Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»انتخابی بجٹ
    رواں تبصرے

    انتخابی بجٹ

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےجون 6, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    نوٹ : آپ کی رائے جامع، واضح ، با مقصد اور مختصر ہونی چاہئے۔اپنی رائے اور الفاظ کے استعمال میں انتہائی احتیاط کیجئےتاکہ کسی بھی فرد کے جذبات مجروح ہونے کا خدشہ نہ ہو ۔

    اگرچہ انتخابات میں دو سال باقی ہیں ۔ لیکن حالیہ بجٹ کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ حکومت کو احساس ہے کہ قومی بجٹ اس طرح ترتیب دیا جائے کہ اس کے خلاف کسی بھی سیاسی احتجاجی تحریک یا غیر سیاسی اقدام کی صورت میں عوامی دباؤ کو کم رکھا جا سکے ۔

    کیا حکومت اپنی اس کاوش میں کامیاب ہوئی ہے؟ اس بجٹ کو لے کر ایک عام آدمی ابہام کا شکار ہے۔ اس سے فیصلہ نہیں ہو رہا ہے کہ وہ اس بجٹ کو اچھا قرار دے یا ابھی اپنی رائے محفوظ رکھے۔

    بجٹ میں بڑے خوش کن اقدامات کا وعدہ کیا گیا ہے ۔کم سے کم تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ٹیکس کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکس کا موجودہ ڈھانچہ ان خاندانوں کے لیے بہت بڑا بوجھ ہے جو جتنا کماتے ہیں سب خرچ کردیتے ہیں۔ سیلز ٹیکس مختلف شکلوں میں انہی پر لاگو ہے اور اسکی بحث کرنے کی امیدوں کا قاتل ہے۔

    ٹیکسوں کا نظام طبقہ امرء کو فائدہ پہنچاتا ہے اور ٹیکس ان کی پر آسائش زندگی پر معمولی بھی اثر انداز نہیں ہوسکتے، کیونکہ ان کے ٹیکس عام آدمی پر مساوی تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں مزدور کی کم از کم تنخواہ میں ایک ہزار اضافہ اس کے ساتھ مذاق لگتا ہے جبکہ سروسز کے شعبے سے متعلق لوگوں کا معاشی اور ذہنی آسودگی کا خواب اس سال بھی پورا نہیں ہو سکے گا۔

    جہاں تک کاروباری طبقے کا تعلق ہے اس کاٹیکسوں کے نظام پر بھروسہ ہی نہیں ہے اور آج بھی وہ دستاویزی معیشت سے باہر رہنا پسند کرتا ہے۔ حکومتی ایمنسٹی سکیمیں بھی اسے ٹیکس کے دائرے میں لانے پر نہیں اکسا سکتیں۔

    جب ایک بجٹ عام آدمی کو معاشی آسودگی فراھم نہیں کر سکتا تو کیا اس سے کوئی انتخابی سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتعلیمی نصاب متشدد رویوں کو جنم دینے کا سبب بنتاہے
    Next Article داعش،خلافت اور پہلا پارہ
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by