Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تجزیہ»دنیا کیسے کام کرتی ہے؟
    تجزیہ

    دنیا کیسے کام کرتی ہے؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 8, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ” دنیا حقیقت میں کیسے کام کرتی ہے“ (2022) ایک ایسی کتاب ہے جو جدید دنیا کے ایک بنیادی تضاد کو اجاگر کرتی ہے: ہمارے پاس معلومات کی بے پناہ رسائی ہے ، لیکن پھر بھی ہمیں یہ کم ہی معلوم ہوتا ہے که چیزیں در حقیقت کیسے کام کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم ہر چیز میں ماہر نہیں ہو سکتے، لیکن ویکلا و سمل کا مؤقف ہے کہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ہمارا فرض ہے کہ ہم بنیادی حقائق سے آگاہ رہیں – یعنی وہ بڑے سوالات جو ہمارے معاشروں اور ان کے مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں۔

    ویکلا و سمل ایک چیک کینیڈین نیچرل سائنٹسٹ اور یونیورسٹی آف مینی ٹوبا ونی پگ کینیڈا میں ماحولیاتی علوم کے ممتاز پروفیسر ہیں۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کیرولینم یونیورسٹی پراگ اور پینسلوانیہ اسٹیٹ یونیورسٹی سے مکمل کی۔ ان کی تحقیق کے موضوعات میں توانائی، ماحولیات، خوراک، آبادی اور معیشت شامل ہیں۔ (مدیر)

    سال 1500 میں، ایک حقیقی نشاۃ ثانیہ کا انسان (Renaissance Man) مانا ممکن تھا۔ ایک ایسا عالم جو سب کچھ جانتا ہو۔ لیونارڈو ڈاونچی کو ہی لیجیے ، جس کا علم ہائیڈرولکس سے لے کر ہوا بازی اور انسانی جسم کی ساخت تک پھیلا ہوا تھا۔ لیکن اٹھارہویں صدی تک، ایسا کوئی فرد باقی نہ رہا۔

    جب فرانس کے عظیم ترین ذہنوں نے ایک انسائیکلو پیڈ یا مرتب کرنے کا بیڑا اٹھایا جس میں ہر ضروری علم کو شامل کیا جائے ، تو انہیں ایک ٹیم کی ضرورت پڑی ۔ آج ، دنیا کے بارے میں ہماری سمجھ اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ ہزاروں جلدوں پر مشتمل ایک انسائیکلو پیڈیا بھی مکمل انصاف نہیں کر سکتا۔ علم اس قدر مخصوص ہو چکا ہے کہ کسی ایک شعبے میں مہارت حاصل کرنے میں پوری زندگی لگ سکتی ہے۔ ایک ذراتی طبیعیات دان (Particle Physicist) کسی پیشہ ور مورخ کا ذکر ہی چھوڑیں، وائرل امیونولوجی میں شائع شدہ کسی نئی تحقیق کے پہلے صفحے کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرے گا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں دنیا کے بنیادی اصولوں کا بھی علم نہ ہو۔

    ہم ہر ایک سے نیورو بائیولوجی کی جدید ترین تحقیق کو سمجھنے کی توقع نہیں کر سکتے لیکن کم از کم یہ توقع ضرور رکھ سکتے ہیں کہ وہ یہ جانیں کہ ان کی پلیٹ میں موجود کھانے کی تیاری کیسے ہوئی۔ یہی دلیل واکلاو سمل (Vaclav Smil) اپنی کتاب How the World Really Works میں دیتے ہیں۔ سمل کے نزدیک، ایسا علم جمہوریتوں کے بہتر طور پر چلنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ہمارے پاس یہ معلومات نہیں ہوں گی ، تو ہم اپنے دور کے سب سے اہم مسائل پر درست فیصلے نہیں کر سکیں گے۔ اپنی کتاب میں ہمل سات ایسے موضوعات پر روشنی ڈالتے ہیں جنہیں ان کے مطابق ہر شخص کو جاننا چاہیے۔
    میں ماسٹر نیوک ہوں، اور اس خلاصے کے لیے ہم ان سات میں سے دو موضوعات پر توجہ مرکوز کریں گے: توانائی اور خوراک۔

