ایک خاص حکمت عملی جس کے تحت علیحدگی پسندوں کا خاتمہ کرنا مقصودتھابلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے معلومات کی بنیاد پر آپریشن کو تیز کردیا تاکہ امن و امان کی صورتحال پر قابو پایاجاسکے ،گزشتہ ایک سال کے دوران 350سے زائد مبینہ دہشت گرد وں کو ہلاک اور 2ہزار سے زائد کو گرفتار کیا جاچکا ہے ،سیاسی مبصرین کے مطابق اس سخت ایکشن کا مقصد گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبے سے وابستہ چائنیز کویہ باور کرانا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ مسلح جدوجہد کا خاتمہ کردیا گیا ہے اوراب ان کا کوئی وجود نہیں اور اب وہ اپناکام پرامن ماحول میں کرسکتے ہیں ۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس بیانیہ کو عام کرکے گوادر کوبلوچستان سے الگ کرکے و فاقی حکومت اس کو وفاقی علاقہ قرار دے گی جو یقیناًاسلام آباد اور بلوچوں میں ایک نئی کمشکش کا آغازکا باعث ہوگا
یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ چائنیز شہری کسی ٹھوس یقین دہانی کے بغیر کسی ایسے علاقے میں کام نہیں کرسکتے جہاں ان پر پہلے حملے ہوچکے ہوں اور ان کے ساتھی مارے جاچکے ہوں۔ یاد رہے کہ مئی 2004ء میں ایک حملے میں تین چائنیز انجینئر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے اوراسی طرح گوادر میں ایک بم حملے میں تین چائنیز انجینئرز اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے ان دو واقعات کے بعد چائنیز نے گوادر سے اپنا سارا کام لپیٹ لیا تھاجبکہ لسبیلہ میں بہت کم تعداد میں چائنیزنے اپنا کام جاری رکھا۔ سیندک پراجیکٹ پر کام کرنے والے انجینئرز کیلئے بہت ہی سخت سیکورٹی انتظامات کئے گئے اور ان کیلئے کراچی سے دالبندین کیلئے فضائی سروس کا بندوبست کیا گیا جس کے ذریعے انہیں ہر ہفتے یاپندرہ روز بعد دالبندین سے کراچی اور کراچی سے ان کے ملک لے جایا جاتا ہے ان حملوں کے بعدغیر ملکی انجینئرز سمیت مختلف ممالک کے شہریوں نے بلوچستان میں کسی نئے پروجیکٹ پرکام کرنے سے انکار کیا تھا بلکہ پرانے پروجیکٹ میں بھی ان کی تعداد کم ہوئی اور کام نہ ہونے کے برابر رہا۔
گزشتہ ایک سال کے دوران 350سے زائد مبینہ دہشت گرد وں کو ہلاک اور 2ہزار سے زائد کو گرفتار کیا جاچکا ہے ،سیاسی مبصرین کے مطابق اس سخت ایکشن کا مقصد گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبے سے وابستہ چائنیز کویہ باور کرانا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ مسلح جدوجہد کا خاتمہ کردیا گیا ہے
بلوچ علیحدگی پسند گروپ جو ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کادعویٰ کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کی چائنیز یا کسی غیر ملکی سے کوئی دشمنی نہیں بلکہ وہ تنبیہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی بھی غیر ملکی بلوچ مخالف میگا پروجیکٹس میں شریک ہوگا تووہ دشمن تصور کیا جائے گا ۔ان کا خیال ہے کہ یہ تمام منصوبے بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے ہیں اور ان کے ساحل و وسائل کو لوٹنے کی غرض سے ہیں۔ بلوچستان اورخاص طور پر بلوچ عوا م میں یہ تاثر عام ہے کہ اگر گوادر پورٹ فعال ہو گی تو بڑی تعداد میں دوسرے صوبوں سمیت بلوچستان سے غیر بلوچوں کی بڑی تعداد گوادر میں معاشی مواقع تلاش کرنے آئے گی جو بلوچوں کی مجموعی آبادی سے بہت زیادہ ہوگی اس طرح وہ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے،وہ کراچی پورٹ کی مثال دیتے ہیں جہاں بلوچ اور سندھی آبادی آج نظر نہیں آتی۔ اگرچہ نیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے بعدجہاں قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا وہاں بلوچستان میں فرقہ وارایت میں شامل گروپوں کے خلاف بھی ایکشن لیا گیااور بلوچ علیحدگی پسندگروپوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا

