یونیورسٹی انتظامیہ نےسوشل میڈیا پر تنقید کا الزام لگا کر چھ طلباء کو یونیورسٹی سے نکال دیا۔ سوشل میڈیا پریونیورسٹی انتظامیہ بارے خیالات کے اظہار پر پابندی، طلبہ کے فیس بک اکاونٹس کی مانیٹرنگ بھی شروع کردی
پاکستان میں موجودہ تعلیمی صورتِ حال یہ ہے کہ شرحِ تعلیم کی درجہ بندی میں دْنیا کے تمام ملکوں میں سے اسلامی ملک پاکستان 113ویں نمبر پر ہے ۔ مگر ہمارے پالیسی سازوں کی ترجیحات میں تعلیم کے فروغ کے نام کی کوئی ترجیح شامل نہیں۔ اس امر کا اندازہ تعلیمی بجٹ سے کیا جاسکتا ہے جو کل بجٹ کا 2 فیصد بنتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل پچیس اے (25A)کے مطابق ہر شہری کو تعلیم کی سہولیات مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔ کسی بھی حکومت نے اس آئینی ذمہ داری کو صحیح معنوں میں پورا نہیں کیا۔اعلیٰ تعلیم پر قومی آمدنی کا صرف 0.2 فیصد صرف کرنا باعث تشویش ہے۔ کسی بھی مغربی یونیورسٹی کا تعلیمی بجٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن(ایچ ای سی) کے کْل بجٹ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ بلا شبہ کوئی بھی معاشرہ معیاری تعلیم وتحقیق کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ اسے ہماری بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی دورِ حکومت میں تعلیمی ترقی کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔پاکستان نے جب اپنے سفر کا آغاز کیا تو اس وقت پورے ملک میں صرف ایک ہی یونیورسٹی تھی جسے ہم جامعہ پنجاب کے نام سے جانتے ہیں لیکن اب پاکستان میں 183 اعلیٰ تعلیمی ادارے ہیں، جن میں سے 72 نجی یونیورسٹیز ہیں۔نجی یونیورسٹیوں کی فیس تو معاشرے میں عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہونے کے وجہ سے سرکاری یونیورسٹیوں کو فوقیت دی جاتی ہے ،فیصل آباد میں سرکاری یونیورسٹیوں کی بات کریں تو 5 یونیورسٹیوں میں ملک کے کونے کونے جبکہ کچھ یونیورسٹیوں میں غیر ملکی طالب علم بھی زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں ،انہیں یونیورسٹی میں سے زرعی یونیورسٹی دنیا بھر کی ایگری کلچر یونیورسٹیوں کی فہرست میں پہلی 100 یونیورسٹیوں میں سے 82 نمبر پر ہے ،گذشتہ دنوں زرعی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے دو نوٹیفیکشن نے تو حیران کر دیا ،یونیورسٹی انتظامیہ نےسوشل میڈیا پر تنقید کا الزام لگا کر چھ طلباء کو یونیورسٹی سے نکال دیا۔ سوشل میڈیا پریونیورسٹی انتظامیہ بارے خیالات کے اظہار پر پابندی، طلبہ کے فیس بک اکاونٹس کی مانیٹرنگ بھی شروع کردی۔ یونیورسٹی کی ڈسپلنری ایڈوائزری کمیٹی نے چھ طلبہ پر فیس بک پر یونیورسٹی کو بدنام کرنے کا الزام لگا کر انہیں یونیورسٹی سے برخاست کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ٹنل فارمنگ ڈپلومہ کے احسن صفدر سمیت مبشر علی ہاشمی، ایم ایس سی اونرز کے محمد اسفند یار جاوید، زبیر اقبال اور غلام جیلانی کو ہمیشہ کیلئے یونیورسٹی سے برخاست کیا گیا جبکہ ایم ایس سی اونرز کے عمر بلال کو دو سال کیلئے یونیورسٹی سے نکالا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق طلباء ادارے کی سرگرمیوں کے بارے دوسروں کو گمراہ کررہے تھے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی روزنامہ یو اے ایف نامی فیس بک پیج پر کی گئی پوسٹس پر کی گئی۔ فیس بک پیج پر یونیورسٹی میں ہونے والی بدانتظامیوں اور کرپشن پر تنقید کی جاتی تھی۔ مذکورہ پیج کی مقبولیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پر یونیورسٹی میں طلباء کے استحصال، بدانتظامیوں اور کرپشن کے حوالے سے انتظامیہ، خاص طور پر وائس چانسلر پر کڑی تنقید کے ساتھ ساتھ آئے روز نئے اسکینڈلز منظرِ عام پر لائے جاتے ہیں۔