    تو آئیے ، آغاز کرتے ہیں۔ بہت ابتدائی آغاز سے۔ تقریباً ساڑھے تین ارب سال قبل، جب ہماری زمین کا بیشتر حصہ ایک ابتدائی شور بے (Primordial Soup) کے سوا کچھ نہ تھا، ایک نئی قسم کی زندگی وجود میں آئی ۔ سادہ، یک خلوی جراثیم ۔ ان بیکٹیریا میں شعور تھا نہ حرکت، وہ بس زمین کے سمندروں میں بے سمت تیرتے رہتے تھے۔

    لیکن ان میں ایک چیز ضرور تھی : میٹا بولزم ، یعنی ایک توانائی کو دوسری میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ۔ یہی وہ طریقہ تھا جس کے ذریعے وہ اپنی بقا اور افزائش کے لیے ضروری غذائی اجزاء حاصل رتے تھے۔ پہلی توانائی سورج سے حاصل ہونے والی شمسی تابکاری Solar Radiation تھی۔ ان جراثیم نے اس توانائی کو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کو نئے نامیاتی مرکبات میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس عمل کے دوران، ایک ضمنی پیداوار وجود میں آئی : آکسیجن ۔

    جسے ہم فوٹو سنتھیز (Photosynthesis) کہتے ہیں، زمین کے ماحول کو بدل کر رکھ دیا۔ اس مثال کے طور پر، چند لاکھ سال قبل ایک اور بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ یہ پہلی بار تھا کہ توانائی کا ” بیرونی“ (Extrasomatic) استعمال ہوا، یعنی جسم کے اندر کے بجائے باہر توانائی کو تبدیل کیا جانے لگا۔ اس سے پہلے، تمام توانائی کی تبدیلیاں زندہ خلیوں کے اندر ہوتی تھیں، جنہیں ہم میٹا بولزم کہتے ہیں۔ خلیے غذائی اجزاء کو توانائی میں تبدیل کر کے زندہ رہتے تھے۔

    تبھی ، کچھ غیر معمولی طور پر ذہین بندروں، یعنی ہمارے آبا و اجداد، نے پودوں کے مواد کو جلا کر اس کی کیمیائی توانائی کو حرارت اور روشنی میں تبدیل کرنا سیکھ لیا۔ آگ کے ذریعے لکڑی ، کوئلے اور پیٹ جیسے نباتاتی مواد کی توانائی کو حرارت میں بدلا جا سکتا تھا۔ پہلے انسانوں نے لکڑی کا استعمال کیا ، کوئلہ بہت بعد میں آیا۔ لیکن یہی آگ ان کے لیے نا قابلِ ہضم خوراک کو قابل ہضم بنانے ، پناہ گاہوں کو گرم رکھنے اور خطرناک جانوروں کو دور رکھنے کا ذریعہ بنی۔

    یہ پہلا قدم تھا جس کے ذریعے بنی نوع انسان نے اپنے ماحول پر قابو پانے کی کوشش شروع کی۔
    تقریباً 10,000 سال پہلے جانوروں کو سدھانا (Domestication) بھی توانائی کی تبدیلیوں کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس سے پہلے ، انسان اپنے پٹھوں کی طاقت کے ذریعے توانائی کو میکانیکی توانائی میں تبدیل کر کے بوجھ اٹھاتے ، کھیت جو تے اور کنوؤں سے پانی کھینچتے تھے۔ لیکن جب انسانوں نے بیل جیسے جانوروں کو سدھایا، تو یہ کام جانوروں کے سپرد کر دیا گیا۔

    اس کے بعد، ہواؤں اور دریاؤں کی قوت سے چلنے والے بادبانوں اور پانی کے پہیوں نے مزید کام سنبھال لیا۔ پھر آیا وہ مرحلہ جس نے ہمیں جدید دور میں پہنچا دیا : معدنی ایندھن (Fossil Fuels) کا استعمال ۔ 1600 کے بعد، انسانوں نے کوئلہ جلانا شروع کیا، جو لاکھوں سال کی حرارت اور دباؤ کے نتیجے میں نباتاتی مادے کے فوسل بننے سے وجود میں آیا تھا۔ کوئلے نے ہمیں بھاپ کا انجن دیا، جو صنعتی انقلاب کی بنیاد بنا۔

