Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»علیحدگی پسندوں سے مذاکرات ۔ ۔ ۔ مالک بلوچ اور ثناءاللہ زہری حکومت کا تقابلی جائزہ
    کالم

    علیحدگی پسندوں سے مذاکرات ۔ ۔ ۔ مالک بلوچ اور ثناءاللہ زہری حکومت کا تقابلی جائزہ

    امبر علیBy امبر علیمارچ 24, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    فراریوں سے مزاکرات کے ذریعے ہتھیار ڈلوانے والے نواب ثنا ءاللہ زہری کوجب حکومت ملی تو اس نے مزاکرات بند کر کے بلوچ علیحدگی پسندوں کے سروں کی قیمت مقرر کر دی ۔

    خود ساختہ جلا وطن خان آ ف قلات میر سلمان داﺅدنے حکومت کو پیشکش کی ہے اگر وہ بامعنی مذاکرات کی خواہش مند ہے تو مشرق ِ وسطیٰ کے ممالک میں سے کسی بھی ملک کو بطور ضامن شریک کیا جائے جو مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کار کے فرائض بھی ادا کرے ۔ خان آف قلات کی یہ نئی پیشکش اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے پوری طرح سے نہ صرف آمادہ ہیں بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ بھی ہیں ،لیکن مذاکرات کی پالیسی میں وفاق اور حکومت بلوچستان کے رویہ میں گزشتہ چند ماہ سے سرد مہری دکھائی دے رہی ہے ۔ 2013کے عام انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بلوچستان کا مسئلہ پر امن طور پر حل کرنے کیلئے ناراض بلوچوں سے مذاکرات کرے گی جبکہ یہی منشور نیشنل پارٹی کا بھی تھا ، 9جون 2013کو نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے بطور وزیر اعلی منتخب ہونے کے بعد بلوچستان اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں کہا تھاکہ وہ بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ناراض بلوچوں سے مذاکرات کریں گے اور اس مقصد کیلئے وہ خود چل کر سب کے پا س جائیں گے ۔ڈاکٹر عبد مالک بلوچ نے اپنے اڑھائی سالہ دور حکومت میں اس وعدے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھرپور کاوشیں کیں ، حالانکہ ابتداءمیں انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی کیونکہ باہر بیٹھی ناراض بلوچ قیادت نے یہ کہہ کر حکومت سے مذاکرات سے انکار کردیا تھا کہ وہ صرف فوج سے ہی بات چیت کرینگے لیکن ڈاکٹر مالک بلوچ نے مذاکراتی عمل شروع کرانے کیلئے بیرونی ممالک میں مقیم مشترکہ دوستوں کی خدمات بھی حاصل کیں اور بالا آخر جولائی 2015کو پہلی مرتبہ اعلانیہ طور پر حکومت ِبلوچستان کا وفد خان آف قلات سے مذاکرات کیلئے لندن گیا جہاں بات چیت کا آغاز ہوا ، ان مذاکرات میں بھی خان آف قلات نے جہاں اس شکوے کا اظہار کیا کہ مجھے وطن چھوڑ کر باہر جا کر بلوچوں کا مقدمہ لڑنے کا مشورہ دینے والے جرگے میں شامل کئی قبائلی شخصیات نے خود حکومت سے ہاتھ ملا لیا اور وزیر بن گئے اور اب وہی لوگ مجھ سے اخباری بیانات کے ذریعے وطن واپس آنے کی اپیل کرتے ہیں ، خان آف قلات نے وفد کو مذاکرات میں واپسی کا عندیہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جس جرگے نے مجھے پاکستان چھوڑ جانے کا کہا اگر وہی جرگہ واپسی کا کہے گا تو سوچا جا سکتا ہے ۔

    نواب ثنا ءاللہ زہری کی یہ پالیسی خالصتاً ان کی اپنی سوچ ہے یاکچھ مقتدر ادارے بھی یہی چاہتے ہیں اس کا اندازہ خان آف قلات میر سلمان داﺅد کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر رد عمل دیکھنے کے بعد ہو گا

