Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»نوجوان خوفزدہ سوچ کے اسیر نہیں اُمید کا دیا
    کالم

    نوجوان خوفزدہ سوچ کے اسیر نہیں اُمید کا دیا

    محمد اشتیاقBy محمد اشتیاقجون 17, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ایک ایسا ملک جس کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہو، اُنھوں نے اپنی عمر کے ماہ و سال کا سفر طے کرتے ہوئے اگر اپنے ارد گرد کچھ دیکھا تو وہ خوف اور دہشت کے سائے ہی تھے۔

    پاکستان میں جاری دہشت گردی کی لہر نے اس ملک میں بسنے والوں کو محض جانی و مالی نقصان ہی نہیں پہنچایا بلکہ اس خطے میں صدیوں پرانی ثقافت کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

    روا داری، محبت، برداشت کے رشتوں کے ساتھ ساتھ اس ملک کے مختلف علاقوں کے ثقافتی رنگ، موسیقی، فلم اور دوسرے شعبوں کو ایسی ٹھیس پہنچی کہ شاید اُن کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششوں کے باوجود برسوں درکار ہوں گے۔

    ظاہری طور پر ملک میں موجود دہشت گردوں کی آماجگاہوں کے ڈھانچے کو توڑنے اور اُن کے خاتمے کے بعد اب ’’کچھ پوشیدہ اور کچھ ظاہری‘‘ نظریے و سوچ سے نمٹنے کی ضرورت ہے جس نے بہت سالوں سے پاکستانیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

    اس کا ادارک ارباب اختیار کو پہلے بھی ہو گا تو سہی، لیکن اب انتہا پسندی کے ایسے رجحانات سے نمٹنے کے لیے کچھ عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

    نوجوانوں کو منفی رجحانات کا راستہ ترک کر کے اُمید کی سمت راغب کرنے کے لیے ملک میں اعلٰی تعلیم کی درسگاہوں میں بھی سوچ و بچار کا شروع کیا گیا ہے۔

    بد قسمتی سے گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان اور اس کے عوام نے دہشت گردی کے خوفناک عفریت کو ملک کی گلیوں، مساجد، امام بارگاہوں، عوامی اجتماعات کی  مقامات پر محو رقص دیکھا۔

    اسی بدامنی کو جواز بناتے ہوئے ملک دشمن عناصر نے عالمی منظر نامہ پر پاکستان کے ایک مسخ شدہ تشخص کی منظر کشی اپنے اپنے انداز میں کی۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ ان حالات سے ملک کے نوجوان ایک خوف زدہ سوچ کے اسیر رہے۔

    ایک ایسا ملک جس کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہو، اُنھوں نے اپنی عمر کے ماہ و سال کا سفر طے کرتے ہوئے اگر اپنے ارد گرد کچھ دیکھا تو وہ خوف اور دہشت کے سائے ہی تھے۔

    ان ذہنون سے خوفناک دور، دہشت اور مایوسی کی کالی گھٹاؤں کو دور کرنے کے لیے جہاں دیگر کئی اقدامات کی ضرورت ہے وہیں اُنھیں متبادل معیاری تفریح کے مواقع فراہم کرنے بھی ضروری ہیں۔

    اسی سلسلے میں حکومت کی طرف سے ملک کے مثبت تشخص، ثقافت، ورثے اور ادب کو زندہ کرنے کے لیے فلمی صعنت کی بحالی کے ایک پیکج کا اعلان کیا گیا۔

    یہ درست کی سمت کی جانب ایک قدم تو ہو سکتا ہے لیکن منزل نہیں۔

    محض مالی اعانت کی فراہمی سے ملک میں ثقافت کا فروغ شاید ممکن نہ ہو، اس کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی بھی ضروری ہے جہاں سوچنے اور رائے کی آزادی ہو۔

    اگر سوچنے کا زوایہ درست نا بھی ہو تو اُسے پابندی لگا کر نہیں بلکہ قائل کر کے بدلنے کا رحجان پروان چڑھایا جائے۔

    کیوں کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی نے جس طرح نوجوان نسل کی سوچ اور رویوں کو متاثر کیا، تو اُنھیں معاشرہ اور حکومت نے اُمید کا دیہ جلا کر واپس لا سکتی ہے۔

    لیکن اگر معاشرے اور اداروں نے اُنھیں مایوس کیا تو نوجوانوں کے پاس کیا راستہ بچے گا۔

    اس لیے سوال کرنے سے مت روکیے، سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ کے درست اور حقائق پر مبنی جواب سے ہر کوئی اتفاق کرے۔

    کیوں کہ وہ جو اتفاق نہیں بھی کرتے، اُنھیں بھی دلائل ہی سے واپس لایا جا سکتا ہے۔

    اس لیے اگر حکمت عملی بدلنی ہے تو نوجوانوں کو صرف اُمید نہیں بلکہ منزل کی جانب چلنے کا راستہ بھی دکھایا جائے اور جس حد تک ممکن ہے اُس راستے کی دشواریوں کو دور کیا جائے تاکہ نئی نسل کی اُمید نا ٹوٹے۔

    یہ بات درست ہے کہ نوجوان خوفزدہ سوچ کے اسیر رہے، لیکن وہ اس نکلنا چاہتے ہیں۔

    پاکستان کا مستقبل اور طاقت اُنھی سے جڑی ہوئی ہے، بس کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبکھری ہوئی امت مسلمہ اور عید کا چاند
    Next Article مشال کیس اور زرعی یونیورسٹی کا حالیہ رویہ
    محمد اشتیاق

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by