Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»آبی وسائل کی ناقدری
    کالم

    آبی وسائل کی ناقدری

    اسلم اعوانBy اسلم اعوانجولائی 29, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

                                 پچھلے کئی مہینوں سے سی آر بی سی کینال کمانڈ ایریا کے کاشتکار نہر کی بتدریج  زبوں حالی پہ نوحہ کناں اور آبپاشی کے  پانی کی قلت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن سسٹم کا جمود اس قدر گہرا ہے کہ سروسیز فراہم کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کسی بھی ایشو کو فوری ریسپانڈ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے چنانچہ کاشتکاروں کی آہ و فغاں حکومتی ایوانوں کی بے حسی سے ٹکرا کے صدائے بازگشت کی مانند واپس پلٹ رہی ہے اور یہی مایوس کن انحطاط ایک مستقل آویزش کی طرف بڑھ رہا ہے،چند دن قبل صوبائی وزیر آبپاشی سکندر شیرپاؤکے دورہ  ڈیرہ اسماعیل خان کے موقعہ پر کاشتکاروں نے ملاقات کر کے  انہیں کینال کی خستہ حالی بارے آگاہی دینے کی کوشش کی لیکن نوکری کے فن میں یدطولی رکھنے والے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ارباب اختیار نے بوجوہ نہر کی مرمت  وبحالی کے ایشو کو زوردار انداز میں اٹھانے سے پہلوتہی برتی۔امر واقعہ یہ ہے کہ ایک سو ساٹھ کلو میٹر لمبی چشمہ رائٹ بنک کینال سن دو ہزار دس کے سیلاب میں چھبیس مقامات سے ٹوٹ گئی،اسی فلڈ کی تباہ کاریوں نے سی آر بی سی کے گد سپر پیسج  کو بھی متاثر کیا،سیلاب کے بعد  لیپا پوتی کر کے مین کینال میں پانی چھوڑ دیا گیا اور مرمت و بحالی کے علاوہ  گد سپر فلڈ چینل کی تعمیر نو کیلئے تخمینہ تیار کرکے صوبائی حکومت کو بھجوا دیا گیا،جو حسب روایت ہمارے دفتری نظام کی بھول بھلیوں میں گم ہو گیا،سن 2015 ء میں ایک بار پھر کوہ سلیمان کے پہاڑی نالوں سے آنے والے سیلابی ریلوں نے گد سپر پیسج کو نقصان پہنچا کر ناکارہ بنایا تو کئی ماہ تک تحصیل پروآ کی اراضیات کو  پانی کی فراہمی معطل رہی،محکمہ ایریگشن نے حسب روایت ایک بار پھر فلڈ چینل کی تعمیراتی لاگت کا اسٹیمیٹ بنا کر ارباب اختیار کو بھیجوا کر چین کی بانسری بجائی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے تا حال ان مسائل کو سلجھانے کی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی۔محکمہ آبپاشی کے سی آر بی سی سب ڈویژن کے ایکسین اکیل اظہر نے بتایا کہ مین کینال کی مرمت و بحالی کے لئے  واپڈا نے  845 ملین روپے مانگے ہیں جبکہ خیبر پختون خوا حکومت نے اس سال صوبہ بھر کی نہروں کی مرمت و بحالی کے لئے کل 550 ملین مختص کئے.

    ڈیرہ اسماعیل خان میں صوبہ بھر کے سب سے بڑے نہری نظام کی بحالی کے لئے ہر سال 40 ملین روپے درکار ہوتے ہیں لیکن پرونشل گورنمنٹ صرف23 ملین مہیا کرتی ہے،جن میں سے 9  ملین پہاڑ پور کینال اور 14 ملین روپے 798 کلو میٹرز پہ محیط سی آر بی سی کی 62 ڈسٹریز کی بحالی پر خرچ ہوتے ہیں،

