Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»کیا نئے چیف جسٹس عدالتی اصلاحات میں کامیابی حاصل کر پائیں گے؟
    رواں تبصرے

    کیا نئے چیف جسٹس عدالتی اصلاحات میں کامیابی حاصل کر پائیں گے؟

    حذیفہ مسعودBy حذیفہ مسعودجنوری 19, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    جسٹس ثاقب نثار  چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے اپنی مدتِ ملازمت ختم ہونے کے بعد سبکدوش ہو گئے ہیں اور ان کی جگہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نئے چیف جسٹس  آف پاکستان کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار اپنے کئی فیصلوں، اقدامات اور بیانات کے سبب متنازعہ رہے۔ انہوں نے کئی از خود نوٹس لیے اور تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر انتظامی شعبہ جات  میں اصلاحات کی غرض سے  غیر معین دورے کیے ۔ وہ ایک متحرک چیف جسٹس کے طور پر اپنے مسند پر براجمان رہے  تاہم عدالتی اصلاحات اور نظامِ عدل میں موجود خامیوں پر ان کی توجہ کم رہی اور وہ اس حوالے سے محض چند ایک از خود نوٹسزکے سواترجیحی  بنیادوں پر کوئی اقدامات نہیں اٹھا سکے۔

    نئے چیف جسٹس ، جسٹس آصف سعید کھوسہ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی مدتِ ملازمت میں گیارہ ہزار فوجداری مقدمات سمیت  مجموعی طور پر ۵۵ ہزار مقدمات کی سماعت کی۔ وہ عدالتی مقدمات میں بلا وجہ التوا کے قائل نہیں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ میں تعیناتی کے دوران انہوں نے  گذشتہ  4 سال میں گیارہ  ہزار زیرِ التوا مقدمات نمٹائے ہیں۔وہ اپنے فیصلوں میں ادبی حوالوں کی بنا پر بھی جانے جاتے ہیں،  ’’گاڈ فادر‘‘ کی اصطلاح انہوں نے ہی استعمال کی تھی جس کا قومی افق پر بہت چرچا رہا۔

    سب سے اہم بات انہوں نے میثاقِ حکمرانی  طے کرنے کے حوالے سے کی  اور انہوں نے  اس خیال کا اظہار کیا کہ وہ  صدرِ مملکت سے درخواست کریں گے کہ وہ انتظامی  و سیاسی ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے ، مقننہ، عدلیہ، فوج ، انتظامیہ اور خفیہ اداروں سمیت تمام تر ریاستی اداروں کا اجلاس بلا کر اپنے اپنے دائرہِ کار اور حلقہِ اختیار کے تعین پر ایک معاہدہ کریں تاکہ ہم اداراتی مسابقت اور مقابلے بازی کے اس ماحوال سے باہر نکل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے ۔ نئے چیف جسٹس کا یہ عزم انتہائی حوصلہ افزا ہے مگر کیا ہمارے ادارے واقعتاًاپنی سابقہ روش سے ہٹ کر ایک نئے ڈھب پرآگے بڑھنا چاہیں گے؟   کیا ہمارے ریاستی ادارے ملک کے وسیع تر مفاد میں اداراتی رنجشیں اور شکوے شکایات بھلا کر نظمِ ریاست  میں اصلاحات کے لیے کسی اتفاقِ رائے پر پہنچ پائیں گے یا وہ عملاً اس کی لاج بھی رکھیں گے؟

    نئے چیف جسٹس نے اگرچہ اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ از خود نوٹسز کی روایت  کم کریں گےاور عدالت کے دائرہِ اختیار کے احترام، عدالتِ عظمیٰ کے حوالے سے موجود بداعتمادی کے خاتمے اور عدالتی انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی کوشش کریں گے۔ انہو  ں نے  بالخصوص عام آدمی کو درپیش سب سے نمایاں مسائل میں سے چند ایک، جیسے کہ جھوٹے گواہان، جعلی عینی شاہدین، غیر سنجیدہ قانونی چارہ جوئی اور مقدمات میں التوا    وغیرہ  کی بابت بات کرتے ہوئے ان کے حل پر توجہ مرکوز رکھنے کی بھی بات کی۔ تاہم  سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس مسند پر برجمان رہنے کی اس مختصر مدت میں اتنی اصلاحات کر پائیں گے؟  کیا ان کے پاس اس حوالے سے کوئی فریم ورک ہے  کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ان مسائل سے نمٹ سکیں؟ مسائل کا ادراک اپنی جگہ لیکن چیف جسٹس کے لیے سب سےبڑی مشکل  یہ ہے کہ  کیا  وہ ان مسائل کا حل  دینے  یا ان کے حل کی بنیادیں فراہم کرنے میں کام یاب ہو پائیں گے؟
    قاریین ِ تجزیات اس بارے میں  اپنی آرا کا اظہار اسی صفحے پر نیچے جا کر کرسکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسماجی ہم آہنگی، رواداری اور تعلیم
    Next Article رواداری طرزِ فکر میں تبدیلی سے آسکتی ہے
    حذیفہ مسعود

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by