لیکن گزشتہ چند ماہ میں بلوچستان کے کئی اضلاع میں علیحدگی پسند تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی ان میں آوران ،خضدار،قلات ،کوہلو ،ڈیرہ بگٹی ،جعفرآباد ،کیچ ،پنجگور،خاران ،گوادر کے اضلاع شامل ہیں ۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ علیحدگی پسند تنظیموں کے مرکزی کرداروں کوا س ایکشن میں ماردیا گیا اور چند عناصر جو باقی بچے ہیں وہ بھی بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے یا پھر ہتھیار ڈال دیں گے۔ ڈاکٹر منان بلوچ جو ایک سیاسی جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ کےسیکرٹری جنرل تھے کو ایک ایکشن میں ہلاک کیا گیااور میڈیا کو اس کی تصویریں جاری کی گئیں تاہم ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ ،اسلم اچھوکی ہلاکت کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ بلکہ اپریل کے دوسر ے ہفتے میں بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ جوہان میں سیکورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن میں 34دہشت گردوں کو ہلاک کرکے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کیا ہلاک ہونے والوں میں یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے سربراہ عبدالنبی بنگلزئی کانام شامل تھا لیکن عبدالنبی بنگلزئی نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو موصول ہونے والے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی زندہ ہیں اور حکومتی دعوے غلط ہیں ۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جوہان قلات میں مارے جانے والے سرمچار نہیں بلکہ عام خانہ بدوش تھے۔ دوسری طرف ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنے ایک بیان میں جوہان قلات میں آپریشن پر شک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسے موصول ہونے والی رپورٹس میں یہ ثبوت ملے ہیں کہ اس آپریشن میں عام لوگ مارے گئے ۔یہ آپریشن جو علیحدگی پسند تنظیم کے افرادکی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ کوئی بے گناہ شخص اس طرح کے آپریشن کی زد میں نہ آئے۔
بلوچستان میں عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ گو کہ بعض حکومتی عہدیدار اس بات پر بضد ہیں کہ کوئی بات چیت نہ کی جائے لیکن وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ ان ناراض بلوچوں سے بات چیت کی جائے اور عزت و احترام سے ان کو ملک لایا جائے
سابق کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل ناصر خان جنجوعہ جو اب قومی سلامتی کے مشیر ہیں نے ایک عام معافی کا پروگرام اس وقت کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا جس کے تحت 600کے لگ بھگ مسلح جدوجہد کرنے والے افراد نے مختلف علاقوں میں حکام کے سامنے ہتھیار ڈالے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ان آپریشنوں میں تیزی لانے کا مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہاڑوں پر مسلح جدوجہد کرنے والوں پر دباؤ ڈال کر ان سے ہتھیار ڈلوائے جائیں اوران کے بیرون ملک مقیم رہنماؤں کو کمزور کیا جائے۔