Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تراجم»واٹر پالیسی کے بھولے ہوئے پہلواقدامات
    تراجم

    واٹر پالیسی کے بھولے ہوئے پہلواقدامات

    اشفاق بخاریBy اشفاق بخاریجون 17, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان اُن ابتدائی پانچ ممالک میں شامل ہے جنہیں مکمل طو ر پر بہت زیادہ پانی کے دباﺅ کا سامنا ہے اور جنہیں پینے کے صاف پانی اور صحت وصفائی تک رسائی نہیں ہے

    پاکستان اور افغانستان کے مابین دریا کے پانی کے اشتراک پر کوئی رسمی معاہدہ نہیں ہے۔دونوں ممالک فی الحال نو دریاﺅں کے پانی میں حصہ دار ہیں جوکہ سالانہ 18.3لاکھ ایکڑ فٹ بنتا ہے،جس میں دریائے کابل کا حصہ 16.5لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔بدقسمتی سے پاکستان دریائے کابل کے پانی کو استعمال میں لانے میں ناکام ہو گیاہے۔تاہم پانی و بجلی کے ایک سینئر عہدے دار کہتے ہیں کہ دریائے کابل کے پانی کو پاکستان سوفیصد استعمال کرنے کا عزم رکھتا ہے۔بین الاقوامی کنونشن کے تحت اور کم پانی والے دریاﺅں کے کنارے آباد ملک کے طور پر ،اس کے استعمال کرنے کا حق ہے کہ دریائے کابل سے 17ملین ایکڑ فٹ پانی لیا جائے۔اب تک پاکستان انڈیا پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ بے شمار غیر قانونی ہائیڈروپاور منصوبے مغربی دریاﺅں کے اُوپر ،جو کہ مقبوضہ کشمیر میں ہیں ،تعمیر کر چکا ہے۔

    اب افغانستان اسی طرح کے الزامات کا سامنا کر سکتا ہے،اگر یہ منصوبے پاکستان پہنچنے والے دریاﺅں کے پانی کے بہاﺅ کو کم کرتے ہیں ۔ جبکہ ملک کی بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ صوبوں کے مابین لڑائی جھگڑوں میں نااہلی سے دوچار ہے،پانی کا بحران بلاروک ٹوک جاری ہے ،غیر مراعات یافتہ طبقے کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں لیا جارہا۔پاکستان اُن ابتدائی پانچ ممالک میں شامل ہے جنہیں مکمل طو ر پر بہت زیادہ پانی کے دباﺅ کا سامنا ہے اور جنہیں پینے کے صاف پانی اور صحت وصفائی تک رسائی نہیں ہے ۔پی سی آرڈبلیو آر کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ملک 2025ءمیں پانی کی قلت کے بالکل قریب ہو جائے گا۔موجودہ وقت میں یہ پانی کے دباﺅ کاشکار ملک ہے۔پاکستان نے 1990ءمیں پانی کے دباﺅ کی لائن کو چھو لیا تھا اور 2025ءمیں یہ پانی کی قلت کی لائن کو عبور کر جائے گا۔

    اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی ،تب بہت زیادہ مواقع ہیں کہ ملک کو شدید پانی کی کمی یامستقبل قریب میں خشک سالی جیسی صورتِ حال کاسامنا ہوگا۔ترقی پذیر صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ضرور ت اس امر کی ہے کہ بہترین حل کی تلاش کے لیے مختلف سطح پر تحقیق کاعمل جاری رہے ۔بدقسمتی سے سرکاری عہدے داران کہتے ہیں کہ پی سی آر ڈبلیوآر کے پاس فنڈز نہیں کہ پائیدار تحقیق کو یقینی بنایا جائے۔یہ کونسل وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کا ایک اعلی ادارہ ہے ،آبی وسائل پرتحقیق کرنا اسی کے ذمے ہے۔اب یہ سالانہ ترقیاتی پرگرام برائے پبلک سیکٹر پر انحصار سے بچنے کے لیے چاہتا ہے کہ پی سی آر ڈبلیوآر کے زیر تحت ایک انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا جائے۔کونسل کے پاس پائیدار تحقیق کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز نہیں ہیں ،اور پچاس ملین حکومت سے مانگے ہیں ۔فنڈ کا مقصد بھی زراعت کے لیے پانی کی قلت پر توجہ کو مرکوز رکھنا ہے۔

    پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے گذشتہ سال اگست میں کہاتھاکہ پاکستان اس وقت پانی کے دباﺅ پرہے اور خدشہ ہے کہ دس پندرہ سال میں پانی کی کمی کا شکار ملک بن جائے گا،اگر یہ وقت پر پانی کو ذخیرہ کرنے میں ناکام ہوتا ہے۔تب،ایک اور بیان میں وہ کہتے ہیں کہ حکومت پہلے ہی پانی کے انتظام کی پالیسی بنانے کے عمل میں ہے اوراس وقت پارلیمنٹ مختلف پہلوﺅں پر بات چیت کررہی ہے۔لیکن واضح رہے کہ پالیسی کا کوئی فالواَپ نہیں ہے۔ستمبر 2015ءمیں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پانی کے بحران سے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے پانی وبجلی کی وزارت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پانی کی پالیسی کو تین ماہ میں حتمی شکل دیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی مناسب اقدام نہ لیا گیا تو ملک تھر کی صورتِ حال جیسی خشک زمین بن جائے گا۔

    واپڈا کی جانب سے جو پانی پر قومی پالیسی بنائی گئی ،وہ پانی کے وسائل کے انتظام کے ایسے اصول ہیں جو پورے ملک کے پانی کے وسائل کا مکمل استحصال کرتے ہیں ۔اس پالیسی کے بہت سے پہلوﺅں میں سے ایک جس کے بعض حصوں کو ناپسندیدہ کہا جاسکتا ہے ،وہ یہ کہ پارلیمنٹ ایکٹ کے ذریعے پانی کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور بحالی کے لیے ہرطرح کے پانی کے استعمال کی قیمت کی وصولی کو یقینی بنایا جائے۔

    تاہم ،شہریوں کے بنیادی حقوق کے طور پر پینے کے پانی کے شعبے کی حفاظت کی جائے ۔اس مقصد کے لیے پینے کے پانی کی قومی پالیسی کو فیڈرل کیبنٹ کی طرف سے 28ستمبر 2009ءکو منظور کیا گیا تھا۔اُس پالیسی کو وزارت ماحولیات کی طرف سے یونیسف کے اشتراک سے تیار کیا گیا تھا۔مسودے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ عام لوگ کیسے اس قابل ہوں گے کہ باقاعدہ بنیادوں پر صاف پانی حاصل کر سکیں۔اور نہ ہی اس کے فالو اَپ اور عملدرآمد کے بارے زیادہ سناگیا ہے۔

    اگرچہ یہ دعویٰ ہے کہ واٹر پالیسی کا مسودہ قومی ہے اور اس پر تمام صوبے رضامند ہیں ،کچھ ماہرین محسوس کررہے ہیں کہ وفاقی حکومت اپنے مینڈیٹ کی حدود سے تجاوز کررہی ہے۔ عابد قیوم سلہری جو ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹو ہیں ،دلیل دیتے ہیں کہ پانی ابھی صوبوں کا مسئلہ ہے،اور مرکز اپنے تئیں نیشنل واٹر پالیسی مرتب نہیں کرسکتا۔وہ تجویز دیتے ہیں کہ مرکز مشترکہ مفادات کونسل کے لیے تما م وفاقی اکائیوں کو مدعو کرے کہ وہ واٹر پالیسی پر وسیع بنیادوں پر اتفاقِ رائے ہو سکے ۔

    بہ شکریہ ڈان۔ترجمہ :احمد اعجاز

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان کے لیے امریکی امداد کی سیاست
    Next Article پاکستان میں حکمرانی ریاست کی نہیں مذہب کی ہے
    اشفاق بخاری

    Related Posts

    ایران جنگ شیعہ عسکریت پسندی اور عالمی جہاد کی نئی لہر

    جون 12, 2026

    مغرب مسلم لبرلز کو کھو رہا ہے۔

    فروری 26, 2024

    انصاف اور سیاست

    جنوری 23, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by