے واپس آچکے ہیں۔ یہ  دورہ کئی طرح سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا لیکن پاکستان میں اس کے سنجیدہ پہلؤوں پر بہت کم گفتگو کی گئی۔ ایران میں اس کو کس نظر سے دیکھاگیا، وہاں کتنی دلچسپی ظاہر کی گئی۔ یہ جاننے کے لیے چند سیاسی بیانات، اخباری سرخیاں اور صحافیوں کی آراء یہاں پیش کی جاتی ہیں۔

    وزیراعظم کے ایران پہنچنے پر ایرانی اخبار ’’آفتاب‘‘ نے لکھا کہ عمران خان کا دورہ پاکستان کی مجبوری ہے۔ جس ملک میں پچیس فیصد شیعہ آبادی بستی ہو اس کے وزیراعظم کا مشہد آنا سمجھ میں آسکتا ہے۔ ’’اعتماد‘‘ نامی اخبار نے یہ سرخی لگائی ’’بالآخر ایران میں‘‘۔ یہ اشارہ تھا کہ پہلے تو سعودی عرب تشریف لے گئے، اب ایران بھی آہی گئے۔

    پاکستانی سیاسی امور کے ماہر وتجزیہ کار محمد ملازھی نے ’’آرمان‘‘ نام کے اخبار میں کالم لکھا اور توقعات ظاہر کیں کہ عمران خان ایران و سعودیہ کے مابین تعلقات بہتر کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ صحافی محمد نیک بخش نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی جیت سے قبل تک ایسے محسوس ہوا تھا کہ عمران خان اپنے پیشروں سے قدرے الگ ثابت ہوں گے لیکن وہ آٹھ ماہ بعد ایران کے دورہ پر آسکے۔ صحافی نوذر شفیعی نے آرمان اخبار میں اپنے خیالات کا اس طرح اظہار کیا ’’ایک وقت تھا پاک ایران سرحد امن اور دوستی کی علامت سمجھی جاتی تھی لیکن اب وہاں بدامنی ہے۔امید ہے عمران خان سرحد کو محفوظ وپرامن رکھنے میں دلچسپی دکھائیں گے‘‘۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے رکن مرتضی صفاری کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان سعودی عرب کی جانب پہلے گیا ہے تو وہ اس کی ضرورت تھی۔ سعودی عرب نے اس کے ساتھ تعاون کیا۔ ہم جن مالی مشکلات سے گزر رہے ہیں اس حالت میں پاکستان کی مدد کرنا مشکل تھا۔ بہرحال اس سے اغماض ممکن نہیں کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان توازن چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہوسکتا ہے عمران خان سعودی عرب کا کوئی پیغام بھی ساتھ  لائے ہوں۔ اگر پاکستان دونوں ملکوں کو قریب کرسکتا ہے تو بہت اچھی بات ہوگی۔

    ایرانی رہبرمعظم علی خامنہ ای نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کہا کہ دشمن ہمارے تعلقات خراب کرنا چاہتا ہے۔ ہماری سرحد پہ کچھ دہشت گرد جماعتیں فعال ہیں جنہیں دشمن کی جانب سے پیسہ اور اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے تعلقات تاریخی ہیں، ہم انہیں مزید مضبوط کریں گے۔

    اگر ان سیاسی بیانات اور صحافتی حلقے کے ردعمل کودیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں اس دورہ کو خوش آئند تو قرار دیاگیا لیکن وہ بہت زیادہ پرجوش نظر نہیں آئے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتصوف کی روایت میں انسان دوستی
    Next Article سیاسی جماعتیں صدارتی نظام سے خوفزدہ کیوں؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by