Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»کوہِ نور ہیرا ،پانچ ملک، ملکیت کے دعوے دار
    تما م آرٹیکلز

    کوہِ نور ہیرا ،پانچ ملک، ملکیت کے دعوے دار

    رافیہ ذکریہBy رافیہ ذکریہاپریل 24, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    کوہِ نور ہیرا جس تاج میں ہے اسےٹاور آف لندن میں رکھا گیا ہے جہاں پربھارتی ،پاکستانی ،بنگلہ دیشی اور جنوبی افریقی(اگراُن کے پاس ویزہ ہے تو)وہاں جا کر اپنی موجودہ بے بسی اور کمزور ی کے ساتھ گمشدہ میراث پر ماتم کر سکتے ہیں ۔

    گذشتہ سال نومبر میں ایک بھارتی گروپ نے برطانوی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ مشہورِزمانہ کوہِ نور ہیرا واپس کیا جائے جوٹاور آف لندن میں تاج میں جڑا ہوا ہے۔یہ ہیرا برطانیہ نے برصغیر میں جو لوٹ کھسوٹ کی تھی ،اُس کا حصہ تھا،اب انصاف کا تقاضا ہے کہ اُسے واپس کیا جائے۔

    جیسے ہی بھارت کی طرف سے کچھ کیا جائے تو بھلا کیسے پاکستان پیچھے رہ سکتا ہے۔ایک ماہ کے اندر ایک پاکستانی بیرسٹر نے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ پاکستان کو ہیرا واپس کیا جائے۔آخرکار یہ ہیرا برطانیہ نے لاہور سے لیا تھا اور لاہور پاکستان کا حصہ تھا۔واضح رہے کہ صرف یہی دو ممالک نہیں ہیں جو ہیرے کے دعوے دار ہیں بلکہ بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ نے بھی ہیرے کی ملکیت کا اشارہ دیا ہے ۔

    برطانوی عدالت نے انکار کیااس سے پہلے بھی وہ  باربار انکار کر چکے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون کے بھارت کے دورہ کے دوران جب ہیرے کی واپسی کی افواہیں گردش کررہی تھیں تو اُسے یہ کہنا پڑا کہ وہ ہیرا واپس نہیں کریں گے۔ایک بار پھر یہ مطالبہ شہزادہ ولیم او ر کیٹ میڈلٹن کے دورہ کی ہلچل کے دوران منظرِ عام پر آیا تھا۔

    تاہم اس وقت یہ دکھائی دیتا ہے کہ بھارتی حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ ہیرے سے متعلق اپنے مؤقف کو واضح کرے اور پوزیشن پر نظر ثانی کرے۔بھارتی وزارتِ ثقافت کی طرف سے ایک بیان آیا ہے” جیسا کہ آزادی سے پہلے یہ ہیرا ملک سے لے لیا گیا تھا ،اس لیے بھارت کے آثارِ قدیمہ کا ادارہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اس معاملے پر کچھ عملدرآمد کرسکے“

    بھارت کی اعلیٰ عدالت نے ابھی تک اُس درخواست کا فیصلہ نہیں دیا جو کہ بھارت کے انسانی حقوق کے ادارے کی طرف سے دائر کی گئی جس میں بھارتی ہائی کمیشن کو کہا گیا کہ برطانیہ سے ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کرے۔اس گروپ نے دیگر چیزوں کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا تھا جس میں ٹیپو سلطان ،بہادر شاہ ظفر ،جھانسی کی رانی ،نواب میراحمد علی باندہ اور دوسرے برصغیر کے حکمرانوں کی انگوٹھی ،تلوار اور دوسری چیزیں شامل تھیں۔

    ،قطع نظر اس کے کہ بھارتی عدالت کچھ بھی فیصلہ دے لیکن اس کا کوئی امکان نہیں لگتا کہ برطانیہ کسی بھی ملک کو کوہِ نور واپس کرے۔انگریزوں کی کمال ذہانت یہ تھی کہ اُنہوں نے اپنے جانے کے بعد اپنی نوآبادیوں کو اندرونی خلفشار کا شکار کر دیا تاکہ وہ ان کا مقابلہ نہ کرپائیں ۔کوہِ نور ہیرا بھی ایک ایسا ہی قصہ ہے۔اس طرح وہ کہہ سکتے تھے کہ کوہِ نور ہیرے اور دوسری چیزوں کی حفاظت کے لیے اُن کے پاس محفوظ جگہ ہے۔

    بھارتی اور پاکستانی،بنگلہ دیشی اور جنوبی افریقی اپنی اندرونی لڑائیوں میں بہت زیادہ مصروف تھے،وہ غیر مستحکم تھے اوریہ کیسے ممکن تھا کہ اُن کے کرپٹ حکمرانوں کی خواہشات پر اُن کی تاریخ اُن کے سپرد کردی جائے یا کم ازکم وہ قیمتی نوادرات جو اُن کے اپنے تھے۔مودی کا انڈیا ،مسلمانوں کے خزانے کو کتنی عزت دیتا؟اور بدلے میں پاکستان ہندﺅں اور بدھ مت کے قیمتی نوادرات کی حفاظت میں کس حد تک دلچسپی لیتا؟

    یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ معاملہ کیسے حل ہو گا؟کوہ نور نمائندگی کا ایک اچھا معاملہ ہے جس کا دارومدار جھوٹی گواہی اور چوری سے لے کر مرکزیت پر ہے کہ کون اس کا دعوے دار بنے گا۔

    جوہیرا کبھی بابر کا کہلاتا تھا،وہ کچھ عرصہ مغلوں کے پاس رہا،شاہجہاں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اس میں سے تاج محل کو دیکھنے کا آرزومندتھا۔جیسے ہی مغلوں کی حکومت ختم ہوئی ،کوہِ نور نادر شاہ کی لوٹ مار کے ساتھ ایران واپس چلا گیا ،آخر کار مہاراجہ رنجیت سنگھ نےامن کا ثالث بن کرافغان حکمران شاہ شجاع سے اس کا ہتھیا لیا ۔

    اگرچہ کوہِ نور مختلف قسم کی افواہوں کا شکا رتھا کہ جو مرد اس کو پہنتے ہیں ،اُن پر منحوسیت طاری ہوجاتی ہے ۔مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تعویز کے طورپر بازو میں باندھ لیا،یہاں تک کہ اس کا اقتدار زوال کا شکا رہو گیا۔کوہِ نور ہیرا لاہور سے ہوتا ہوا لندن چلا گیا اور ملکہ وکٹوریہ کی ملکیت بن گیا ،جو کہ انڈیا کی مہارانی تھی،حالانکہ اس نے کبھی انڈیا کا سفر ہی نہیں کیا تھا۔

    لوٹی ہوئی اشیا پر تصرف صرف  برطانیہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی آفسیروں نے لاکھو ں ڈالر مالیت کی اشیا پر قبضہ کیا تھا ،اس کے علاوہ ہٹلر کی فوج نے نہ صرف یہودیوں کی انفرادی اشیا بلکہ میوزیم اور آرٹ گیلریز پربھی قبضہ کر لیا تھا۔

    ٍٍاس حوالے سے بہت کوششیں شروع کی گئیں کہ یہ شناخت کیا جائے کہ ایسے اثاثے کے اصل مالک کون ہیں ؟اگر برطانوی منطق کو پیش نظر رکھیں تو جرمن بھی مالِ غنیمت قراردے کر اُنہیں اپنے پاس رکھنے پر زور دے سکتے ہیں ۔ جب ایک امیر دوسرے امیر سے مخا طب ہو تو اس میں بہر کیف پدرانہ انکسار نہیں ہو تا ، نوآبادیاتی نظام میں برتے گئے احتراز کی تشکیل نو نہیں ہو سکتی کہ مقامی باشندے حکومت نہیں کر سکتے۔(سابقہ نو آبادیاتی نظام کے مطابق مقامی باشندے مناسب احترام کرنے کے اہل تھے اور نہ ہی وہ اپنی تاریخ کو محفوظ کرنے کے خواہاں تھے)۔

    کوہِ نور کے مسئلے کا بہترین جواب خود رنجیت سنگھ نے ہی دے دیا تھا۔شاید اُس نے پگڑی کے بدلے میں مفتوح افغان بادشاہ سے ہیرا مانگا ہو۔اُ س نے کبھی اُس کو اپنے بازو میں باندھا ہو گا۔کسی ایک موقع پر اس سے ہیرے کی مالیت کے بارے میں پوچھا گیا تو بابر کے برعکس اس ہیرے کی مالیت بتائی تھی کہ اس کو بیچ کر دو دن پوری دنیا کو کھانا کھلایا جاسکتا ہے۔رنجیت سنگھ کومختلف اندازہ تھا۔اس نے خوش کلامی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دوجوڑے جوتوں کی قیمت کے برابر ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کا مطلب تھا کہ یہ ہیرا اس کا ہے جو اس کو لینے اور رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں ۔

    رنجیت سنگھ کے مطابق برطانیہ کے پاس طاقت ہے کہ وہ بغیر کسی معذرت خواہی کے کوہ نور کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں ۔کوہِ نور کو کاٹ کر تاج میں لگایا گیا ہے اور ملکہ نے اس کو حال ہی میں پہن کر اس پتھر کی منحوسیت کے مفروضے کو بھی ناکام ثابت کیا ہے۔

    کوہِ نور ہیرا جس تاج  میں ہے اسےٹاور آف لندن میں رکھا گیا ہے جہاں پربھارتی ،پاکستانی ،بنگلہ دیشی اور جنوبی افریقی(اگراُن کے پاس ویزہ ہے تو)وہاں جا کر اپنی موجودہ بے بسی اور کمزور ی کے ساتھ گمشدہ میراث پر ماتم کر سکتے ہیں ۔یہ ابھی بھی وہاں پر بڑے فخر کے ساتھ جیت کے نشان کے طورپر دکھایا جاسکتا ہے۔

    (بشکریہ ڈان ۔ترجمہ احمد اعجاز )

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعلامہ اقبا ل کے تصور اجتہاد کی اہمیت و معنویت (اقبال کے اٹھترویں برسی کے موقع پر)
    Next Article اردو ناول نگاری اور حلقہ ارباب ذوق کی تحریک
    رافیہ ذکریہ

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by