Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»دہشت گردی انا کا نہیں، ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے
    رواں تبصرے

    دہشت گردی انا کا نہیں، ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمارچ 22, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    بدهہ کی شام پلوامہ حملہ کے بعد پاک بهارت تنازعہ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات کرے، اگر بهارت میں  کوئی اور بڑا حادثہ وقوع پذیر ہوا تو پاکستان کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔

    اس بیان سے ایک بار پهر جو چیز واضح ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان پر بهروسہ نہیں کرتی اور دہشت گردی کے خلاف اس کی تمام کوششوں کو شک کی نگاہ سے دیکهتی ہے۔ حالیہ تنازعہ میں ایک طرف بھارت کا یہ موقف تھا کہ پلوامہ حملہ پاکستان نے کرایا ہے، بطور شاہد ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی۔ پاکستان نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ مضبوط شواہد پیش کیے جائیں۔ دوسری طرف بھارت کا یہ دعوی بھی تھا کہ اس نے بالاکوٹ میں فضائی کاروائی کی ہے اور اس کے بعد دوبارہ بھی اس کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا۔

    اس منظرنامے میں پہلی چیز بھارت کی محض اپنے دعوے کی بنیاد پر دو مرتبہ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی ہے جس پر چاہیے تو یہ تھا کہ عالمی برادری بھارت کی سرزنش کرتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اِس خلاف ورزی کو کوئی بڑی بات نہیں سمجھاگیا۔ اوراس کے ساتھ پلوامہ حملہ تھا جس پر پاکستان کے مطابق قوی شواہد موجود ہی نہیں تھے لیکن دنیا نے پاکستان پر اعتبار نہیں کیا بلکہ بھارت کی کاروائی کو بھی پلوامہ کے ردِعمل کے طور پر دیکھا گیا۔ پاکستان یہ بھی کہتا رہا کہ حملہ آوار مقامی کشمیری تھا دنیا اس واقعہ کو کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی کے تناظر میں دیکھے مگر اسے بھی نظر انداز کردیا گیا۔

    ہم ایک عرصے سے عالمی برادری کوقائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم امن پسند ہیں۔ ہم ہر فورم پر کہتے ہیں کہ پاکستان ستر ہزار شہریوں کی قربانی دے چکا ہے پھر بھی ہم پہ کوئی اعتماد کرنے کوتیار نہیں، بلکہ ہمیشہ یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ کاروائی کی جائے۔ بہت زیادہ قربانیوں اور کوششوں کے اعتراف کے ساتھ ہمیں سوچنے ضرورت ہے کہ کیا واقعی پاکستان اس قضیہ پر مضبوط ،ٹھوس اورر بلاتفریق اقدامات کر رہا ہے یا نہیں۔ اس صورتحال میں کہ جب اپوزیشن سے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی کئی بار اعادہ کرچکے ہیں کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہیں کر رہی، باقی دنیا ہم پر کیسے اعتبار کرے گی؟

    کہیں ایساتو نہیں کہ ہم اس لیے دہشت گردوں کو کٹہرے میں نہیں لارہے کہ ایسا کرنے کا مطالبہ ہم سے بھارت جیسا ملک بھی کرتا ہے۔ کیا صرف اس لیے کہ وہ بھی اپنے شدت پسندوں کی پشت پناہی کرتا ہے، ہم بھی اپنے شدت پسندوں کو اثاثے سمجھ کر انہیں تحفظ دیتے رہیں گے؟ بھارت جس منزل کی جانب جارہا ہے ہم وہاں سے ہوکر آئے ہیں۔ ہم بار بار وہ تجربات کرنے کے متحمل نہیں جن کے نتائج کا بخوبی علم ہے۔ محض کسی حریف کو نیچا دکھانے کی خاطر ہمیں اپنے گھر کے امن کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے کیونکہ دہشت گردی انا کا نہیں بلکہ ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپولیس اور تفتیشی اداروں کے ہاتھوں عوام کی تذلیل
    Next Article یومِ پاکستان: ایک عزم اور بھی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by