ڈاکٹراللہ نذر حیات یا تو بیرون ملک ہیں یا پھربلوچستان کے پہاڑوں میں ہی روپوش ہیں مگران کے لئے ان کے برادر نسبتی اور قریبی کمانڈروں کا 18اپریل کو حکام کے سامنے ہتھیار ڈالنا ایک دھچکے سے کم نہیں جنہوں نے اپنے 144مسلح افراد کے ساتھ حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ۔ان کمانڈروں کو آمادہ کرنے کیلئے سردارزادہ علی حیدر محمد حسنی نے کوششیں کیں حکومت میں شامل کچھ عہدیداراس بات پر بضد ہیں اور عسکری قیادت کو قائل کرنے میں کوشاں ہیں کہ عام معافی کا جو پروگرام ہے اس کو ختم کیا جائے ، بیرون ملک مقیم ناراض بلوچوں سے بات چیت کا راگ الاپنا بند کیا جائے اور ضرب عضب کی طرز پر آپریشن تیز کیا جائے جس میں فضائی حملے بھی کئے جائیں تاکہ ان کا خاتمہ ممکن ہوسکے ۔جبکہ سیاسی جماعتوں کے رہنما جس میں سابق وزراء اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ،سرداراختر مینگل جیسے رہنما شامل ہیں اس بات کے حق میں ہیں کہ جتنا سخت سے سخت ایکشن لیا جائے تب بھی مسئلہ بات چیت سے حل ہوگا۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک اپنے دور میں عسکری قیادت کی ایماء پر نوابزادہ براہمدغ بگٹی جو شہید نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے اور اپنی عسکری جماعت بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ ہیں سے سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں دو مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں ، اپنی پارٹی کے وزراء اور پارلیمنٹرین پر مشتمل وفد کو خان آف قلات کے پاس بھیج چکے ہیں لیکن اس کے بعدکوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ڈاکٹرعبدالمالک کا کہنا ہے کہ میں نے ان دونوں ملاقاتوں کی تمام روئیداد عسکری قیادت تک پہنچادی لیکن اس کے بعد معاملہ وہیں کا وہیں ہے بلوچستان میں عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ گو کہ بعض حکومتی عہدیدار اس بات پر بضد ہیں کہ کوئی بات چیت نہ کی جائے لیکن وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ ان ناراض بلوچوں سے بات چیت کی جائے اور عزت و احترام سے ان کو ملک لایا جائے تاکہ وہ ملک و بلوچستان اور عوام کی ترقی و خوشحالی میں حکومت کا ساتھ دیں۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت یہ جانتے ہوئے کہ بلوچ علیحدگی پسند رہنما کمزور ہوچکے ہیں اور حکومت ان سے بات چیت نہیں کرتی تواس کے بھیانک نتائج برآمد ہونگے۔ بہرحال ان کے خیال میں مخالف جتنا بھی کمزور ہو اس کو اپنے خیالات پرآمادہ کرنا چاہئے اور عزت و احترام سے اس کا مقام دینا چاہئے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس بیانیہ کو عام کرکے گوادر کوبلوچستان سے الگ کرکے و فاقی حکومت اس کو وفاقی علاقہ قرار دے گی جو یقیناًاسلام آباد اور بلوچوں میں ایک نئی کمشکش کا آغازکا باعث ہوگا ۔
