Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»لیکن عاصمہ جہانگیر تو مر گئی
    کالم

    لیکن عاصمہ جہانگیر تو مر گئی

    سبوخ سیدBy سبوخ سیدفروری 12, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اوریجنل انسان ، جس میں کبھی کوئی تصنع نہیں دیکھا ، وہ بولتی نہیں تھی ، لفظوں کو اپنے جسم سے کاٹ کر الگ کرتی تھی ۔ اس کے لہجے میں کوئی بناوٹ نہیں تھی ، اس کے انداز میں کوئی اداکاری نہیں دیکھی ۔ دعوت نامے پر اس کا نام لکھا ہوتا تو سوچنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی تھی کہ اس نشست کا ماحول اور مقصد کیا ہو سکتا ہے ؟ وہ چلتی پھرتی ایک تحریک تھی ۔اس عہد میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد جمہوریت اور انسانی حقوق کے باب میں اگر کوئی عورت پاکستان کا خوبصورت چہرہ تھی تو وہ عاصمہ جہانگیر تھی ۔ عاصمہ جہانگیر دوپٹہ نہیں اوڑھتی تھیں تاہم ان کے گلے میں لٹکتی چادر ہر مظلوم کا وہ آسرا ، سایہ اور پناہ گاہ تھی ۔ ایک امید تھی ، ایک آس تھی۔ اس کا وجود ہی کیا تھا ؟ دبلا پتلا سا ، پڑوس میں بسنی والی ارون دھتی رائے کی طرح ، کہتے ہیں تیز ہوا سے اڑایا جاسکتا ہے لیکن کیا استقامت پائی کہ ” پہاڑ” ہل گئے ، یہ عورتیں نہ اپنی "جگہ” سے نہ ہلیں ۔

    زینب الغزالی مصری تھی ، للکارتی تھی ، آمر وقت نے اسے جیل میں ڈال دیا ۔ جیل میں تشدد ہوتا ۔ باہر نکلی تو کسی نے پوچھا ، زینب ، جب جیل میں تشدد ہوتا تو کیا کرتی تھی ؟ زینب تھی ، کہنے لگی” جب وہ تشدد کرتے تھے تو میں ، میں اپنے جسم سے نکل کر زنداں کی دیوار کے ساتھ کھڑی ہو کر ان احمقوں کا تماشا دیکھتی رہتی کہ وہ کیسے ہڈیوں اور گوشت پر تشدد کر کے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں ” عاصمہ جہاں گیر کو جیلوں میں ڈالا گیا ۔ تشدد کیا گیا ۔ نظر بند کیا گیا ۔ وہ ہر کمزور کے لیے کھڑی ہوتی تھی اور ہر طاقت ور کے خلاف کھڑی ہوتی یہاں تک کہ اپنی بچپن کی سہیلی بے نظیر بھٹو کے خلاف بھی کھڑی ہو گئی ۔ اسے کسی نے روتے نہیں دیکھا لیکن بے نظیر قتل ہوئی تو پھر۔ خدا کی زمین پر خود ساختہ نمائندگان خدا نے ہمیشہ اس کی زندگی اجیرن بنانے کی کوشش کی لیکن وہ لمحوں میں فیصلہ کرتی تھی اور پلٹ کر دیکھنا اس کے لیے ممکن نہیں تھا ۔ اس کا اپنا ٹھیک ، غلط نہیں تھا ۔ وہ انسانی حق کی کتاب پکڑ کر چلتی تھی ۔ اس کے ٹھیک کے راستے کوئی اس کا اپنا آیا تو اسے غلط کہنے کے لیے اس کا چہرہ دیکھنا بھی گوارا نہ کیا ۔ لال مسجد برپا ہوئی ، کہنے لگی ، اس وحشت کا خون ریاست کے ماتھے پر ایک داغ ہے کیونکہ اس سین کو تخلیق کرنے کے لیے پہلے اس ویرانے میں اس ماحول کو سجایا گیا تھا ۔ ہم سن رہے تھے کہ ایک دن وہ خود پر خود کش حملوں کی دھمکیاں دینے والوں کے بارے میں کہہ رہی تھی کہ اگر طالبان کو بھی ماورائے آئین قتل کیا جاتا ہے وہ ان کے حق کے لیے کھڑی ہوگی

    عدلیہ بحالی تحریک چل رہی تھی، 2007 کی ایک صبح تھی ، اب تاریخ مجھے یاد نہیں تاہم یہ وہ دن تھا جب اسلام آباد میں مسلم لیگ ق نے مشرف کی حمایت کے لیے اپنے کارکنوں کو وکلا جیسا لباس پہنا کر پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنا تھا ۔ ہم نے اس روز کئی ” وکلاٗ ” کے انٹرویوز بھی کئے تھے ۔ اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل کی لابی میں وہ ، جسٹس منیر اے ملک اور اعتزاز احسن بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں جیو نیوز کے لیے رپورٹنگ کر رہا تھا ۔ لابی میں ان سب کو دیکھا تو پاس جا بیٹھا ۔ وہ ہمیشہ ہاتھ ملاتیں ، تھپکی دیتیں ، ہم نے کافی پی ۔ جسٹس منیر اے ملک کراچی جا رہے تھے ، اعتزاز احسن کسی اجلاس کے لیے نکل گئے ۔ عاصمہ جہانگیر اس سے پہلے پریس کانفرنسز یا مختلف سیمینارز وغیرہ میں ملاقات ہو جاتی تھی ۔ یہ میری پہلی باضابطہ ملاقات تھی جس میں ان کے سامنے بیٹھ کر اطمینان سے بات کر رہا تھا ۔اس وقت عدلیہ بحالی تحریک ، لندن میں آل پارٹیز کانفرنس اور لال مسجد کا ایشو ہی چل رہا تھا ۔۔ کافی باتیں ہوئیں۔

     پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ انسانی حقوق اور جمہوریت کی بات کی ہے ۔ کبھی مذہب کی بات نہیں کی ، مذہب میرا ذاتی مسئلہ ہے،  یہ میرا اور میرے خدا کے درمیان کا معاملہ ہے ۔ میں کسی کے ساتھ اپنے مذہب کے بارے میں بات نہیں کرتی ۔

     

     

    میں نے عاصمہ جہانگیر صاحبہ سے کہا ، ایک ذاتی نوعیت کا سوال ہے ، اگر ناراض نہ ہوں اور اجازت دیں تو پوچھ سکتا ہوں ، بڑی محبت سے بولیں ” پہلے تو جیسے تم سارے سوال اجازت لیکر ہی کرتے تھے ، پوچھو ،

    میں نے پوچھا ، کیا آپ قادیانی ہیں ؟

    چہرہ یک دم سپاٹ ہو گیا ، شاید کوئی اور پوچھتا تو وہ سخت جواب دیتیں ، کہنے لگیں ، سنو ، پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ انسانی حقوق اور جمہوریت کی بات کی ہے ۔ کبھی مذہب کی بات نہیں کی ، مذہب میرا ذاتی مسئلہ ہے ، یہ میرا اور میرے خدا کے درمیان کا معاملہ ہے ۔ میں کسی کے ساتھ اپنے مذہب کے بارے میں بات نہیں کرتی اور ناہی کبھی اس قسم کے سوالوں کے جواب دیتی ہوں ۔ تاہم تم نے پوچھا ہے تو ایک بات سنو ، مجھے لوگ ایک سانس میں مذہب بیزار ، خدا بیزار ، دین دشمن، ملک کا غدار اور لبرل کہتے ہیں اور اگلی سانس میں قادیانی کہہ دیتے ہیں ۔ تم خود بتاؤ کہ جب ایک عورت مذہب بیزار، خدا بیزار ، دین دشمن ہے تو قادیانی کیسے ہو گئی ؟ یہ لوگ کبھی توہین مذہب کا الزام لگا کر اور کبھی ملک کا غدار کہہ کر ہماری آوازیں خاموش کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں مایوسی اور ناکامی ہوگی ” انہوں نے مذہبی حوالے سے خود پر لگنے والے الزامات سے صاف انکار کر دیا تھا ۔

    ایک بار سپریم کورٹ کے احاطے میں وہ کہہ رہیں تھیں کہ جب تک اس ملک میں سول ملٹری ریلیشنز کا معاملہ طے نہیں ہوگا ۔ سول بالادستی نہیں ہوگی تب تک غداری اور توہین مذہب کے فتوے لگتے رہیں گے ۔ اس کے لہجے میں سچائی کی تلخی تھی کیونکہ سچ تو کڑوا ہوتا ہے ۔ روز نئے الزامات عاصمہ جہانگیر کا طواف کرتے تھے ۔ انہیں خود کش حملوں اور قتل کی دھمکیوں کا سامنا تھا لیکن اس نہتی عورت نے ملک چھوڑا اور نا ہی اپنا کام ، وہ بزدل لوگوں کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی تھی ۔

     

     مجھے لوگ ایک سانس میں مذہب بیزار ، خدا بیزار ، دین دشمن، ملک کا غدار اور لبرل کہتے ہیں اور اگلی سانس میں  قادیانی کہہ دیتے ہیں ۔ تم خود بتاؤ کہ جب ایک عورت مذہب بیزار، خدا بیزار ، دین دشمن ہے تو قادیانی کیسے ہو گئی ؟ یہ لوگ کبھی توہین مذہب کا الزام لگا کر اور کبھی ملک کا غدار کہہ کر ہماری آوازیں خاموش کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں مایوسی اور ناکامی ہوگی ” انہوں نے مذہبی حوالے سے خود پر لگنے والے الزامات سے صاف انکار کر دیا تھا ۔

     

     

    اس نے 66 برس تک بھرپور زندگی گذاری ، موت کا پروانہ لیکر نکلنے والے اس کا پیچھا کرتے رہے لیکن وہ بڑے بڑے آمروں اور حکمرانوں کے ہاتھ نہیں آئی ، ان کے ہاتھ کیسے لگتی ۔ اس کا جسم سپرد خاک کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی روح تو اس ملک کے ہر شہری کا خواب ہے ۔ خوابوں کی تعبیریں ہوتی ہیں ۔ وہ دفن نہیں ہوتے لیکن شاید یہ سوچنے میں ہمیں وقت لگے گا کہ عاصمہ جہانگیر تو مر گئی ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعاصمہ جہانگیر کی وفات اور سوشل میڈیا کے مجاہد
    Next Article سوچی کانفرنس اور علاقائی امن
    سبوخ سید

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by