Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»اقلیت کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے
    رواں تبصرے

    اقلیت کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمارچ 24, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سندھ کے قصبہ ڈہرکی میں  ہولی کے دن مبینہ طور پر دو نوجوان لڑکیوں کے تبدیلی مذہب اور نکاح کے بعد ملک کی ہندو برادری سراپا احتجاج ہے اور خاندان والوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایسا جبری طور پر کیا گیاہے۔

    عورت فاؤنڈیشن اور تنظیم ایم ایس پی کے مطابق پاکستان میں ہر ماہ لڑکیوں کے جبرا تبدیلی مذہب کے تقریبا 20 سے 25 واقعات سامنے آتے ہیں جن میں اسلام قبول کروانے کے بعد اُن سے نکاح کرلیا جاتا ہے۔ یہ واقعات ملک میں تسلسل کے ساتھ  ہو رہےہیں لیکن  آبادی کا اکثریتی طبقہ ایسے خاموش ہے جیسے یہ جرم ہی نہ ہو اور ریاستی عملداری کا عالم یہ ہے کہ پولیس رپورٹ درج کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اگر اتفاق سے کوئی واقعہ زیادہ شدت کے ساتھ منظر عام پر آجائے توعدالت میں لڑکی کے بیان کے بعد کہ اس نے مرضی سے اسلام قبول کیا ہے عدالت مزید تفتیش کی زحمت نہیں کرتی، کہ ہوسکتا ہےاس نے دباؤ اور خوف سے یہ بیان دیا ہو۔

    ایسے واقعات زیادہ تر سندھ میں پیش آتے ہیں اور ان کی پشت پناہی پِیر اور سیاسی وڈیرے کرتے ہیں جن کا اثرو رسوخ انتہائی زیادہ ہے۔ اقلیتی برادری اور سول سوسائٹی کے مسلسل احتجاج کے بعد ان کی روک تھام کے لیے سندھ اسمبلی نے  2016 میں ایک بِل منظور کیا تھا لیکن مذہبی طبقے کی سخت مخالفت کے باعث اس پرعملدآمد نہیں ہوسکا۔ جب یہ بِل پاس ہوا تو علما کی ایک کمیٹی جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی نمائندگی بھی شامل تھی، نے عبدالقیوم سومرو سے ملاقات کی اور کہا تھا کہ یہ بِل اسلامی احکامات کے منافی ہے۔ ان کے تحفظات میں ایک چیز یہ بھی شامل تھی کہ شادی اورتبدیلی مذہب کے لیے عمر کی مخصوص حدبندی جائز نہیں ہے۔ جب انہوں نے اس پر عملدآمد کی صورت میں سخت ردعمل دینے کی دھمکی دی تو صوبائی حکومت نے اس پر چپ سادھ لی۔

    اب جبکہ حالیہ واقعہ پر ملک کے اندر اور باہر  شدید احتجاج کیا جا رہا ہے تو وزیراعظم نے بھی نوٹس لے لیا ہے اور سندھ حکومت نے بھی کہا ہے کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ کے بل کو دوبارہ اسمبلی میں لائے گی لیکن جب تک قانون پہ عملدرآمد نہ ہو اقلیت کاریاست وسماج پر اعتماد بحال نہیں ہوسکتا، نہ ان کے بچوں کو تحفظ مل سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپختونخوا کا نیا پانچ جماعتی اتحاد
    Next Article خوشحالی کا راستہ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by