Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»نیوزی لینڈسانحہ: یورپ کے لیے خطرے کی علامت
    رواں تبصرے

    نیوزی لینڈسانحہ: یورپ کے لیے خطرے کی علامت

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمارچ 16, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرنٹ نے مسجد النور پر حملہ کرکے تقریبا 49 مسلم نمازیوں کو شہید کردیا۔ یہ واقعہ جس انداز سے پیش آیا اُس نے اس کے اثرات کو مزید پھیلادیا ہے اور اس کے نتائج دیرتک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ حملہ آور کی جانب سے ظاہر کی گئی علامتوں اور اس کی اپنی تحریروں کے مطابق اس کے پیش نظر دو مقاصد تھے،مسلمانوں سے نفرت کا اظہار اور سفیدفام برتری کا اعلان۔ یہ ایک آسٹریلوی شہری تھا لیکن اس نے اپنی شناخت یہ نہیں بتائی بلکہ خود کو یورپی ثقافت وسفید فام نسل کا محافظ ظاہر کیا۔ یہ سانحہ دو لحاظ سے یورپ کے لیے خطرے کی علامت بن کر ابھرا ہے:

    یورپی سماج میں نسل کی بنیاد پر تقسیم زیادہ گہری ہوگی۔ نسلی برتری کی اساس پرتفریق یورپ وامریکا میں ایک سنجیدہ مسئلہ ہے،خصوصا پچھلی ایک دہائی سے نسل پرست و دائیں بازو کے سخت گیر نظریات کے حامل سیاستدان سماج میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں اور یہ نظریاتی تشدد اب پچھلے کچھ عرصہ سے آہستہ آہستہ دہشت گردی میں تبدیل ہو رہا ہے۔نیوزی لینڈ کا واقعہ یورپ کے نسل پرستوں اور دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے جدوجہد کا استعارہ بن سکتا ہے جو متنوع نسلوں و ثقافتوں کے حامل اس سماج میں سخت مشکلات پیدا کردے گا۔

    اس کے بعدعام مسلمانوں کے اندر یورپ کے خلاف نفرت زیادہ ہوئی ہے۔ اس کا فائدہ داعش جیسی متشدد جماعتیں اٹھائیں گی اور یورپ میں رہنے والے مسلم نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرکے انہیں اپنے اہداف کے لیے استعمال کریں گی۔سانحے کے فورا بعد داعش یورپ سے انتقام کا اعلان بھی کرچکی ہے اور مسلم نوجوانوں سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ سخت ترین انتقام کے لیے آگے آئیں۔اگر مسیحی ومسلم متشدد جماعتوں کے مابین جنگ کا یہ سلسلہ آگے چلتا ہے تو مغربی ممالک میں امن وامان بہت زیادہ متأثر ہوگا۔

    قارئینِ تجزیات اس بارے اپنی رائے کااظہار اسی صفحے پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکیا افغان طالبان پاکستان سے دُور ہو رہے ہیں؟
    Next Article پی ایس ایل: نوجوان، شہرکاری اور وطن پرستی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by