    1850 کے بعد، توانائی کی تبدیلی کی تاریخ نے تیزی سے ترقی کی ، اور ہمیں نئی توانائی کے ذرائع فراہم کیے۔ خام تیل ، پانی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ٹربائن، جیو تھرمل بجلی ، اور پھر جو ہری اور شمسی توانائی۔

    بہت زیادہ توانائی کی دستیابی نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو بدل کر رکھ دیا۔ اب ہم کم کام کرتے ہیں ، بہتر کھاتے ہیں ، زیادہ سفر کرتے ہیں اور مؤثر طریقے سے بات چیت کرتے ہیں ۔

    اگر آپ جدید زندگی کے اس معجزے کو سمجھنا چاہتے ہیں ، تو آپ کو توانائی کی تبدیلیوں سے آغاز کرنا ہوگا۔ توانائی کی تبدیلی مختصراً، تمام زندگی کی بنیاد ہے۔ یہی وہ قوت تھی جس نے انسانی ارتقاء کوممکن بنایا اور ہماری نوع کو اس سیارے پر غالب کر دیا۔

    1886 میں، تھر موڈائنامکس کے بانیوں میں سے ایک، لوڈوگ بولٹرز مین Ludwing) (Boltzmann نے نتیجہ اخذ کیا کہ توانائی ہی ہر چیز کی جان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام زندگی آزاد توانائی ( Free Energy) کے لیے جدوجہد ہے، یعنی وہ توانائی جو تبدیلیوں کے لیے دستیاب ہو ۔ 1933ء میں نوبل انعام یافتہ طبیعیات دان ، ایرون شروڈنگر (Erwin Schrödinger) بھی اس بات سے متفق تھے۔

    انہوں نے لکھا کہ ہر جاندار آزاد توانائی پر پلتا ہے، اور وہ جاندار جو سب سے زیادہ مؤثر طریقے سے اس توانائی کو حاصل کرتے ہیں ، انہیں ارتقائی برتری حاصل ہوتی ہے۔

    یہاں ہم ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں : آخر توانائی ہے کیا ؟ اس لفظ کی اصل قدیم یونان سے جا وو ملتی ہے۔ انرجیا (Energeia) کا مطلب کام (Work) ہے، اور یہی اس کی سائنسی تعریف بھی ہے۔

    توانائی کام کرنے کی صلاحیت . صلاحیت ہے۔ طبیعیات میں کام” سے مراد کسی نظام کی ترتیب میں تبدیلی پیدا کرنا ہے، کسی ایسی قوت کے خلاف جو اس تبدیلی کی مزاحمت کرے۔ دوسرے الفاظ میں ، توانائی حرکت کے بارے میں ہے۔

    اسی دوران ، توانائی کو میکانی توانائی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو بھاپ کے انجن سے جڑے پسٹنوں کو حرکت دیتی ہے۔ اور یہی ہمیں دوبارہ توانائی کے بنیادی اصول کی طرف لے آتا ہے : تبدیلی ۔

    کیونکہ توانائی کو نہ تو پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی تباہ، یہ صرف اپنی شکل بدل سکتی ہے۔ یہ توانائی کے بقا کے اصول کے نام سے جانا جاتا ہے، جو تھر موڈائنامکس کا پہلا قانون ہے۔

    آپ اس عمل کو ایک کارڈ بورڈ کے ڈبے کو ایک لوڈنگ بے ریمپ سے نیچے پھیلتے ہوئے تصور کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ جب یہ ریمپ کے اوپر تھا تو اس میں ممکنہ توانائی تھی۔ لیکن ایک اچانک دھکا اسے نیچے بھیج دیتا ہے، اس کی ممکنہ توانائی کو حرکی توانائی ( کائنیٹک انرجی ) میں بدل دیتا ہے۔

