Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»ٹی ٹی پی کے حوالے سے ابہام کب تک؟
    رواں تبصرے

    ٹی ٹی پی کے حوالے سے ابہام کب تک؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتستمبر 16, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دو دن قبل سوات میں ٹی ٹی پی کی جانب سے ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے کے نتیجے میں ’امن لشکر‘ کے سابق سربراہ اور علاقے میں طالبان کے خلاف مزاحمت کی شہرت رکھنے والے ادریس خان کی شہادت ایک ایسا غیرمعمولی  واقعہ ہے جس نے ان شکوک پر باقاعدہ مہر ثبت کردی ہے کہ طالبان ان علاقوں میں کافی منظم ہوچکے ہیں، جوکہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کے لیے سنجیدہ خطرہ ہے۔

    پچھلے ایک ماہ سے قبائلی علاقوں میں مقامی لوگ وقتا فوقتا احتجاج کر رہے تھے اور تشویش کا اظہار کر رہے تھے کہ ٹی ٹی پی کے اہلکار واپس آرہے ہیں اور انہوں نے چھوٹے پیمانے پر مختلف کاروائیاں بھی شروع کی ہیں جن میں بھتہ وصول کرنا اور ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔ اسی طرح کی بازگشت قومی اسممبلی اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں بھی سنائی دی گئی۔ تاہم حکومت اور اداروں کی جانب سے اس دعوے کو مسترد کیا جاتا رہا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ٹی ٹی پی ان علاقوں میں منظم نہیں ہورہی، نہ اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ بلکہ اگست کے وسط میں ایسی اطلاعات کو ’مبالغہ آمیز اور گمراہ کن‘ بھی کہا گیا۔ مگر حالیہ واقعہ اور ٹی ٹی پی کا اس کی ذمہ داری قبول کرنا بتاتا ہے کہ یہ علاقے جو آپریشنز اور بہت سی قربانیوں کے بعد پرامن بنائے گئے تھے، ایک بار پھر حقیقت میں بدامنی اور دہشت گردی کے دہانے پر آگئے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل بھی شمالی وزیرستان میں فائرنگ کے تبادلے کا ایک واقعہ رونما ہوا جس میں پانچ سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

    بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور ٹی ٹی پی کے مابین مئی کے مہینے سے جنگ بندی کا جو سلسہ چل رہا تھا وہ اب عملی طور پہ ختم ہوچکا ہے اور اس نوع کے مزید حملے ہوسکتے ہیں۔ حکومت جنگ بندی کو جاری رکھنا چاہتی ہے، بظاہر یہی وجہ ہے کہ وہ مقامی لوگوں کے احتجاج کے باوجود ٹی ٹی پی کی واپسی کی اطلاعات کو مسترد کرتی رہی، لیکن ٹی ٹی پی کچھ وقت سے بھتہ وصولی اور ٹارگٹ گلنگ کی شکل میں مختلف کاروائیوں کے ذریعے اپنی فعالیت اور موجودگی کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اور اب یہ معاملہ مخفی نہیں رہا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اب تک ابہام باقی ہے اور مقامی لوگ اس صورتحال سے پریشان ہیں کیونکہ وہ پہلے بھی دہشت گردی کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ابہام کو ختم کرے اور حالات کے خراب ہونے کا مزید انتظار نہ کیا جائے۔ طالبان کے اثرات صرف انہیں علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے۔

    امن مذاکرات تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی سوات طالبان قبائلی علاقہ جات
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleراولپنڈی: تاریخ، تہذیب اور اساطیر
    Next Article عصرِ حاضر میں دینی وابستگی: مسئلہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by