Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پارلیمنٹ کی بالادستی اور فرحت اللہ بابر
    رواں تبصرے

    پارلیمنٹ کی بالادستی اور فرحت اللہ بابر

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےمارچ 8, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دوروز قبل سینیٹ آف پاکستان میں ہونے والی سینیٹر فرحت اللہ بابر کی تقریر سے پیپلز پارٹی نے اعلان لاتعلقی کرتے ہوئے جناب فرحت اللہ بابر کو پارٹی ترجمان کے منصب سے ہٹا دیا ہے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا  تھا کہ اداروں کے درمیان دائرہ کار کے حوالے سے پارلیمان ناکام رہی ہے۔  پارلیمینٹ کی بالادستی ختم ہورہی ہے، ریاست کے اندر ریاست بن رہی ہے اور کشمکش ہے۔ پارلیمنٹ نے ڈی فیکٹو ریاست ختم نہ کی تو ٹکراؤ ہوگا۔ کہیں 2018 کا الیکشن عدلیہ کے خلاف  ریفرنڈم نہ بن جائے۔فرحت اللہ بابر نےسینیٹ میں الوداعی خطاب کے دوران اپنی جماعت پیپلزپارٹی سے شکوہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹ کی بالادستی سے ہٹ گئی ہے۔واضح رہے کہ فرحت اللہ بابر گزشتہ 40سال سےمحترمہ  بینظیر بھٹو ، آصف علی زرداری کے ترجمان کے علاوہ پیپلز پارٹی کی  اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے ہیں، پارٹی پالیسی سے منحرف ہونے کا الزام لگا کر انہیں ان کی طویل عرصے کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا  جمہوری عمل کے فروغ اور سیاسی نظام کی پختگی کے لیے آواز بلند کرنا ،اپنی یا کسی بھی سیاسی جماعت کی پالیسیوں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنانا جرم ہے؟

    کیا آئین پاکستان میں پارلیمان کی بالادست حیثیت کا تعین نہیں کیا گیا،اگر کیا گیا ہے اور یقیناً کیا گیا ہے تو پھر پارلیمان کی بالادستی کے لیے بلند ہونے والی آواز وں کو دبانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔

    اعلیٰ عدلیہ اور پارلیمان کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے اشاروں ،کنایوں کے ذریعے الزام تراشی کا جوسلسلہ شروع ہوا ہے،کیا اس کے نتائج اچھے برآمد ہونگے؟

    تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleجعلی ادوایات اور سپریم کورٹ
    Next Article سینیٹر فرحت اللہ بابر
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by