Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»بلوچستان کے آدھے سچ
    رواں تبصرے

    بلوچستان کے آدھے سچ

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 19, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع گوادر میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد ’’براس‘‘ نے کچھ بسوں کو روک کر ان میں سے 14 مسافروں کو باہر نکال کے قتل کردیا۔ وزیراعظم نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ اس میں بھارت ملوث ہے۔ سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ہم اس واقعہ کے ذمہ داران کو عبرت کی مثال بنا دیں گے۔

    اس واقعہ کے بعد ایک تو سوشل میڈیا پر پنجابی بلوچ کے حوالے سے بحث چھڑی کہ مرنے والے اور مارنے والے کس نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ بلوچستان میں جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قاتل اور مقتول کا قبیلہ و زبان کیا تھے۔ اس کے بعد تقسیم شروع ہوجاتی ہے۔ کچھ مذمت کرتے ہیں اور کچھ تاویلات پیش کرتے ہیں۔ نہ تو خود سماج کے اندر شہریت کی قدر پختہ ہے اور نہ ریاست نے کبھی کہا کہ اس سرزمین پر بسنے والے تمام لوگ صرف شہری ہیں اور مساوی ہیں۔ دوسری طرف ریاست کی جانب سے ہمیشہ کی طرح تمام پہلوؤں سے توجہ ہٹاکر صرف یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ غیر ملکی مداخلت کا شاخسانہ ہے۔ درست ہے کہ بلوچستان میں غیرملکی مداخلت ہوگی۔ لیکن اس کا راستہ اس وقت کھلتا ہے جب سماج میں کچھ لوگ ناراض ہوجاتے ہیں اور پھر ان ناراض لوگوں کو ہم اپنا دشمن  کہہ کر مسترد بھی کر دیتے ہیں۔ مسترد کیے جانے کا احساس ہیجان اور سخت ناہمواریت کو جنم دیتا ہے اور لامحدود جبر لامحدود آزادی کی خواہش کو پیدا کرتا ہے۔ جب یہ حالت ہوتی ہے تو پھر باہر سے مداخلت بھی ممکن ہوجاتی ہے۔

    بلوچستان میں ہر طرح کی مسلح بغاوت کو ختم کرنے کے لیے ریاست کے پاس صرف یہ حل ہے کہ وہ باغی جماعتوں کے مقابل کچھ اور مسلح جماعتوں کی پشت پناہی کرتی ہے جنہیں محب وطن کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی سے بلوچ سماج میں صرف تقسیم گہری ہوئی ہے اور تشدد کو تحفظ ملا ہے۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کی پہلی سیڑھی یہ ہے کہ وہاں آزاد سیاسی عمل کو پنپنے دیا جائے۔ بلوچوں کے تمام مسائل آزاد اور خودمختار بلوچ سیاسی نمائندے حل کریں جن پر وہ اعتماد کرتے ہوں۔ سماج اور ریاست بلوچ کے ساتھ لفظی ہمدردی کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن اس کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کے لیے اس کی خواہش کا احترام نہیں کرتے۔

    بلوچ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کے مسائل کس قدر شدید اور تکلیف دہ ہیں، بلوچستان سے باہر بیٹھے لوگ یہ جانتے ہی نہیں ہیں۔ انہیں صرف یہ علم ہے کہ بلوچستان میں کچھ لوگ آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے مکمل اور درست حقائق سامنے  لائے ہی نہیں گئے۔ ہمیشہ مدھم حقائق اور ادھوری باتیں کی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ جب ہم مشکلات حل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو خو کو مطمئن کرنے کے لیے اور خوف کے احساس سے چھٹکارا پانے کے لیے آدھے سچ بولتے ہیں، آدھے سچ سننا چاہتے ہیں۔ سماج تو اس کا عادی ہوگیا ہے اور ریاست کی یہ پالیسی ہے۔ اگر یہ رویہ یونہی جاری رہا تو کہا جاتا ہے کہ آدھا سچ اندیشوں کو حقیقت میں بدل دیتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہتھکڑی ڈال دی ظالم نے قضا سے پہلے
    Next Article بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by