    میر سلمان داﺅد کی جانب سے دیا گیا یہ عندیہ بریک تھر و ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ یہ کوئی ایسی مشکل شرط نہیں تھی کہ جسے پورا کرنا حکومت کیلئے ناممکن ہوتا ۔ وطن واپس آکر ڈاکٹر عبد المالک بلوچ اور ان کے وفد نے اس بات کا اعلان بھی کیا کہ خان آف قلات نے جس جرگے کی شرط رکھی ہے اسے پورا کرتے ہوئے جلد ہی ایک جرگہ خان آف قلات سے مذاکرات کیلئے لندن لے کر جائیں گے ، دوسری جانب جینوا ءاور یورپ کے دیگر ممالک میں مقیم علیحدگی پسند بلوچوں کی قیادت سے بھی خفیہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا جس کا انکشاف حربیار اور براہمداغ بگٹی نے میڈیا کو دیئے گئے انٹرویوز میں بھی کیا ۔ اس ہی دوران ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی کاوشوں سے وفاقی حکومت اس بات پر آمادہ ہوئی کہ جو فراری ہتھیار ڈالیں گے ان کیلئے نہ صرف عام معافی ہو گئی بلکہ انہیں باعزت زندگی بسر کرنے اور اپنا کاروبار شروع کرانے کیلئے مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی ، اس ہی پالیسی کی بدولت تقریبا 4000ہزار فراریوں نے ہتھیار بھی ڈالے ،اس میں دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ فراریوں میں سے کسی ایک نے بھی نیشنل پارٹی کے کہنے پر ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ ان سے ہتھیار ڈالونے والوں میں نواب ثناءاللہ زہری ، نواب چنگیز مری اورمیرسرفراز بگٹی شامل تھے ۔ ان تینوں کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور یہ تینوں شخصیات مری معاہدہ کے تحت اگلے اڑھائی سال کیلئے وزیر اعلیٰ بننے کی خواہشمند تھیں۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ ایک جانب ڈاکٹر عبد المالک بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ نہ صرف مذاکرات شروع کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے بلکہ تیزی سے مذاکرات کو آگے بھی بڑھا رہے تھے ۔ان کی اسی مثبت کارکردگی کو دیکھتے ہوئے

    خان آف قلات نے جہاں اس شکوے کا اظہار کیا کہ مجھے وطن چھوڑ کر باہر جا کر بلوچوں کا مقدمہ لڑنے کا مشورہ دینے والے جرگے میں شامل کئی قبائلی شخصیات نے خود حکومت سے ہاتھ ملا لیا اور وزیر بن گئے اور اب وہی لوگ مجھ سے اخباری بیانات کے ذریعے وطن واپس آنے کی اپیل کرتے ہیں

    مسلم لیگ (ن) بلوچستان میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ اگر ڈاکٹر مالک بلوچ ناراض بلوچوں میں سے کسی ایک کو بھی راضی کر کے وطن واپس لے آئے تو شاید پھر مری معاہدے پر عملدرآمد نہ ہو سکے گا بلکہ مالک بلوچ ہی بدستور وزارت اعلیٰ پر براجمان رہیں گے۔ چنانچہ اس کارکردگی کا توڑکرنے کیلئے مذکورہ مسلم لیگی اراکین اسمبلی نے زیادہ سے زیادہ فراریوں سے ہتھیار ڈالونے کی پایسی اختیار کی جبکہ نواب ثناءاللہ زہری نے کئی مرتبہ واضح طور پر اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد نہ صرف ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی کو آگے بڑھائیں گے بلکہ اس ضمن میں ڈاکٹر مالک بلوچ کی خدمات بھی حاصل کرینگے ۔ مری معاہدے کے تحت 25دسمبر کو نواب ثناءاللہ زہری بلوچستان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے اور انہوں نے اسمبلی میں اپنے پہلے ہی خطاب میں علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کے حوالے سے ماضی کے وعدوں کے برعکس یہ اعلان کیا کہ بندوق کی زبان میں بات کرنے والوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو گی ، ان کی اس تقریر کے بعد سے تادم تحریر تین ماہ سے کسی ایک بھی فراری نے ہتھیار ڈالے اور نہ ہی حکومت بلوچستان کی جانب سے علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی ایک بھی جملہ کہاکیا گیا ۔ بلکہ 16مارچ 2015کو حکومت بلوچستان نے 99علیحدگی پسندوں کے سروں کی قیمت مقر ر کر دی ان میں باہر بیٹھی وہ علیحدگی پسند قیادت بھی شامل ہے جن سے حکومت مذاکرات کی خواہاں تھی۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا خیال ہے کہ وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ کی بطور وزیر اعلیٰ اسمبلی میں پہلی تقریر سے لے کر علیحدگی پسندوں کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کے اقدام تک یہ واضح ہو تا ہے کہ اب حکومت علیحدگی پسندوں سے بات چیت کرنے کے حق میں نہیں ہے۔نواب ثنا ءاللہ زہری کی یہ پالیسی خالصتاً ان کی اپنی سوچ ہے یاکچھ مقتدر ادارے بھی یہی چاہتے ہیں اس کا اندازہ خان آف قلات میر سلمان داﺅد کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر رد عمل دیکھنے کے بعد ہو گا ۔ البتہ بھی تک حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ۔لیکن یہ ضرور ہوا کہ خان آف قلات نے مذکورہ تجویر دے کر ایک مرتبہ پھر بال حکومت کے کوٹ میں پھینک دی ہے اگر حکومت اس کا مثبت جواب نہیں دیتی تو ذمہ دار ی خان آف قلات پر نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہو گی اور حکومتی رویہ سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ وہ بامعنی مذاکرات میں کس حد تک سنجیدہ ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعرب بہار کے پانچ سال کیا کھویا کیاپایا؟
    Next Article مقتدر قوتوں کا پتلی تماشا
    امبر علی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by