Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پاکستان میں سزائے موت کا قانون
    رواں تبصرے

    پاکستان میں سزائے موت کا قانون

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتنومبر 15, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پاکستان کے نظام انصاف میں موت ہونے یا نہ ہونے پر وسیع مباحثہ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔سنیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ہمارے قانونی نظام میں قانون کا جھکاؤ امیر اور طاقتور لوگوں کی جانب ہے، سزائے موت پر پابندی اٹھنے کے تین سال بعد اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ انسداد دہشتگردی قوانین، فوجی عدالتوں اور گوانتا نامو بے جیل جیسی سزائیں دہشتگردی کے خلاف لڑنے میں کس حد تک کارآمد ثابت ہوئی ہیں۔

    سانحہ پشاور کے بعد جیلوں میں موجود دہشت گردوں کو پھانسیاں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا،ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک 500 سے زائد لوگوں کو پھانسیاں دی گئی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پھانسی پانے والے اکثر لوگ عام مجرم یعنی پکے دہشت گرد نہیں تھے جبکہ پھانسی کی سزا کو اس تخصیص کے ساتھ بحال کیا گیا تھا کہ صرف دہشت گردوں کو پھانسیاں دی جائیں گی۔

    دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ہماری ریاست میں پھانسی کی سزاؤں کے سا تھ لاپتہ افراد کا معاملہ اس کے علاوہ ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو سالہا سال سے لاپتہ ہیں۔

    اسلام میں پھانسی کی سزا صرف دوجرائم پر دی جاسکتی ہے مگر ہمارے قانون میں27 قسم کے ایسے جرائم پائے جاتے ہیں جن پر سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ان جرائم پر نظر ثانی کی جائے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ پاکستان کے نظام انصاف میں سزائے موت کا قانون ہونا چاہیے یا نہیں؟

    حراستی سینٹرز میں موجود لوگوں کی صحیح تعداد کسی ادارے کے پاس نہیں ہے؟ ان میں سے کتنے لوگ ان مراکز میں وفات پا چکے ہیں اورکتنے لوگوں پر کس عدالت میں کس الزام کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں؟انہیں بنیادی انسانی حقوق اور قانون تک رسائی حاصل ہے یا نہیں؟ایسے بیسیوں دیگر سوالات ایسے ہیں جن پر ایک وسیع مکالمے اور مباحثے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں معاشرے کے تمام طبقات بشمول سیاسی پارٹیوں، وکلاء، مذہبی سکالرز، دانشور، میڈیا اور پروفیسرز پر مشتمل وسیع مشاورت کا اہتمام ہونا چاہیے۔

    تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاحسن اقبال اور خادم حسین رضوی کی خدمت میں
    Next Article انسداد دہشت گردی میں مردم شماری کی اہمیت
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by