Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»نوازحکومت کی برطرفی ،لبرل لیفٹ اورقوم پرست
    کالم

    نوازحکومت کی برطرفی ،لبرل لیفٹ اورقوم پرست

    سرتاج خانBy سرتاج خانجولائی 31, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کالبرل لیفٹ اورچھوٹی قومیتوں کی بڑی تعداد نوازحکومت کی برطرفی کے اقدام کے خلاف کھڑے ہیں۔

    پوسٹ ماڈرنسٹ (سابقہ لبرل لیفٹ) اتھنک گروپوں اور قوم پرستوں میں اس امرپرتقریباً اتفاق پایاجاتاہے کہ نوازشریف کی عدالت کے ہاتھوں برطرفی ایک ’’سوفٹ کو‘‘ہے۔ زیادہ واضح الفاظ  میں، نوازحکومت کوفوج نے ہٹایاہے۔ بہت سارے تجزیہ نگاراس کوماضی سے جڑی روایت کاحصہ قراردیتے ہیں۔ مبشر علی زیدی کہتے ہیں ’’عوام نے منتخب کیا، صدر نے ہٹایا۔ عوام نے منتخب کیا، جرنیل نے ہٹایا۔ عوام نے منتخب کیا، عدلیہ نے ہٹایا۔‘‘عاصمہ جہانگیرنے نوازشریف کیس کے پانچ ججوں کی اپنی حیثیت کے بارے میں سوال اٹھایااورکہاکہ ان میں سے چارجج خود پی سی اوکے تحت حلف اٹھاچکے تھے توکیایہ خود صادق اورامین کہلاسکتے ہیں؟ فیصلہ سے قبل ہی اے این پی کےسینٹرافراسیاب خٹک نے دی نیشن میں اپنے ایک مضمون میں نادیدہ ہاتھ کے باہرآنے اورحکومت کے قتل کااعلان کیاتھا۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ایک اورمنتخب وزیراعظم کوچلتا کر دینےمیں کیاچیز تاریخی ہے۔ گھر پھونک تماشےکرنے والوآئین پرڈاکہ ڈالنےوالوں میں سےکسی اک پرمقدمہ کرکے دیکھ لو‘‘۔

    پختون اولسی تحریک کے سیدعالم محسود نے نوازشریف کی نااہلی پر سوشل میڈیا میں پشتوزبان میں لکھا’’افغانستان کی تباہی اورپل خشتی مسجدمیں شکرانے کے نوافل پڑھنے والے ضیاءالحق کی اولاد، پختون دشمن، سی پیک اورپانامہ کے چورکوپانچ ججوں نے نااہل کردیا‘‘۔

    حبیب یونیورسٹی کراچی کے استاداور علمی وسماجی حلقوں میں سرگرم  استاد حفیظ جمالی کے نزدیک ’’اس میں کوئی غلط فہمی نہ رہے کہ یہ عدلیہ کی طرف سے ایک منتخب وزیراعظم کا تختہ الٹنے کی ایک کوشش ہے جس کی پشت پرحکمت عملی کے لحاظ سے فوج ہے ‘‘۔ نوجوان قوم پرست دانشورخان زمان کاکڑکہتاہے کہ یہ اہم ہے کہ اے این پی اپوزیشن کی وہ واحد جماعت تھی جوجمہوریت کے لئے کھڑی ہوئی اورنوازمخالف مہم کاحصہ نہ بنی۔ یہ اصول ہیں۔  باچاخان یونیورسٹی کے استاد اورپشتون ادیب ڈاکٹرمحیب وزیرانجمن ترقی پسند پشتون کی طرف سے کہتے ہیں کہ  ’’پشتونوں کے مسائل دیگرہیں اس کامطلب یہ ہے کہ پاکستان کے اندرتبدیلی سے پشتونوں کی حیثیت پراثرنہیں پڑے گا ۔ ایک صاحب نے توتجویزپیش کی کہ محموداچکزئی کووزیراعظم بناکرچھوٹے صوبوں کی احساس محرومی دورکرنے کی کوشش کی جائے۔

