Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»جب بات احمدی برادری کی ہو تو خاموشی کیوں طاری ہوجاتی ہے؟
    رواں تبصرے

    جب بات احمدی برادری کی ہو تو خاموشی کیوں طاری ہوجاتی ہے؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتستمبر 24, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read11 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    میڈیا اطلاعات کے مطابق چند دن قبل اٹک میں ایک سکول نے مذہبی بنیادوں پر چار احمدی بچوں کا داخلہ ختم کرکے انہیں ادارے سے نکال دیا۔ جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس میں واضح طور پہ باقاعدہ ان کے مذہب کو وجہ بتایا گیا۔

    احمدی برادری کے حوالے سے پاکستان میں وقتا فوقتا خبریں آتی رہتی ہیں جن میں اسی قسم کے مسائل نمایاں ہوتے ہیں کہ ان کے کسی فرد کو نشانہ بنایا گیا ہوتا ہے۔ ایسی خبریں اب معمول بن گئی ہیں اور ریاست و سماج، دونوں کی طرف سے ان خبروں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلکہ اب لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس طرح کے واقعات کا دفاع بھی کرتی پائی جاتی ہے۔ سول سائٹی کے کچھ افراد اور ادارے اس پر شور مچاتے ہیں، مگر ایسے مسائل رکتے نہیں ہیں اور چند دن بعد کوئی نیا واقعہ رونما ہوجاتا ہے۔

    احمدی برادری کا مسئلہ اس حد تک حساسیت کا حامل ہوچکا ہے کہ لوگ اس طبقے کے شہری حقوق بارے بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کے بنیادی آئینی حقوق ہیں۔ اقلیتی حلقے میں سے یہ وہ طبقہ ہے جس کے خلاف ملک کے ہر بڑے مسلک میں باقاعدہ الگ سے تحریکیں اور جماعتیں موجود ہیں جو اسی مدعے پر کام کرتی ہیں۔ 2017ء کے بعد سے احمدیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوئی ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس ماحول کی تشکیل میں حالیہ برسوں میں سیاسی جماعتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ سماجی نفسیات کو اس حد تک ان کے خلاف بنا دیا گیا ہے کہ اب ایسے واقعات کے بعد بھی خود ریاست ان کے شہری حقوق پر ٹھوس پیغام دینے اور ان کے تحفظ کے لیے کوئی قدم اٹھانے سے کتراتی ہے۔ لیکن کیا یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ان مسائل پر خاموشی مذہب کے نام پر خوف کی فضا کو مزید گھٹن زدہ بناتی جائے گی۔

    ریاست کو ادراک کرنا ہوگا کہ مذہبی بنیادوں پر بڑھتی یہ گھٹن کسی کے لیے بھی سودمند نہیں ہوگی۔ احمدیوں کے شہری و مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے ان تحریکوں اور جماعتوں کے کردار پر نظرثانی کرنی ہوگی جو اس مسئلے کو ہوا دیتی ہیں اور لوگوں کے جذبات کو اس برادری کے خلاف ابھارتی ہیں۔ اس کے لیے علما سے بھی مطالبہ کیا جائے کہ وہ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کریں اور انہیں تعلیم دیں کہ جو حقوق انہیں آئین میں دیے گئے ان سے کسی طور ان کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔

    اگر تعلیمی اداے ہی اقلیتی برادریوں کے لیے ایسا منفی رویہ اختیار کریں گے تو پھر سماج میں کس ادارے سے توقعات رہ جاتی ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سماج کے ہوش مند عناصر اور ریاست کی جانب سے کھل کر اس مسئلے پر بات کی جائے اور اس طبقے کے حق کے لیے آواز اٹھائی جائے۔

    احمدی اقلیتیں انسانی حقوق شہریت
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleامن میلہ: پاکستان کا پہلا ’امن انعام‘ انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کے نام
    Next Article برطانیہ کی تعلیمی ثقافت: استفادے کی جہات
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by