Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»پاکستان میں حقوق کی جدوجہد
    تما م آرٹیکلز

    پاکستان میں حقوق کی جدوجہد

    میگزین رپورٹBy میگزین رپورٹمارچ 1, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان میں حقوق کی صورتحال مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر پیچیدہ اور تشویشناک ہے۔ لیکن ان میں سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ریاست اور معاشرہ شاید ابھی تک انسانی حقوق کے اس تصور کا مکمل طور پر قائل ہی نہیں ہوپایا جس کا ابلاغ اور ترویج زیادہ تر مغربی دنیا کی طرف سے ہوتا ہے۔ایک طرح سے حقوق کی جدوجہد کو پاکستان میں اسی طرح کی مشکل درپیش ہے جس کا سامنا ایک مذہبی رجحانات رکھنے والی جدید قومی ریاست کو ہوسکتا ہے۔
    پاکستان کا آئین بنیادی انسانی حقوق کا ایک مفصل خاکہ پیش کرتا ہے جس میں پاکستان کے شہریوں کو بغیرکسی مذہبی یا دیگر امتیازات کے کم وبیش وہ تمام آزادیاں میسر ہیں جوجدید دنیا کے کسی بھی ملک میں ہوسکتی ہیں۔لیکن ان پر کس حدتک اور کیسے عمل ہو رہا ہے ،یہ بات قابلِ بحث ہے۔ مثال کے طور پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP)نے 9 دسمبر2018 ء کو ’’انسانی حقوق کے عالمی منشور (UDHR)‘‘کے ستر سال پورے ہونے کی نسبت سے لاہور میں پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس کا انعقاد کیا۔ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر دیگر ممالک کی طرف سے پیش کیے جانے والے خدشات اور سفارشات میں بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ اور تأثر کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ UDHR کا دستخط کنندہ ہونے کی حیثیت سے یہ ریاست کی ذمہ داری بھی ہے۔
    یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں حقوق کی جدوجہد اور ریاست کو بھی اس ضمن میں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں ۔خاص طور پر دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی ،قوانین اور پالیسیوں کے نفاذ ،متعلقہ استعداد کار کے مسائل،شعوروآگہی کی کمی ،وسائل کی قلت اور کمزور گروہوں کا تحفظ وغیرہ۔ فی الوقت حقوق کی جدوجہد کے مسائل کا بخوبی ادراک مذہبی اقلیتوں، عورتوں اور میڈیا کو درپیش خطرات سے ہوجاتا ہے۔

    خاص طور پر جس طرح کچھ لوگ اور گروہ توہینِ مذہب کے قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں اس سے نہ صرف مذہبی اقلیتوں بلکہ اکثریتی مسلمان طبقے کے افراد کے حقوق بھی متأثر ہوتے ہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ:
    (الف) وہ آئین وقانون کا نفاذ بلاتفریق اور بغیر کسی مصلحت کے کرے ۔
    (ب) کسی بھی طبقے کو مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ یا اسی نوعیت کے دیگر عوامل کی بنیاد پر لوگوں کے حقوق اور آزادیوں سے نہ کھیلنے دے۔
    (ج) خود ریاست بھی کسی ایسے جواز کا سہارا لے کر حقوق پر قدغن نہ لگائے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان کا علمی وفکری منظر نامہ اور نظامِ تعلیم
    Next Article مؤثر ترین وزیراعظم
    میگزین رپورٹ

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by