Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی
    رواں تبصرے

    بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتنومبر 2, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی بچوں سمیت تین خواتین کی گمشدگی کا معاملہ ابھی تک ابہام کا شکار ہے۔اس معاملہ کو الیکٹرانک  وپرنٹ میڈیا پر کوئی خاطرخواہ جگہ نہیں مل سکی تاہم سوشل میڈیا پر یہ اہم موضوعات میں شامل ہے۔حکومت نے کالعدم تنظیموں سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کی جانے والی ان خواتین کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے مگر انکی شناخت بارے کوئی بھی بات ابھی واضح نہیں۔بلوچ قوم پرست تنظیموں اور حلقوں کی جانب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان بچوں اور خواتین کا تعلق علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اور اسلم بلوچ کے خاندانوں سے ہے۔گذشتہ روز ایوان بالا میں بھی یہ مسئلہ  زیر بحث رہا  اور حکومتی ارکان نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ خواتین اور بچے ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں،جس پر حزب اختلاف کے نمائندوں نے احتجاجاً واک آؤٹ بھی  کیا۔

    پاکستان میں جبری گم شدگیوں کا معاملہ بہت پرانا ہے مگر2011سے اس میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔  کچھ ذاتی وجوہات کی بناء پر لاپتہ ہوجاتے ہیں، کچھ اغوا برائے تاوان کا شکار ہوتے ہیں  مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں مشکوک سرگرمیوں کے باعث ماورائے عدالت لاپتہ ہوجاتے ہیں۔ ایجنسیاں ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتی ہے ہیں مگر آج تک کوئی تحقیقاتی ادارہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ یہ لوگ جاتے کہاں ہیں؟ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے پانچ سال میں 121افراد اسلام آباد، 752پنجاب، 1010سندھ، 1425خیبرپختونخوا اور 276بلوچستان سے لاپتہ ہوئے۔ ان لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم ہے اور اس نے کچھ لوگوں کو بازیاب بھی کرایا ہے لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔

    پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ ہوجانے والے لوگوں سے متعلق ابھی تک کوئی قانون موجود نہیں، پاکستان نے اس حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق بھی نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ جبری طور پر لاپتہ افراد کا ریاستی اداروں کی تحویل میں ہونے یا نہ ہونے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ قانون کی عدم موجود گی کے باعث انسانی حقوق کے ادارے اور عدلیہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور تفتیش کے معاملے میں بے بس نظر آتے ہیں۔ جبری طور پر لاپتہ افراد کو معلوم کرنے کا اگر کوئی طریقہ کار موجود ہو تو ایجنسیوں اور پولیس میں موجود ایسے عناصر کا احتساب ممکن ہے جو ماورائے قانون لوگوں کو لاپتہ کردیتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان  بھی بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے لاپتہ افراد کے مسئلہ کا حل ضروری سمجھتی ہے۔  2010 میں لاپتہ افراد کیس میں سپریم کورٹ  یہاں تک کہہ چکی ہے کہ  لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اگر قانون سازی کی ضرورت ہے تو پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے کیونکہ جمہوریت کو عدالتی فیصلوں سے نہیں بلکہ لاپتہ افراد کے مقدمات سے خطرہ ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلہ کے مستقل حل کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے اور جواز بتائے بغیر کسی بھی شخص کے لاپتہ کیا جانے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے تاکہ بے گناہ افراد کو اغوا ہونے اور ان کے خاندانوں کو اذیت سے بچایا جاسکے۔

    تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی قیمتی آراء کا اظہار اسی صفحہ پر نیچے جاکر کرسکتے ہیں۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاین اے 4 کے نتائج اور مستقبل کا سیاسی منظرنامہ
    Next Article علاجِ غم نہیں کرتےفقط تقریر کرتے ہیں
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by