دوسری طرف وفاقی حکومت بظاہر ان تمام جماعتوں بشمول عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام نظریاتی ،جمعیت علماء اسلام (ف) کو مغربی روٹ پر راضی کرتے نظرآتی ہے ۔یہ بات طے ہے کہ مغربی روٹ موٹروے کی بجائے ایک اچھی حالت میں قومی شاہراہ پر مشتمل ہوگاجس پر مقامی آبادی کے علاوہ مختلف علاقوں کے لوگوں کو سفری سہولتیں میسر آئیں گی۔امن و امان کی موجودہ صورتحال پر بلوچستان حکومت اور عسکری قیادت نے مل کرکوئٹہ اور گوادر میں سیمینارز کا انعقاد کرایا جس میں ملک کے مشہور و معروف قومی اخباروں کے کالم نگار،اینکرز پرسنز اور سینئر صحافیوں کو مدعو کیا گیا قومی میڈیا نے بلوچستان اور بلوچستان کے امن کے بارے میں پروگرام پیش کیے۔ ان اقدامات کا مقصد ملکی اور غیر ملکی تاجروں ،سرمایہ کاروں کو بلوچستان کی طرف راغب کرنا تھا تاکہ اس نئے ماحول میں وہ آئیں اورسرمایہ کاری کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں ان سیمینارز میں گوادر کی تاریخ کے بارے میں ایک نیا بیانیہ سامنے آیاجس کا مختلف ٹی وی پروگرامز میں بھی ذکر کیا گیا چیف سیکرٹری بلوچستان کے مطابق جو بلوچ گوادر پراپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں یہ بلوچوں کا کبھی رہاہی نہیں۔ حکومت پاکستان نے گوادر کو سلطنت آف عمان سے خریدا ہے اس بیان کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے قوم پرست جماعتوں کے مطابق اگر گوادر بلوچوں کی ملکیت نہ ہوتی تو حکومت پاکستان اسے پہلے دن ہی وفاقی انتظامی علاقہ قرار دےدیتی۔
آج اس طرح کی باتیں کرنا دراصل بلوچوں بلکہ پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے خان آف قلات میر سلمان داود خان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پورا مکران بشمول گوادر قلات سٹیٹ کا حصہ رہا ہے۔ عمان کے ایک سلطان 1783ء میں خاندانی جھگڑے کی وجہ سے فرار ہوکر اس وقت کے خان قلات خان نصیر خان کی پناہ میں آئے ۔خان قلات نے گوادر کا حصہ ان کو دیدیا اوراس کی آمدنی ان کے اوران کے لشکرکے دستر خوان کیلئے وقف کردی ۔لیکن وہ کچھ ہی سالوں میں بلوچوں کی مدد سے اپنی سلطنت واپس لینے میں کامیاب ہوئے گوادر بدستور سلطان سید کے پاس رہا وہ سالانہ 5ہزار خان آف قلات کو ادا کیا کرتا تھا۔ 1956میں پاکستان نے عمان سے یہ حصہ خریدا کن شرائط پر اصل مالک یعنی بلوچوں کی مرضی کے بغیر ، اس مطالبے کو اس وقت لوگوں کے سامنے لانے کا مقصد صرف یہی ہوسکتا ہے کہ بلوچوں کے اس دعوے کو مسترد کیا جائے کہ گوادر ان کا ہے ۔جبکہ بلوچ قوم پرست پارلیمانی جماعتیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ گوادر پورٹ کا کنٹرول بلوچستان حکومت کے حوالے کیا جائے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس بیانیہ کو عام کرکے گوادر کوبلوچستان سے الگ کرکے و فاقی حکومت اس کو وفاقی علاقہ قرار دے گی جو یقیناًاسلام آباد اور بلوچوں میں ایک نئی کمشکش کا آغازکا باعث ہوگا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گوادر کو فعال اوربلوچستان میں اقتصادی کوریڈور کی تعمیر کے ذریعے بلوچستان اور پاکستان کی ترقی کے دعوے تو کئے جارہے ہیں لیکن وفاقی حکومت یہ بات بلوچستان کے لوگوں خاص طور پر بلوچوں کو بتانے سے قاصر ہے کہ گوادرکے فعال ہونے کے بعد بلوچستان کی حکومت کو اس کی آمدنی میں سے کتنا حصہ ملے گا ۔اس کی آمدنی سے بلوچوں اور بلوچستان کے لوگوں کیلئے کتنا خرچ کیا جائے گا۔بلوچستان کے لوگ یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ ترقی ان کے علاوہ پاکستان کے دیگر تمام علاقوں کے لوگوں کیلئے ہے مگر شاید ان کیلئے نہیں ہے ۔کیونکہ اگر ان کے حقوق کا تحفظ کئے بغیر بڑے پیمانے پر پاکستان اور بلوچستان کے غیر بلوچوں کی آبادی منتقل ہوئی تو اقلیت ہونا ان کا مقدر ہے۔ وفاقی حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ بلوچوں کے اس خوف کو کس طرح ختم کیا جائے تاکہ وہ قومی دھارے میں آئیں اور ترقی کے اقدامات میں شامل ہوں۔
