آج تک مسلم لیگ کے ضعیف بدن نے اتنی لیگوں کو جنم دیا کیا اس کا شمار ریاضی کا ایک پیچیدہ سوال ہے۔ ملک کے جمہوری مستقبل پر ایمان رکھنے والوں نے مزاحمت کی اور نئے پلیٹ فارم بنائے تو غداری اور حب الوطنی کے اصلی اور نقلی سرٹیفکیٹ چھاپنے والی فیکٹریاں کھل گئیں۔
69سالوں کے بعد بھی جمہوری سیاست،پاکستانی حقیقت میں ایک کمزور فریق ہے۔قومی زندگی کے تمام لمحوں میں اچھی بُری عدلیہ موجود رہی بھلے اس نے آئین کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہو یا پھر عبوری آئینی حکم نامے سے وفاداری نبھائی ہو۔ افسر شاہی کا سیٹل فریم بھی قائم و دائم رہا لیکن ساری آزمائشیں جمہوری سیاست کے حصہ میں آئیں۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو موت و حیات کی کشمکش کے لمحوں میں خراب ایمبولینس نصیب ہوئی تو پہلے وزیراعظم جلسہ عام میں گولی کا نشانہ بن گئے۔ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم بھی انتخابی جلسہ کے بعد شہید کردی گئیں۔ ایک وزیراعظم کو پھانسی کا پھندا چومنا پڑا تو دوسرے کو جبری جلا وطنی کا عذاب جھیلنا پڑا۔ماسوائے دو امپورٹڈ وزرائے اعظم کے تقریباً سبھی ملک میں سیاست اور اہل سیاست کے ساتھ یہی ہوا، اگراس کا عشر عشیر بھی کسی مہذب دیس میں ہوا ہوتا تو وہاں سیاست تاریخ کا کوئی متروک باب بن چکی ہوتی۔پاکستانی سماج میں سیاست مسلسل اور سخت ترین قربانی کا دوسرا نام ہے۔
سچ پوچھیں تو آج بھی ہمارے سماج کا رویہ یہ ہے کہ یہ خطابات علماءاور مذہبی رہنماﺅں کے سنتا ہے اور بات اہل اقتدار کی ہی مانتا ہے اور ووٹ دینے کی بجائے اکثر چھوٹی چھوٹی مجبوریوں کے عوض پرچی بیچ دیتا ہے۔ایسی بدحال جمہوریت میں آئین شکن،آزاد اور اہل سیاست گھبرائے ہوئے نہیں رہیں گے تو اور کیا ہوگا؟
عوامی اور حقیقی سیاست کی نفی کرکے سیاسی پتلی تماشہ سجانا اس دیس کی مقتدر قوتوں کی پرانی ریت ہے۔اس سفر میں عوامی سیاست کی بھرپور توہین بھی کی جاتی رہی۔ سیاسی انجینئرنگ کا یہ سفر1950ءکے عشرے میں اس وقت شروع ہوا جب مقتدر قوتوں نے ایک جانب تو یہ کہا کہ مسلم لیگ کی مخالفت وطن دشمنی ہوگی لہٰذا کسی بھی نئی سیاسی جماعت کی کوئی گنجائش نہیں لیکن جب ضرورت پڑی تو کئی لیگی ابن الوقتوں کو ریپبلکن پارٹی کی پوشاک پہنادی اور اقتدار بھی ادھر ادھر کردیا اس سے بھی بات نہ بنی تو مارشل لاءکا تازیانہ کھڑکا دیا گیا لیکن مادر ملت فاطمہ جناح نے سیاسی نغمے کے ساز چھیڑے تو کونسل اور کنونشن مسلم لیگ کا کھیل شروع ہوگیا۔اس وقت سے آج تک مسلم لیگ کے ضعیف بدن نے اتنی لیگوں کو جنم دیا کیا اس کا شمار ریاضی کا ایک پیچیدہ سوال ہے۔ ملک کے جمہوری مستقبل پر ایمان رکھنے والوں نے مزاحمت کی اور نئے پلیٹ فارم بنائے تو غداری اور حب الوطنی کے اصلی اور نقلی سرٹیفکیٹ چھاپنے والی فیکٹریاں کھل گئیں۔
عوام نے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے پہلے انتخابات میں اپنا فیصلہ دیا تو ریاست کا نحیف بدن نتائج ہضم نہ کرسکا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سماج کے سیاسی حقائق کو تسلیم کرلیا جاتا لیکن پھر بھی جماعت ساز اسٹیبلشمنٹ نے شوکت اسلام کے تصور کو قومی اتحاد اور بعد ازاں اسلامی جمہوری اتحاد کا روپ دے دیا۔ ایک1977ءمیں جمہوریت کو ہی کھا گیا تو دوسرے نے90ءکی دہائی میں اس کی چولیں ہی ہلا دیں۔ سیاست نے سیاست کے مقابل سیاست کی بجائے سازشیں کیں اور جمہوری سماج کا خواب گہناتا چلا گیا۔ سیاست کو شعور آیا تو2006ءمیں چارٹر آف ڈیموکریسی ہوا جس کا لمحہ معراج18 ویں آئینی ترمیم تھا۔