تاریخ کی کیا ستم ظریفی ہے کہ جس کے سبب سارا محشر برپا ہوا، وہ ہی تائب ہو گیا۔ افغان۔سوویت جنگ نے دینا بدلی ہو یا نہیں، اس نے اس خطے اور پاکستان اور افغانستان کو مکمل بدل دیا۔ سیاست کی اپنی لاجک اور سائنس ہے، اور کب کون کس کا حریف اور کب حلیف، اسے سمجھنے کے لیے مفادات کی حرکیات سمجھنا پڑتی ہیں۔ اب یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں لگتی کہ روس طالبان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ لیکن کیا یہ طالبان انہی مجاہدین سے نسبت نہیں جوڑتے، جنہوں نے سوویت یونین کو توڑنے کا سارا کریڈٹ لیا تھا؟ خیر یہ کریڈٹ تو پاکستان نے بھی لیا تھا اور اس کے نتائج آج تک بھگت رہا ہے۔ امریکہ کا ذکر کیا کرنا ، کہ وہ تو دنیا کا سب سے زیادہ عملیت پسند ملک ہے، اس کے ھار اور جیت کے اپنے معیارہیں، اس نے افغانستان سے نکلنے سے پہلے طالبان سے معاہدہ کیا جو ان کو باقاعدہ تسلیم کرنے والی بات ہی تھی۔
اگرچہ روس کی طرف سے ایسے اشارے کافی عرصے سے مل رہے تھے کہ وہ افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے جا رہا ہے، لیکن اسرایئل اور ایران کی جنگ کے بعد اس فیصلے کا اعلان اس کی بےچینی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کس طرح جنوب مغربی ایشیا کی سیاست میں اپنی اہمیت کھو رہا ہے۔ شام میں اسد حکومت الٹی گئی، فلسطین میں قیامت برپا ہوئی، اسرائیل اور امریکہ نے مل کر نے اس کے سب سے بڑے اتحادی ایران پردھاوا بولا، لیکن ماسکو بڑھکیں مارنے کے سوا کچھ نہ کر سکا۔ صدر ٹرمپ نے روس کو یوکرائن پلٹ میں رکھ کر پیش کیا، لیکن وہاں بھی وہ لعیت ولعل سے کام لے رہا ہے اور سیزفائر کے معاملے کو کھنچے جا رہا ہے اور صدر ٹرمپ کے صبر کو امتحان لے رہا ہے، جو دینا کے تنازعات کو ختم کروا کے امن کا نوبل انعام اپنے نام کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ اس کے بوبل انعام کی خواہش دینا کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ خصوصا غزہ کے فلسطنیوں کو، جو اسرائیل کی وحشت کا شکار ہیں اور دینا کے ضمیر جاگنے کے منتظر ہیں۔
اصل بات کی طرف پلٹے ہیں کہ روس کو طالبان کو تسلیم کرنے سے کیا فائدہ ہو گا؟ وہ طالبان جن سے اس کا اتحادی ایران شدید ناراض ہے۔
یہ قدم ایران کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو خاص طور پر حیران کن محسوس ہوتا ہے۔ تہران کی طالبان سے بڑھتی ہوئی ناراضی واضح ہوتی جا رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل کی جارحیت پر طالبان کے مدھم ردعمل، یا ممکنہ طور پر شام کی ابھرتی ہوئی قیادت کے ساتھ ان کے قربت کے تاثر نے ایران کو بے چین کر دیا ہے۔ خاص طور پر عبوری صدر احمد الشراع، جنہوں نے مبینہ طور پر ٹرمپ سے روابط استوار کیے اور اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا عندیہ دیا، نے مبصرین کو حیران کر دیا۔ طالبان اور شام کے نئے حکمرانوں میں کچھ مشترکہ خصوصیات پائی جاتی ہیں: عملی سفارت کاری، نظریاتی ابہام، اور بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اپنے لیے نئی جگہ بنانے کی خواہش۔
ایران کی تشویش میں مزید اضافہ ان ایران مخالف گروہوں کی موجودگی ہے جو افغان سرزمین سے سرگرم ہیں، خاص طور پر “جیش العدل” جو ایران اور پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ اپنا اثر رکھتا ہے۔