    انہوں نے کہا،اگر نہروں کی مرمت و بحالی ممکن نہ بنائی گئی آبپاشی کا یہ عظیم نظام تباہ ہو جائے گا۔اس کام میں ایشو یہ ہے کہ  بین الصوبائی نہر ہونے کی وجہ سے مین کینال کی مرمت و بحالی کا نظام پنجاب و خیبر پختون خوا حکومتوں اور واپڈا کے مابین منقسم ہے،کوارڈینشن کے فقدان اور نیت کے فتورکے باعث تینوں اتھارٹیز اس معاملہ کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کی بجائے خاموشی کے ساتھ اسے انہدام کی دھکیل رہی ہیں، 2002 ء میں پنجاب و خیبر پختون خوا حکومت اور واپڈا کے درمیان طے پانے والے معاہدہ کی رو سے مین کینال کے آپریشنل امور واپڈا کے کنٹرول میں اور آبپاشی کے لئے بنائی گئی ڈسٹریز کا نظام صوبائی حکومتوں کے زیرتصرف رکھنے کا فیصلہ کیا گیا،معاہدہ  کے تحت  مین کینال کی مرمت و بحالی کے لئے دونوں صوبائی حکومتوں کو  واپڈا والوں کو پچاس پچاس فیصد فنڈ مہیا کرنے کا پابند بنایا گیا،اسی معاہدہ کی رو سے واپڈا نے 160 کلو میٹرز لمبی سی آر بی سی کینال کے 29  فلڈ چینل کی آخری بار مرمت کرکے صوبائی حکومتوں کے حوالے کرنا تھا لیکن پندرہ سال بیت گئے دونوں صوبائی حکومتیں واپڈا کو  مین کینال کی مرمت اور فلڈ چینل کی بحالی کیلئے درکار فنڈ فراہم  کرنے سے گریزاں ہیں،خیبر پختون خوا والے کہتے ہیں مرکز کے ذمہ  بجلی رائلٹی کے کروڑوں واجب الادا ہیں،اسی سے نہر کی مرمت و بحالی کا حصہ کاٹ لیں، پنجاب کہتا ہے،خیبر پختون خوا مرمت و بحالی کے فنڈ دے تو ہم بھی دیں گے۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے رجال کار کے پاس معمول کے ان امور کو نمٹانے کی اہلیت باقی نہیں رہی،ہمارا انتظامی ڈھانچہ اس قدر  بے حس اور ناکارہ ہو چکا کہ روز مرہ کے سرکاری کاموں کی  بجاآوری ممکن بنانے کے لئے بھی شہریوں کو پرتشدد تحریکیں چلانا پڑتی ہیں۔چنانچہ کئی مہینوں سے جاری کاشتکاروں کے پرامن احتجاج کے باوجود بیل ابھی تک منڈھیر نہیں چڑھ سکی، سرکاری اداروں کے جمود کی وجہ سے  پندرہ سالوں سے مرمت و بحالی کا معاملہ  التواء میں پڑا ہے،جس نے اس عظیم آبی وسیلہ کی زبوں حالی کو مزید بڑھا دیا۔ستم ظریفی دیکھئے کہ واپڈا اتھارٹی نے فرض کی ادائیگی کی بجائے نہر کی خستہ حالی کو جواز بنا کر پانی کا ڈسچاج 48 سو سے گھٹا کر 38 سو کیوسک کر کے کمانڈ ایریا کے کاشتکاروں کی زرعی معشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گویا وفاق سمیت دونوں صوبائی حکومتوں کو ملک کی زرعی معشت کو تحفظ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں، اس لئے مستقبل میں بھی نہر کی مرمت و بحالی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ تین صوبوں کے سنگم پر واقع ڈیرہ اسماعیل خان کے مشر ق میں پنجاب کا ضلع بھکر، جنوب مشرق میں ڈیرہ غازی خان، شمال مشرق میں میانوالی شمال مغرب میں لکی مروت اور جنوب مغرب میں بلوچستان کا ضلع ژوب پڑتا ہے، مغرب میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے اسے قبائلی علاقوں اور افغانستان سے ملاتے ہیں۔اس شہر کی 18 لاکھ ایکڑز قابل کاشت اراضی کو آبپاشی کے وسائل مہیا کرنے کی خاطر پہلی بار ذولفقار علی بھٹو نے سن1973 ء میں ساڑھے سات ہزار کیوسک کی حامل چشمہ رائٹ بنک کینال بنانے کا اعلان کیا تو  اس وقت ڈی آئی خان سے ممبر قومی اسمبلی مولانا مفتی محمود مغفور نے دس ہزار کیوسک پانی کا مطالبہ کرتے ہوئے سی آر بی سی کینال منصوبہ کو ٹھکرا دیا تھا تاہم بعدازاں 1979 ء میں مفتی صاحب  نے جنرل ضیاء الحق کے ہمراہ 4800 کیوسک کی نہر کا سنگ بنیاد رکھ کر سماج کی بے کسی کا مذاق اڑایا،ان 4800 کیوسک میں پہلے سے موجود پہاڑ پور کینال کا 800  اور پنجاب کا 900 کیوسک پانی بھی شامل تھا اور یوں ڈیرہ والوں کے حصہ میں صرف 3200 کیوسک پانی آیا۔