Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتالیں: حتمی حل تلاش کرنے کی ضرورت
    رواں تبصرے

    ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتالیں: حتمی حل تلاش کرنے کی ضرورت

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمارچ 30, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    راولپنڈی سنٹرل ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) نے کل بروز جمعہ سے ہڑتال کا اعلان کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے شعبہ بیرونی مریضاں (OPD)کے داخلی دروازے کو تالا لگا ہوا ہے۔ ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نعمت اللہ کے مطابق متبادل کے طور پر جن ڈاکٹرز کو مریضوں کے علاج کے لیے لایا جاتا ہے YDA والے آکر اسے زبردستی اٹھادیتے ہیں۔ ہڑتال آج بھی جاری رہی۔ ڈاکٹرز کے مطالبات میں سابق سپرنٹنڈنٹ طارق نیازی کی بحالی، تنخواہوں میں اضافہ اور سکیورٹی میں بہتری شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہڑتال سوموار کوبھی جاری رہے گی۔ انہوں نے ہولی فیملی میں بھی احتجاج کی دھمکی دی ہے۔

    پرامن اور بے ضرر احتجاج ہر شہری کا حق ہوتا ہے اور یہ حق ڈاکٹر طبقے کو بھی حاصل ہے۔ لیکن ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں پچھلے چند سالوں سے جاری ڈاکٹرز کی مسلسل ہڑتالوں کی وجہ سے یہ قضیہ جو شکل اختیار کرتا جا رہا ہے وہ افسوسناک ہے اور اس پر  غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی ہڑتالوں کے دوران پیدا ہونے مسائل میں حکومت ڈاکٹرز کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے اور ڈاکٹرز حکومت پر الزام دھرتے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان زندگی موت کی کشمکش میں پڑے مریض بے بسی اور لاچاری کی تصویر ہوتے ہیں۔اس مسئلہ کو تین حوالوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے:

    ڈاکٹرز اور مریضوں کے مابین ایک خاص سماجی معاہدہ ہوتا ہے جس میں انسانی جان کو پہلی ترجیح دیے جانے کی بات ہوتی ہے اوراسی سماجی معاہدہ کی وجہ سے معاشرے میں معالج کو زیادہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ ڈگری لیتے وقت یہ حلف اٹھاتے ہیں کہ مریض کو ہر شے پر مقدم رکھیں گے۔ لیکن آئے روز کی ہڑتالوں کی وجہ سے مریض جن تکالیف سے گزرتے ہیں یا کئی زندگی سے ہار جاتے ہیں، اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اس سماجی معاہدے کی حیثیت کیا رہ گئی ہے اور اسے کیسے بحال کیا جاسکتا ہے؟

    دوسری چیز یہ ہے کہ میڈیکل کالجز جو ملک میں طب کی تعلیم دے رہے ہیں کیا وہ اپنے طلبہ کو صرف علاج کا ہنر اور پیسے کمانے کا طریقہ سکھاتے ہیں؟ ان اداروں کے نظم اور طبی اخلاقیات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آخر کیاوجہ ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کسی کی جان کی پروا کیے بغیر ہسپتال کے نظام کو معطل کردیتے ہیں۔

    تیسرا اور اہم کردار حکومت کا ہے۔ ڈاکٹراور مریض، دونوں کے مسائل حل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ حقیقی اتھارٹی بھی اسی کے پاس ہے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ ہڑتالوں کے سلسلے کو روکنے کے لیے کوئی حتمی حل تلاش کرے اورمیڈیکل کالجز و ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر حقِ احتجاج کاکوئی ایسا قانون بھی وضع کیا جائے کہ جس میں کسی کو ضرر لاحق نہ ہو تاکہ مریضوں کو اذیت اور موت سے بچایا جاسکے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپروپیگنڈا اور انسانی نفسیات سے کھلواڑ
    Next Article وزیراعظم کا ’’احساس‘‘ غربت میں کمی لانے کے لیے کافی نہیں
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by