    لیکن جیسے ہی ڈبہ نیچے آتا ہے، یہ سست ہو جاتا ہے۔ اس کی حرکت کی مزاحمت کے طور پر رگڑ کام کرتی ہے۔ تاہم، اس کی حرکی توانائی ضائع نہیں ہوتی ؛ یہ حرارتی توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے، جوڈ بے اور ریمپ دونوں کو گرم کرتی ہے۔ یہاں جو چیز ضائع ہوئی ہے وہ اس توانائی کی صلاحیت ہے جو مزید مفید کام انجام دے سکے۔ اب یہ ڈبے کو مزید حرکت دینے کے قابل نہیں رہی۔

    یہ مختصر طور پر ، توانائی کا فزیکل اصول ہے۔ لیکن آئیے اس تصور کو کچھ کم تجریدی (ابسٹریکٹ) بناتے ہیں۔

    ہم نے پہلے شرونگر (Schrödinger) کا حوالہ دیا کہ جو جاندار زیادہ آزاد توانائی (فری انرجی ) حاصل کر سکتے ہیں، یعنی وہ توانائی جو مفید تبدیلیوں کے لیے دستیاب ہو، وہ ارتقائی برتری حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایک بہترین وضاحت ہے کہ ہو موسیپینز (انسان ) کیسے توانائی پر قابو پاتے ہیں۔

    تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ہماری نسل نے توانائی پر قابو پانے کا سب سے اہم طریقہ کیا اپنایا۔ زراعت

    1950 سے 2019 کے درمیان ، دنیا کی آبادی 2. 5 ارب سے بڑھ کر 7.7 ارب ہو گئی ۔

    مزید لوگوں کا مطلب یہ نہیں تھا کہ زیادہ افراد بھوک کا شکار ہوئے ۔ حقیقت میں، 1950 میں غذائی قلت کے شکار افراد کا عالمی تناسب 65 % تھا، جو 2019 میں کم ہو کر صرف 9.8% رہ گیا۔

    تو یہ ڈرامائی کمی کیسے ممکن ہوئی ؟

    اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ہماری فصلیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ پیداوار دینے لگی ہیں ۔ اور یہ بہتر بیج ، جدید کھا دوں ، بہتر آبپاشی اور زراعت کی مشینی کاری کی بدولت ممکن ہوا۔ لیکن یہ سب ایک دوسرے پر منحصر عوامل ہیں ۔ –

    اصل سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ ممکن کیسے ہوا ؟
    جواب ہے: فوسل فیولز (حیاتیاتی ایندھن ) ۔
    جدید خوراک کی پیداوار ایک ہائبرڈ ( مخلوط ) عمل ہے۔
    یہ دو قسم کے توانائی کے تبدیلی کے عمل پر منحصر ہے۔
    پہلی قسم تو اتنی ہی پرانی ہے جتنی زمین پر زندگی ۔
    ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں، چاہے وہ پودے ہوں یا جانور ، وہ فوٹو سنتھیز ( روشنی کی مدد سے خوراک بنانے ) کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
    سورج کی تابکاری خوراک کی پیداوار کو ممکن بناتی ہے، جیسا کہ یہ گزشتہ 10,000 سالوں سے زرعی تہذیبوں کے آغاز سے کر رہی ہے۔
    اگر سورج نہ ہوتا تو کاشتکاری اور خوراک کی فراہمی ممکن ہی نہ ہوتی۔
    لیکن صرف سورج کی روشنی آج کی زیادہ پیداوار والی فصلوں کی وضاحت نہیں کر سکتی ۔
    یہ فوسل فیولز جیسے گیس اور تیل پر بھی انحصار کرتی ہیں۔
    مثلاً فصل کاٹنے والی مشینیں ڈیزل پر چلتی ہیں، جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔
    فصلوں کو منڈی تک پہنچانے کے لیے استعمال ہونے والے ٹرین ، ٹرک اور کشتیاں بھی فوسل فیولز پر چلتی ہیں۔