منصوبہ کے مطابق سی آر بی سی نہر کی تعمیر کی مدت پانچ سال متعین کی گئی لیکن بد قسمتی سے تعمیراتی کام میں تا خیر سے یہ منصوبہ 24 سال بعد 2002 ء میں مکمل ہوا،160کلو میٹر لمبی کینال کی 798 کلو میٹرز پہ محیط 62 ڈسٹریز اور 29 فلڈ چینل ہیں،سی آر بی سی نہر ڈیرہ اسماعیل خان کی ساڑھے 3 لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی کے وسائل مہیا کرتی ہے۔ 2002ء میں جنرل مشرف نے گومل زام ڈیم  کا سنگ بنیاد رکھ کر ٹانک،کلاچی اور ڈیرہ  اسماعیل خان کی ایک لاکھ 69 ہزار ایکڑز اراضی کو آبپاشی کے وسائل فراہم کئے۔مئی 2016 ء میں مولانا فضل الرحمن  کی ایما پر وزیر اعظم نواز شریف سی پیک منصوبہ کے مغربی روٹ کا  افتتاح کرنے آئے تو انہوں نے بھی پہلے سے موجود نہروں کی بقاء کی بجائے ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے ساڑھے تین سو کیوسک کی چشمہ لفٹ کینال بنانے کا وعدہ کیا جس کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں اب مانند پڑ چکی ہیں۔ماہرین کے مطابق تقسیم ہند سے قبل انگریز حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان کے دامانی علاقوں کو آبپاشی کے وسائل فراہم کرنے کی خاطر میانوالی کے جناح بیراج کے رائٹ بنک سے ڈی آئی خان کو دس ہزار کیوسک پانی کی نہر  دینے کا منصوبہ بنایا لیکن جنگ عظیم دوم میں الجھ جانے کے باعث انگریز سرکارکو اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی مہلت نہ ملی،اس مقصد کے لئے جناح بیراج کے دائیں رخ پر دو گیٹ  رکھے گئے تھے تاکہ بوقت ضرورت یہیں سے مجوزہ سی آر بی سی کینال کو پانی کی فراہمی  یقینی بنائے جا سکے۔ون یونٹ کے زمانے میں 1960ء میں چیف انجیئر ایریگیشن میر بشیر  اور میر مسرور خان نے سروے کر کے جناح بیراج سے سی آر بی سی نہر کی تعمیر کا ابتدائی تخمینہ چار کروڑ روپے لگایا تاہم سندھ طاس معاہدہ کے تحت 1970ء میں چشمہ بیراج کی تعمیر کے بعد اس پراجیکٹ کو رد کر دیا گیا اور مجوزہ لفٹ کینال کے لئے بھی چشمہ بیراج کی جھیل کی سطح 644rl کافی سمجھا گیا حالانکہ یہ ناکافی تھی کیونکہ گرویٹی کینال کیلئے چشمہ بیراج کا ہیڈ  636rl پانچ کلو میٹر دائرہ میں بنایا گیا تھا۔لفٹ کینال جیسے مہنگے منصوبوں کی بجائے حکومت اگر موجودہ سی آر بی سی کینال کی بحالی اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پہ توجہ دے تو ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کی 20  لاکھ ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا سکتا ہے،ٹانک زام کا سروے اور فیزبیلٹی مکمل ہے،درابن زام  اور شیخ حیدر زام کی تعمیر سے لاکھوں ایکڑ اراضی کی سیرابی کے علاوہ  یہاں کی انرجی کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔گومل زام ڈیم ملک کا تیسرا بڑا ریزروائر ہے جس میں 1.139ملین ایکڑ فیٹ پانی ذخیرہ ہے، منگلا ڈیم میں 7.39 ایم اے ایف اور تربیلہ کا ہجم 9.679 سے کم ہو کر اب 6.434 ایم اے ایف باقی رہ گیا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleلا تعلق معاشرہ ، مائنڈ سیٹ اور عفریت
    Next Article نوازحکومت کی برطرفی ،لبرل لیفٹ اورقوم پرست
    اسلم اعوان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by