یونیورسٹی کے مطابق یہ کارروائی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس ریگولیشنز 1978ء کی شق نمبر 4 کے تحت کی گئی ہے۔ یونیورسٹی قوانین کے تحت طلباء 30 دن کے اندر وائس چانسلر کو اپیل کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔یونیورسٹی سے نکالے گئے تمام طالب علموں کا تعلق متوسط گھرانوں سے ہے جبکہ ان میں سے کچھ تعلیم حاصل کرنے کے بعد والدین کا ہاتھ بٹانے کے خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے دن رات تگ و دو میں رہتے تھے ،ملتان ،مظفر گڑھ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ طالب علم تو گھر والوں کو یہ بھی نہیں سمجھا سکتے کہ انہیں کس قانون کے تحت سزا دے کر یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ،متوسط طبقے کے گھرانے شاید یہ بھی نہیں جانتے ہونگے کہ انکے بچوں کو سوشل میڈیا جیسی کس بلا نے گھیرا اور یونیورسٹی والوں نے کس وجہ سے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے انہیں عبرت ناک سزا دی ، دوسری طرف برخاست ہونے والے طلباءکا کہنا ہے کہ اُن پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ ایسے کسی فیس بک بیج کے ایڈمن نہیں۔واضح رہے کہ زرعی یونیورسٹی کی جانب سے گزشتہ برس جنوری میں بھی پی ایچ ڈی ایگری ایکسٹینشن کے ایک طالبِ علم کاشان حیدر کو یونیورسٹی میں ہونے والے کسان میلے کے حوالے سے فیس بک پر تنقیدی پوسٹ کرنے کے بعد برخاست کر دیا گیا تھا۔تاہم ذرائع ابلاغ پر خبریں نشر ہونے اور وزیرِ زراعت کے نوٹس کے بعد وائس چانسلر کی جانب سے انہیں بحال کر دیا گیا تھا۔ ،اس حوالہ سے یونیورسٹی ترجمان ڈاکٹر جلال عارف کا کہنا ہے کہ مذکورہ طلبہ کو سوشل میڈیا پر بیہودہ اور فحش زبان استعمال کرنے اور غیر مناسب تنقید کی وجہ سے سزا دی گئی، لیکن اپیل کرنے کا حق ان کو دیا گیا ہے۔
اگر تنقیدی لحاظ سے یونیورسٹی کے پہلو دیکھے جائے تو یہاں بطور وائس چانسلر کام کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد کو 2008 میں تعینات کیا گیا تھا پہلی مدت کو انجوائے کرنے کے بعد سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے 2012 میں دوبارہ چار سال کی مدت کے لیے کرسی پر براجمان رہے شاید پھر بھی دل نہیں بھرا تو 2016 میں پہلے اپنی مدت میں ایک سال کی توسیع کروائی جبکہ 2017 میں بھی ایک سال مزید کرسی پر بیھٹنے کی ٹھان رکھی ہے ،ریکارڈ کے مطابق موصوف وائس چانسلر کے بھائی ڈاکٹر اظہار احمد خان اسی یونیورسٹی میں سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر جبکہ بھتیجی بینش اسرار ہوم سائنس ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے ،وائس چانسلر کے دوسرے بھائی ڈاکٹر اسرار احمد خان کنٹریکٹر ہیں اور اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی میں زیادہ تر تعمیراتی کاموں کے ٹھیکے موصوف کے بھائی کے نام الاٹ ہوتے ہیں ،محترم وائس چانسلر کا شمار بلا شبہ پاکستان کے مشہور زرعی تعلیم سے منسلک ریسرچرز میں ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر اقرار صاحب کم سے کم اتنا ہی سوچیں کہ جو کام وہ ماضی میں کرچکے ہیں یا حال میں جس طریقے سے چل رہے ہیں ایسے میں ان پر تنقید تو ہو گی اور انفرادی تنقید سے ان کا تو اب کچھ ہونے والا نہیں ، مگر ان کو چھ نوجوان طالب علموں کا ضرور سوچنا چائیے ،جن کے والدین بمشکل اپنی اولاد کی فیس پوری کر کے انہیں بڑی درسگاہ میں تعلیم دلوا رہے ہیں کہ مستقبل میں ان کے حالات بھی اچھے ہوں لیکن ایسا لگتا ہے کہ زرعی یونیورسٹی انتظامیہ نے مشال کیس سے بھی کچھ نہیں سیکھا ، مشال کا قتل بھی توہین مذہب کے الزام میں نہیں بلکہ اسے یونیورسٹی انتظامیہ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی سزا قتل کی صورت میں دی گئی اور یہ بات جوائنٹ انوسٹی گیشن رپورٹ میں بھی سامنے آ چکی ہے ۔
