Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»سیرت رسول ﷺ پر کون عمل کرے گا؟
    تما م آرٹیکلز

    سیرت رسول ﷺ پر کون عمل کرے گا؟

    ڈاکٹر راغب حسین نعیمیBy ڈاکٹر راغب حسین نعیمینومبر 7, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    نبی کریم ﷺ کی اس جہاں میں تشریف آوری دہکتی انسانیت کو اس کا کھویا ہوا وقار دینے کے لیے تھی۔ وہ انسانیت جو جلتے ہوئے آگ کے الاؤ کے کنارے پر پہنچی ہوئی تھی۔ کہ اس میں گر پڑتی مگر آپ ﷺ نے اسے اس میں گرنے سے بچایا۔ نہ صرف خطہ عرب بلکہ کل جہاں کے لیے زندگی جینے کے نئے انداز سیکھائے۔ دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیا۔ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں تک کے حقوق کو واضح کر دیا گیا ۔ نبی کریم ﷺ کی یہ تعلیمات قیامت تک کے لیے ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔
    لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فرما کر ان تعلیمات پر عمل پیرائی کو لازم قرار دے دیا گیا۔ حتی کہ آپ کی اتباع محبت الہی کے حصول کے لیے شرط اولین قرار دی گئی۔ اور اتباع کا حقیقی وجود بغیر محبت و عشق کے نہیں آتا ہے ۔ آپ کی ذات کو تمام رشتوں سے مقدم تصور کروایا گیا۔ حتی کہ والدین آل اولاد بھی آپ پر قربان کرنی پڑے تو کوئی حرج نہیں ۔
    یقیناًعشق رسول ﷺ ایک بلند ترین جذبہ ہے ایسے ہی ناموس رسالت ﷺکا تحفظ بھی مستشرقین نے اپنے پالیسی سازوں کو یہ سمجھا دیاکہ جب تک ان مسلمانوں میں عشق رسول پر مرمٹنے کا جذبہ کارفرما ہو گا اس وقت تک ان کا اپنے مذہب سے تعلق بھی قائم رہے گا۔ اسی لیے مغرب ایسی سازشیں تیار کرتا ہے کہ جس کے نتیجے میں مسلمانوں سے یہ بلندترین جذبہ ختم کیا جا سکے ۔ اس کے لیے ایک طرف ناموس رسالت کے تحفظ کے قوانین میں ترمیم کا تقاضا کیا جاتا ہے تو دوسری طرف توہین کرنے والوں کی باحفاظت برات کو یقینی بنانے کے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ۔ پھر محبت کے جذبہ کو جانچنے کے لیے ان اقدامات کے بعد جواباً آنے والی صورتحال سے دہشت گرد قوم کا تصور ابھارا جاتا ہے ۔اسی لیے ہمیں تدبّر اورحکمت عملی سے کام لینا ہو گا کہ اظہار بھی ہو جائے اور دشمنوں کے مذموم ارادے ہمارے ہاتھوں ہی کامیاب نہ ہونے پائیں۔ آسیہ بی بی کے بارے عدالت عظمی کے فیصلہ نے انہی خدشات کو تقویت دی ہے۔ یہ کیس اس قدر حساس ہو چکا ہے کہ اس کی بدولت  ایک طرف لوئر عدالتی نظام کے نقائص اور کمیاں کھل کر سامنے آئی ہیں تو دوسری طرف عامۃ الناس کے لیے یہ پیغام ہے کہ جب تک عدالت عظمی میں ’’ نظر ثانی‘‘ کی درخواست کا فیصلہ نہ ہو جائے اس وقت تک ’’ لوئر کورٹس‘‘ کی طرف سے ملزم کو دی جانے سزا کی بنا پر اسے مجرم تصور نہ کیا جائے۔

    چاہے اس فیصلہ کے حصول میں کئی برس صرف کیوں نہ ہو جائیں۔ اسی لئے آسیہ بی بی کا فیصلہ جب عدالت عظمی نے گزشتہ فیصلوں کے خلاف کیااور شک کا فائدہ دیتے ہوئے اس کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تو پورے ملک میں عاشقانِ رسول نے اپنا جذبہ ایمانی ‘پر تشدد’ انداز میں ظاہر کیا۔ اس عمل میں نوزائیدہ عاقبت سے نابلد سیاسی مذہبی جماعت کے قائدین نے اپنی نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے جلتی پر تیل کاکام کیا۔ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے عاشقانِ رسول سے دیگر عاشقان رسول کی املاک کو 25کروڑ سے زائد کا نقصان پہنچوا دیا۔ اگر یہ صرف جذبہ محبت تھا تو اس طرح کا کوئی ایک واقعہ اور مثال دور نبوت یا صحابہ کرام ثابت کر دیں۔ عاشقانِ رسول کو جج /قاضی ،قائد اسلام، عادل حکمران اور کافرانہ سوچ کا عاشقانہ سوچ سے ہر شعبہ ہائے زندگی کاحصہ بن کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مذہبی قائدین سیرت رسول پر کیوں عمل پیرا نہیں ہیں۔ انکا کردار وگفتار کیوں سیرت رسول میں ڈھل نہیں سکا۔
    عاشقان رسول نے املاک جلا کر،لوگوں کو نقصان پہنچا کر اور تین دن پورے ملک کو یرغمال بنا کر کس سیرت رسول پر عمل کیا ہے۔ ان تین دنوں میں ہونے والے واقعات نے دنیا بھر کے سامنے مسلمانوں کی جو منظر کشی کی ہے ، اسے مشہور ہفت روزہ انگریزی رسالے ” نیوز ویک ”نے یوں اپنے سرورق پر لکھا ہے ۔
    The most dangerous nation in the world isn’t Iraq it’s Pakistan.
    سب سے زیادہ خطر ناک قوم دنیا میں عراق کی نہ ہے یہ پاکستان کی ہے ۔
    جو عشق رسول میں اتنی اندھی ہو جاتی ہے کہ خود کو جلا نا ، مارنا اور نقصان پہنچانا شروع کر دیتی ہے ۔ اب مذہبی قیادت بتائے کہ ان حالات میں آپکو قرضے کون دے گا۔ ڈیم کیسے بنائیں گے ۔ معاشی حالات کیسے ٹھیک کریں گے ۔دنیا نے تو آپکو جذباتی اور خطر ناک کہہ دیا ہے ۔
    امام احمد رضان خان ایک جگہ تحریر کرتے ہیں۔

    ”سلمان دین اسلام پر سختی کے ساتھ کار بند رہیں اور کسی دینی امر کے حصول کے لیے غیردینی ذرائع استعمال نہ کریں۔”
    بات بڑی واضح ہے کہ اس واقعہ کے رد عمل میں اور اس سے قبل مشرف اورگیلانی دور میں عاشقان رسول نے عشق رسول کے نام پر جو جلاؤ، گھیراؤ اورعامۃ الناس اور حکومتی اداروں کو نقصان پہنچایا نہ تو اس کا دین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ملکی قانون اور جو کوئی ایسا کرتا ہے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleقبائلی عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی
    Next Article مذہب ایک مشکل ہے یا مشکل کا حل
    ڈاکٹر راغب حسین نعیمی

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by