اس عرصہ میں ہم سرکاری مسلم لیگ1985ءاور پرائیویٹ پیٹراٹ(2002ئ) کا تجربہ بھی کر چکے تھے۔سیاسی سمجھوتوں کے بے ضمیر خمیر سے بنی سیاست ناکام ہوتی رہی کئی اچھے بُرے مہرے نمودار ہوئے۔آج بھی کمالات دکھانے سے گریز نہیں کیا جارہا۔کمالات کی یہ گنجائش ہر جماعت میں پلانٹ کی جاسکتی ہے۔زندہ سماج میں سیاسی فکر اپنا پیغام مرتب کرکے عوام میں جاتی ہے اور ووٹ کی تائید سے اقتدار تک پہنچتی ہے لیکن ہمارے ہاں سیاسی پتلی تماشہ جاری و ساری ہے۔جہاں پسندیدہ مہروں کے راج کی راہیں بنائی جاتی ہیں۔ ڈریں اس وقت سے جب ساری پتلیوں میں پھر سیاسی شعور آجائے گا اور وہ نقلی تماشہ بند کرنے پر اصرار کریں گی۔
اس وقت بھی الیکشن کمیشن نے322 سیاسی جماعتوں کو رجسٹرڈ کر رکھا ہے حالانکہ سپریم کورٹ نے1988ءمیں سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کی آمرانہ روش کو آئین میں درج تنظیم سازی کے بنیادی حق کی نفی قرار دیا تھا۔ویسے تو ہمارے ہاں آدم شماری1998ءکے بعد ہوئی ہی نہیں لیکن اگر آبادی کے تخمینہ کو20 کروڑ ہی مان لیا جائے تو ہر ساڑھے چھ لاکھ آبادی کےلئے ایک سیاسی جماعت موجود ہے لیکن اصل میں صرف درجن بھر سیاسی جماعتیں ہی جمہوری اداروں میں حق نمائندگی رکھتی ہیں۔باقی سب صرف جمہوریت اور جمہوری سیاست دانوں کو ڈرانے،دھمکانے اور احتجاجی تحریکوں اور بیانات کا وزن بڑھانے کےلئے ہیں۔
سچ پوچھیں تو آج بھی ہمارے سماج کا رویہ یہ ہے کہ یہ خطابات علماءاور مذہبی رہنماﺅں کے سنتا ہے اور بات اہل اقتدار کی ہی مانتا ہے اور ووٹ دینے کی بجائے اکثر چھوٹی چھوٹی مجبوریوں کے عوض پرچی بیچ دیتا ہے۔ایسی بدحال جمہوریت میں آئین شکن،آزاد اور اہل سیاست گھبرائے ہوئے نہیں رہیں گے تو اور کیا ہوگا؟
پاکستانی سماج کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر اچھی سیاست کو موقع دینا ہے تو سیاسی جماعتیں ناگزیر ہیں۔پاکستان خوش قسمت ہے کہ یہاں دائیں،بائیں اور آئیں بائیں شائیں ہر قسم کی سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔فیصلہ یہ کرنا ہے کہ انہیں کام کرنے دیا جائے اور ان کی اہمیت اور حیثیت کا تعین عوام کا ووٹ کرے۔
ویسے تو ہمارے ہاں آدم شماری1998ءکے بعد ہوئی ہی نہیں لیکن اگر آبادی کے تخمینہ کو20 کروڑ ہی مان لیا جائے تو ہر ساڑھے چھ لاکھ آبادی کےلئے ایک سیاسی جماعت موجود ہے
آخری بات:
سیاسی جماعتوں کے متحرک جمہوری وجود کی یہ ساری وکالت اس وقت بڑی بے کار لگتی ہے جب اسلام آباد میں چار بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز،پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ،قائداعظم کے مرکزی دفاتر کی تالہ بند ہو چکی ہے۔اعلیٰ عدالتوں کا حکم ہے کہ رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمی نہیں ہوسکتی۔مہر بان کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سوچ ہے کہ قوم ساز سیاسی جماعتیں بھی آج ایک کمرشل سرگرمی ہیں۔ یہ کیسی دانش ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت،پارلیمنٹ کے گھر اسلام آباد کی منصوبہ بندی میں سیاسی جماعتوں کے دفاتر کےلئے دو گز زمین کا تصور بھی نہیں اور سیاست کو اسلام آباد سے باہر نکال دیا گیا ہے۔یہ صورتحال کسی بھی طور پاکستان کے جمہوری مستقبل سے میل نہیں کھاتی۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر پاکستانی سماج کی حتمی جمہوری منزل ہے کیا؟
ویسے تو ہمارے ہاں آدم شماری1998ءکے بعد ہوئی ہی نہیں لیکن اگر آبادی کے تخمینہ کو20 کروڑ ہی مان لیا جائے تو ہر ساڑھے چھ لاکھ آبادی کےلئے ایک سیاسی جماعت موجود ہے
