Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»دہشت گردی کامکمل تدارک کیسے ممکن ہے؟
    رواں تبصرے

    دہشت گردی کامکمل تدارک کیسے ممکن ہے؟

    حذیفہ مسعودBy حذیفہ مسعودجنوری 9, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سال2018 دہشت گردی کے حوالے سے گزشتہ کچھ برسوں کی نسبت کم خطرناک رہا جس کے دوران صوبہ بلوچستان کے علاوہ باقی ماندہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی اور یہ  تعداد 2017 کے مقابلے میں29 فیصد کم تھی۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ حملے  علیحدگی پسند بلوچوں نے کیے تاہم ان حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان کی شرح دیگر دہشت گردمذہبی گروہوں  کی نسبت کم رہی۔ ملک بھر میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی تعداد  11 تھی، جن میں 50 افرادہلاک  اور 45زخمی ہوئے ۔سکیورٹی اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانے کے علاوہ  سیاسی جلسوں اور شخصیات پر حملوں کے واقعات بھی سامنے آئے ۔ جانی نقصان کے حوالے سے سیاسی جلسوں پر حملے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوئے جن میں  218 افراد ہلاک اور 394 زخمی ہوئے۔

    جنوری 2019کے پہلے ہفتےمیں پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد کی جانب سے شائع کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2018 کے مطابق تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کے ذیلی گروہ بشمول داعش کا مقامی نیٹ ورک گذشتہ برس بھی ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ رہے تاہم بلوچ علیحدگی پسندوں میں خودکش حملوں کا رجحان اور چینی  سفارت کاروں اور کارکنوں پر حملوں کی صورت ایک نیا طرزِ عمل دیکھا گیا   جو انتہائی توجہ طلب ہے۔دہشت گردی کے عفریت سے مسلسل برسرِ پیکار مملکتِ پاکستان کسی نہ کسی حد تک اطمینان بخش صورتِ حال سے ہمکنار ہورہی ہے  جسے خوش آئند کہا جا سکتا ہے تاہم بلوچستان کے حالات اور یہاں کے شدت پسند گروہوں میں سامنے آنے والا نیا طرزِ عمل  سنگین مسائل کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

    دہشت گردی کے مکمل تدارک کے لیے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششیں کیا رہی ہیں اوراس صورتِ حال کے سدِ باب میں ان کا کتنا حصہ رہا ہے،یہ موضوع بحث طلب ہے۔ نیشنل ایکشن پلان، فوجی عدالتوں اور اس تناظر میں اٹھائے گئے عسکری و سیاسی پہلوؤں کا احاطہ کرتے دیگراقدامات کا منطقی  بنیادوں پر جائزہ لینا ایک ضروری امر ہے۔انتہا پسندانہ نظریات و خیالات ، جن کی بنیاد پر دہشت گردی پھلتی پھولتی اور معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھتی ہے، ان کی ترویج و اشاعت اور ان نظریات کے پرچارک  محرکین  کے ساتھ معاملہ کرنے کی سمت کیا  ہونی چاہیے اور ان کے خلاف کارروائی کے اہداف و مقاصد میں شفافیت اور غیر جانبداری کا عنصر کس حد تک لازمی ہے؟ اس حوالے سے ملک کے تمام شعبہ جات ، فوج، پارلیمان، عدلیہ  اور دیگر داخلی و انتظامی ادارے  کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟  نظام ِ عدل اور قانون میں اصلاحات جیسے معاملات اس صورتِ حال سے کس طرح منسلک ہیں ؟  ملک کے پسماندہ علاقوں میں غربت و تنگدستی کے خاتمے اور معاشی  و سماجی استحصال کی بیخ کنی  دہشت گردی و انتہا پسندی کے تدارک میں کس قدر سود مند ثابت ہو سکتی ہے؟علاوہ ازیں کون سے ایسے دیگر داخلی عوامل ہیں جو اس صورتِ حال کا باعث ہیں اور ان سے کس طرح نمٹا جا سکتا ہے؟

    ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات، سرحدی کشیدگی، خارجہ معاملات، علاقائی تناظرات، افغانستان سے امریکہ کا انخلا، طالبان اور داعش کے مابین بڑھتی ہوئی لڑائی،  افغان حکومت کی  افغان علاقوں میں  کمزور عملداری اور ملحقہ پاکستانی علاقوں پر اس کے اثرات اور اس نوعیت کے دیگر مسائل  جو بیرونی یا خارجی عوامل کہلائے جا سکتے ہیں، ان پر گہری نگاہ رکھنا اوران کے تحت خطے میں وارد ہونے والے تغیرات اور ملک  میں پالیسی سازی کے عمل میں ان مسائل کا ادراک اور ان کےاثرات و نتائج کو مدِ نظر رکھنا  کیوں ضروری ہے اور اس سے ملک کو درپیش اقتصادی، سماجی اور امن و امان سے متعلقہ مسائل کے حل میں کس قدر مدد مل سکتی ہے؟ سب سے اہم یہ کہ ہم رواں سال  کو گذشتہ سال  کی نسبت کس طرح مزید پرامن، مزید خوشحال اور مزید پرسکون بنا سکتے ہیں؟

    اس بارے میں تجزیات کے قاریین اپنی آرا کا اظہار اسی صفحے پر نیچے جا کر کرسکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتبدیلی، اقامت، قیامت اور ہماری مشکل!
    Next Article قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیلِ نو اور حکومتی اقدامات
    حذیفہ مسعود

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by