دوسری طرف، طالبان شام کی نئی سیاسی اشرافیہ کی طرح بتدریج زیادہ عملی سوچ اپناتے جا رہے ہیں۔ وہ چین، روس، امریکہ اور بھارت جیسے تمام اہم علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ روابط میں مصروف ہیں۔ ان میں سے چین کا مفاد سب سے زیادہ ہے۔ افغانستان کا ہمسایہ ہونے کے ناطے، بیجنگ اچھی طرح جانتا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام اس کے اپنے علاقوں میں سرایت کر سکتا ہے۔ اسی لیے چین نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات تیز کر دیے ہیں تاکہ دہشتگردی کو روکنے اور تنازعات سے بچاؤ کو ممکن بنایا جا سکے۔
تاہم، دہشتگردی اب بھی قابو سے باہر ہے۔ افغان سرزمین اب بھی پاکستان پر حملوں کے لیے ایک لانچ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ گروہ جنہیں کبھی “اچھے طالبان” یا پاکستانی اتحادی سمجھا جاتا تھا، اب ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا چکے ہیں۔
میر علی میں حالیہ خودکش حملہ، جس کی ذمہ داری “اسود الحرب” نامی گروہ نے قبول کی — جو حافظ گل بہادر نیٹ ورک سے وابستہ ہے — اسی تبدیلی کی ایک واضح مثال ہے۔ لشکرِ اسلام، تحریکِ انقلابِ اسلامی اور اتحاد المجاہدین پاکستان جیسے گروہوں کا اتحاد شمالی و جنوبی وزیرستان کے ساتھ ساتھ لکی مروت، ٹانک اور کلاچی جیسے شہری علاقوں میں حملے بڑھا رہا ہے۔ دوسری طرف، تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے پولیس اور حکومتی اہلکاروں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنا لی ہے۔
اگرچہ طالبان کی سفارتی کوششیں اور ان کی عملی سیاست HTS سے مشابہت رکھتی ہے،لیکن اس کے باوجود ایک واضح فرق موجود ہے: HTS کے برعکس، طالبان نے ان جنگجو گروہوں سے لاتعلقی اختیار نہیں کی جنہوں نے ماضی میں نیٹو افواج کے خلاف ان کے ساتھ مل کر لڑائی کی تھی۔ اس کے بجائے، طالبان ان گروہوں کو بظاہر منظم کر رہے ہیں اور انہیں پاکستان کے خلاف مخصوص مواقع پر استعمال کر رہے ہیں۔ شاید طالبان قیادت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پراکسی عناصر، جن کا انکار ممکن ہو، حریفوں پر دباؤ ڈالنے کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر اب بھی کارآمد ہیں۔
پاکستان اور ایران، دیگر تمام ممالک سے بڑھ کر، ان خطرات کو سمجھتے ہیں جو پراکسی نیٹ ورکس کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس ایک حد تک تو ریاستی مقاصد کے لیے کارآمد ہوتے ہیں، لیکن اس کے بعد یہ خودمختار ایجنڈے اپنا لیتے ہیں۔
بعض افغان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا علاقائی سیاست میں بڑھتا ہوا اعتماد اور وسطی ایشیا میں دلچسپی طالبان کو بے چین کر رہی ہے۔ طالبان اب کسی کے آلہ کار کے طور پر دیکھے جانے کا تاثر ختم کرنا چاہتے ہیں، اور اس مقصد کے لئے خود پراکسیز استمعال کر رہے ہیں۔
روس کی جانب سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی وجوہات پہلے سے معلوم ہیں: حقیقت پسندی پر مبنی سفارتی حکمت عملی اور اسٹریٹجک موقع پرستی۔ روس کا مقصد مغربی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا، اپنے اردگرد کے علاقوں کو محفوظ بنانا، اور توانائی، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں اقتصادی تعاون کو وسعت دینا ہے۔
لیکن ایک اہم سوال باقی رہتا ہے: کیا روس کو واقعی طالبان پر دہشتگردی یا ہمسایہ ممالک کے خلاف پراکسی استعمال کے معاملے پر کوئی مؤثر اثر حاصل ہے؟ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس سے چین اور پاکستان بھی نمٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس دوران، طالبان قیادت عالمی توقعات اور مقامی مفادات کے درمیان ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