    آبپاشی کے پمپ، فصلیں خشک کرنے والی مشینیں، اور وہ کارخانے جو ٹریکٹر، ٹرک، گودام اور گرین ہاؤسز بنانے کے لیے فولاد، ربڑ ، پلاسٹک ، شیشہ اور الیکٹرانکس تیار کرتے ہیں، سب فوسل فیولز پر چلتے ہیں۔

    لیکن یہ کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔
    زیادہ پیداوار دینے و والی فصلیں، انتہائی منظم کا شتکاری کی ضرورت ہوتی ہیں۔
    یہ فصلوں کو نقصان سے بچانے کے لیے فنگسائڈ ز، انسیکٹی سائیڈز اور ہر بیسائڈ زکا تقاضا کرتی ہیں، اور ان کی نشو و نما بڑھانے کے لیے کھادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
    یہ سب کچھ ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔ مثلاً نائٹروجن کھاد کو لے لیجیے۔
    نائٹروجن کے بغیر پودوں کی زندگی ممکن نہیں۔
    یہ ہر جاندار خلیے میں ہوتا ہے،
    یہ فوٹو سنتھیسز ( روشنی سے توانائی حاصل کرنے) کے لیے ضروری کلوروفل کا حصہ ہے،
    یہ پودوں کے ڈی این اے اور آر این اے میں موجود ہوتا ہے،
    یہ ان کے امینو ایسڈ زکا بھی لازمی جزو ہے، جو پروٹین بنانے کے بنیادی اجزاء ہیں۔
    نائٹروجن ہر جگہ ہے۔
    زمین کے ماحول کا 80 % سے زیادہ نائٹروجن پر مشتمل ہے۔
    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نائٹروجن عموماً ایک ایسی غیر فعال شکل میں پایا جاتا ہے جسے پودے جذب زب نہ نہیں کر سکتے ۔

    نائٹروجن کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے ، اس کے ایٹمز کے درمیان موجود مضبوط بانڈ کو توڑنا پڑتا ہے، تا کہ وہ دیگر عناصر کے ساتھ مل کر امونیا، نائٹریٹ یا نائٹرائٹ جیسے کیمیائی مرکبات بناسکیں جو پودوں کے لیے قابل استعمال ہوں ۔

    یہ عمل قدرتی طور پر آسمانی بجلی جیسے عوامل کے ذریعے ہوتا ہے، لیکن بجلی کو زراعت کے لیے قابو پانا ممکن نہیں۔

    البتہ، نائٹروجن فکسنگ پودے جیسے الفالفا ( Alfalfa) اگا کر یہ ممکن بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کے جڑوں میں ایسے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو نائٹروجن کو امونیا میں تبدیل کر کے مٹی میں شامل کرتے ہیں ۔ -لیکن یہ ایک ست عمل ہے۔

    آپ کو گندم اگانے کے بجائے الفالفا اگانے کے لیے وقت نکالنا پڑے گا۔
    20 ویں صدی کے آغاز میں، جرمن سائنسدانوں نے مصنوعی نائٹروجن کھاد بنانے کا طریقہ دریافت کر لیا۔

    سادہ الفاظ میں ، انھوں نے قدرتی گیس کو ہوا میں موجود نائٹروجن کے ساتھ جوڑ کر امونیا تیار کرنا سیکھ لیا۔

    یوں انسانیت کے لیے کھاد کی کوئی کمی نہ رہی۔
    اس کا نتیجہ کیا نکلا؟
    فصلوں کی پیداوار بے حد بڑھ گئی ،
    اور ہم اس مقام پر پہنچ گئے کہ 8 ارب انسانوں کے قریب آبادی کو خوراک فراہم کر سکتے ہیں ۔
    لیکن اس کامیابی کی قیمت یہ رہی کہ ہم فوسل فیولز پر بے حد انحصار کرنے لگے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکائنات : ایک حیرت کدہ
    Next Article فلسطین پر مسلط سو سالہ جنگ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    وارڈ نمبر 6: ایک نفسیاتی اور سیاسی تمثیل

    اکتوبر 13, 2026

    گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن میں دوسری نسل بطور امیدوار اور منتخب ممبران

    ستمبر 9, 2026

    وارث علوی کا نئے نقاد کے نام نواں خط

    مئی 25, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by