    نوازشریف کی طرح مولانافضل الرحمن، محموداچکزئی اوراسفندیارولی خان بھی عمران خان کی تنقیدکانشانہ بنتے رہتے ہیں۔ اور2013کے انتخابات میں اے این پی اورجے یوآئی کوتحریک انصاف کے ہاتھوں صوبہ خیبرپختونخواہ میں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ محموداچکزئی بھی نوازشریف کاقریبی اتحادی ہے اوراس کاپوراخاندان اس وقت حکمران ہے۔ مولانافضل الرحمن بھی وفاق میں نوازحکومت کاحصہ ہے۔ عبداللہ جان وزیرنے مولانافضل الرحمن، محموداچکزئی اوراسفندیارولی خان کے بارے میں سوال اٹھایاہے کہ اب ان تین یتموں کا کیاہوگا جوروزنوازشریف کے حق میں آوازاٹھاتے رہتے تھے۔ ل”م

    محمد تقی سوشل میڈیا پرلبرل لیفٹ کے رائج الوقت رہنمااصولوں کی تشریح کرتے ہوئے لکھتاہے کہ ’’دوستو جب مقابلہ نواز شریف اور مزدور کسان پارٹی کا ہو تو مزدور کسان کا ساتھ دو اور اگر مقابلہ نواز شریف اور جج جرنیل کا تو نواز کا ساتھ دو‘‘۔

    زیادہ ترقوم پرستوں نے اسے پنجاب کی اندرونی لڑائی قراردیا۔ لیکن پوسٹ ماڈرنسٹ دانشوریہ ثابت کرنے میں ناکام  رہے ہیں کہ یہ کوئِی فوجی بغاوت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ فوجی جنتا کوجمہوریت پسند قراردیاجاتاہے۔ اورفوج کے سربراہ اورآئی ایس آئی کے چیف، نواشریف کے اس طرح خلاف بھی نہیں۔ پی پی پی کی حکومت ختم کرنے پرپنجابی اسٹبلشمنٹ کانعرہ لگایاجاتاتھامگرنوازشریف کی تیسری مسلسل حکومت کے خاتمہ کے ساتھ پنجابی اسٹبلشمنٹ کی چھوٹے قومیتوں کی حکومتوں کوختم کرنے کی دلیل اب کمزورپڑتی جارہی ہے۔ اب یہ پروپگنڈہ بھی وقعت نہیں رکھتاکہ نوازحکومت، بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے ختم کی گئی۔ یہ بات نوازشریف کے ابتدائی دنوں کے بارے میں زیادہ درست ہے، لیکن بعدازاں نوازحکومت اس سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔ صحافی داودخٹک ڈپلومیٹ میں اپنے ایک  مضمون کے آخرمیں لکھتے ہیں کہ نوازشریف کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے ہونے کے  باوجود اس کے حکومت کے خاتمے نے جمہوریت پسند سیاستدانوں اوراسٹبلشمنٹ کے درمیان ایک اورتلخ باب کااضافہ کیاہے۔ یہ پہلے سے تقسیم ملک کومزیدتقسیم کرنے کاباعث بنے گا۔ پشتونخوامیپ اور  نیشنل پارٹی، بلوچستان اورمرکزدونوں میں نوازحکومت کی اتحادی ہیں۔

    یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کالبرل لیفٹ اورچھوٹی قومیتوں کی بڑی تعداد نوازحکومت کی برطرفی کے اقدام کے خلاف کھڑے ہیں۔

    مضمون نگارکراچی میں مقیم محقق ہے۔

    Sartaj2000@yahoo.com

    Tweet:@sartajku

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleآبی وسائل کی ناقدری
    Next Article ایک نئے کل کی تعبیر
    سرتاج خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by